الیکشن میں پیپلزپارٹی کو سندھ تک محدود رکھنے کی سازش؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ سندھ میں بھی ایک بڑا سیاسی اتحاد بننے جارہا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کیلئے وہاں بھی مشکلات ہوسکتی ہیں، جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئےسینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں کوئی نئی ڈش متعارف کروائی جارہی ہے، ن لیگ کے اہم لوگوں نے اسحاق ڈار سے انہیں نگراں وزیراعظم بنانے کے بارے میں پوچھا ہے.اسحاق ڈار سے پہلے خواجہ آصف کو نگراں وزیراعظم بننے کی پیشکش کی گئی تھی مگر انہوں نے منع کردیا، حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت کے اہم لیڈر نے اسحاق ڈار کو یقین دلایا کہ آپ نگراں وزیراعظم ہوئے تو ہم حمایت کریں گے مگر پیپلز پارٹی نے اس پر پھڈا ڈال دیا۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ ن لیگ چاہتی ہے نگراں وزیراعظم ایسا شخص بنے جو اسی سال الیکشن کروادے، پیپلز پارٹی کے ساتھ جو ہاتھ ہوا ہے وہ کسی کو بتا نہیں رہی ہے.وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کے ساتھیوں نے الیکشن کے قریب پیپلز پارٹی میں شمولیت کا وعدہ کیا تھا، اب عبدالقدوس بزنجو نے آصف زرداری سے پیپلز پارٹی میں شمولیت سے معذرت کرلی ہے، جنوبی پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کے کچھ لوگ پیپلز پارٹی میں آنا چاہتے تھے لیکن وہ سب استحکام پاکستان پارٹی میں چلے گئےخیبرپختونخوا میں تین ایم پی ایز پیپلز پارٹی میں آرہے تھے لیکن اچانک وہ پرویز خٹک کے ساتھ چلے گئے، پیپلز پارٹی کو لگتا ہے اسے ایک دفعہ پھر سندھ تک محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سندھ میں بھی ایک بڑا سیاسی اتحاد بننے جارہا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کیلئے وہاں بھی مشکلات ہوسکتی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خبریں آئی تھیں کہ سندھ میں اینٹی پیپلز پارٹی سیاستدانوں کا اجلاس عاشورہ محرم کے بعد طلب کیا گیا ہے۔مشاورتی اجلاس میں جے یو آئی، ن لیگ جی ڈی اے کے رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے، سندھ میں ہم خیال سیاستدانوں اور جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم بنانے پر غور ہو گا۔جی ڈی اے کے بجائے نئے الائنس کی تشکیل کی تجویز بھی زیر غور ہے، متوقع طور پر سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں، سیاستدانوں کا اجلاس 4اگست کو ہو گا۔یاد رہے کہ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی گزشتہ دنوں جی ڈی اے قیادت سے ملاقات کی تھی۔ دوسری جانب سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں نے جو سیاسی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے مبصرین کے نزدیک یہ کوئی مؤثر اتحاد نہیں ہوگا بلکہ یہ اتحاد صرف آئندہ کے حکومتی سیٹ اپ میں اپنا حصہ لینے کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔
دوسری جانب شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کی پارٹی سے اتنی تکلیف عمران خان کو نہیں جتنی فضل الرحمٰن کو ہےسینئر صحافی سلیم صافی نے مزید کہا کہ نگراں وزیراعظم صرف نواز شریف کی مرضی سے نہیں بنے گا، نگراں وزیراعظم کے معاملہ پر آصف زرداری سمیت دیگر اتحادیوں کی رائے بھی چلے گی، غیرمتنازع الیکشن کیلئے ضروری ہے نگراں وزیراعظم کا جھکاؤ کسی سیاسی جماعت کی طرف نہیں ہو، نگراں وزیراعظم کیلئے اسحاق ڈار کا نام ابھی فائنل نہیں ہوا ہے.نگراں وزیراعظم کیلئے کئی دیگر نام بھی چل رہے ہیں، روایت کے مطابق شاید ان ناموں میں سے کوئی نگراں وزیراعظم نہ بن سکے۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ن لیگ اپنی سہولت کے مطابق نگراں سیٹ اپ بنانا چاہتی ہے، اگلے الیکشن میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی حریف ہوں گی،
ریحام خان کے جوتوں کے سوشل میڈیا پر چرچے کیوں؟
مولانا فضل الرحمٰن کی بھی ن لیگ کے ساتھ زیادہ قربت ہوگئی ہے۔
