خواجہ آصف نے عمرانڈوز کی چیخیں کیسے نکلوائیں؟

وزیر دفاع خواجہ آصف ایک بار پھر سوشل میڈیا پر عمرانڈوز کے نشانے پر آ چکے ہیں۔ خواجہ کی جانب سے پارلیمنٹ کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کو ’اخلاق باختہ ‘ کہنے پر خواتین ان کے خلاف سوشل میڈیا کے میدان پر اتر آئیں اور ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خواجہ آصف سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر دفاع کی تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی خواتین نے شور مچانا شروع کیا تو خواجہ آصف شدید غصے میں آ گئے اور کہا کہ ’جناب اسپیکر! ’ اخلاق باختہ عورتیں ہمیں اب عفت و عصمت پر لیکچر نہ دیں۔‘
خواجہ آصف نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ یہ باقیات رہ گئیں ہیں اس شخص کی جس نے چیف آف آرمی سٹاف کو اپنا ’باپ‘ کہا تھا۔ انہوں پی ٹی آئی کی خواتین کا نام لیے بغیر پھر دہرایا کہ یہ اس شخص کی باقیات اور کھنڈرات ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ جناب اسپیکر! یہ کھنڈرات ہیں ان کے ، یہ ان کا کوڑا کرکٹ باقی رہ گیا ہے۔اس پر اسپیکر نے کہا کہ وہ یہ کوڑا کرکٹ والے لفظ حذف کرتے ہیں لیکن خواجہ آصف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پھر کہا کہ اس ’کوڑا کرکٹ‘ کو صاف کیا جانا ضروری ہے۔خواجہ آصف نے سابق وزیراعظم عمران خان پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کے ’جس شخص کا دفاع خواتین کریں اس شخص کی جرات و بہادری کیا ہوگی۔‘سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین خواجہ آصف کے ان ریمارکس کی ویڈیو شیئر کر رہے ہیں جس پر خواتین شدید غصے کا اظہار کر رہی ہیں جبکہ دوسری طرف لیگی کارکنان خواجہ آصف کے خطاب پر ان کہ ستائش کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف کے ان ریمارکس پر ایک خاتون صارف ابصا کومل لکھتی ہیں، یہ پہلی بار نہیں ہے!کہ خواجہ آصف نے خواتین سیاستدانوں کے بارے میں تضحیک آمیز ریمارکس دیے ہیں وہ بھی ایوان میں۔خاتون صارف نے مزید لکھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران خواجہ آصف نے کہا ‘یہ اخلاق باختہ خواتین ہمیں لیکچر نہیں دے سکتیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، کہ ایک شخص جس کو اپنے دفاع کے لیے خواتین کی ضرورت ہے، یہ خواتین اس کی بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔’وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کا حوالہ دے رہے تھے۔ڈاکٹر زرقا نے پی ٹی آئی کی طرف سے ٹھیک ہی کہا کہ دہائیوں کا سیاسی تجربہ رکھنے والے شخص سے ایسی زبان سن کر بہت دکھ اور صدمہ ہوا۔خواجہ آصف کے ریمارکس پر پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ پر کہا گیا کہ ’ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خواجہ آصف اور پاکستان مسلم لیگ ن نے خواتین کے خلاف ایسی توہین آمیز، تضحیک آمیز اور جنس پرست زبان استعمال کی ہو۔یہ انتہائی شرمناک ہے کہ وزیر دفاع خواتین کے لیے اس طرح کی توہین آمیز زبان کا سہارا لیتے ہوئےانہیں زچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں
ایک خاتون صارف مُبینہ خان نے لکھا کہ ’ انتہائی افسوسناک انتہائی قابل مذمت انتہائی تکلیف دہ انتہائی غلط بیان دیا ہے، خواجہ آصف نے استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ۔ انہوں نے لکھا کہ یہ کسی بھی مادر وطن پاکستان کے محترم نمائندے کے لیے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غیر مناسب بیان ہے’۔وزیر دفاع خواجہ آصف کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پارلیمنٹ میں بھی خواجہ آصف کے نازیبا الفاظ پر پی ٹی آئی کی خواتین سینیٹرز نے احتجاج کیا جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر دفاع کے الفاظ کو اسمبلی کی کارروائی سے حذف کرنے کا اعلان کیا۔خواجہ آصف کے خطاب کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مقدس فاروق اعوان لکھتی ہیں کہ ’یہ بیان وہ شخص دے رہا ہے جس کی اپنی جماعت کی صدارت خاتون کرتی ہیں۔ خواجہ صاحب سیاسی خواتین کی بے عزتی کرنا آپ اپنا مشغلہ کیوں سمجھتے ہیں؟‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’خواتین کو کمزور سمجھنا چھوڑ دیں اور اپنا بیان واپس لیں۔
طارق لودھی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں خواجہ صاحب، آخرت میں بھی آپ کو ماں کے نام سے اٹھایا جائے گا اور ماں کے پیروں کے ہی تلے جنت ہے۔‘انہوں نے وزیر دفاع سے درخواست کی کہ وہ خواتین کے خلاف کی گئی اپنی تقریر پر معذرت کریں۔خواجہ آصف کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نوید قمر اور شیری رحمان کو بھی بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔فخر الرحمان نے ان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پی پی پی کے رہنماؤں نے خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کرنے کی زحمت بھی نہ کی۔ایک اور صارف نے لکھا کہ ’کہنے کو 50 سال سے زیادہ سیاست اور پارلیمنٹ کے بار بار ممبر رہے ہیں مگر اسی پارلیمنٹ میں موجود خواتین کی عزت کرنا کبھی نہ آئی۔خیال رہے ماضی میں بھی خواجہ آصف اپنے ایسے ہی بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں اور اپنے ایک ایسے ہی بیان میں انہوں نے پی ٹی آئی کی سابق رہنما
زیبا بختیار کی دونوں شادیاں ناکام کیوں ہوئیں؟
شیریں مزاری کے لیے بھی نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے۔
