عمران کی ہدایت کے برعکس KP کی جہازی سائز کابینہ کا اعلان

عمران خان کے نومنتخب اوپنر بیٹسمین، سہیل آفریدی نے اپنے کپتان کی ہدایات سے انحراف کرتے ہوئے حکم عدولی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مختصر صوبائی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود، سہیل آفریدی نے نہ صرف 13 رکنی ’’جہازی‘‘ کابینہ تشکیل دے دی بلکہ بیرسٹر سیف جیسے عمران خان کے قریبی ساتھیوں کو باہر نکال کر بانی پی ٹی آئی کی بیڈ بک میں شامل اراکین کو کابینہ کا حصہ بنا دیا۔ جس کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی تشکیل کردہ کابینہ اصل میں کس کا انتخاب ہے؟ پرانی شراب نئی بوتل میں ڈالنے کا مشورہ کس نے دیا؟ عمران خان کی ہدایات کے برعکس سامنے آنے والی کابینہ کا مستقبل کیا ہے؟
پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دو ہفتے کی تاخیر کے بعد سامنے آنے والی خیبرپختونخوا کی 13 رکنی کابینہ کی تشکیل میں عمران خان کی واضح ہدایات کو نظرانداز کیا گیا ہے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان نے صوبائی کابینہ کے ارکان کی تعداد 5 سے 8 رکھنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ کابینہ سنگل ڈیجٹ سے زیادہ نہ ہو، تاہم کابینہ کی تعداد 13 رکھی گئی ہے اسی طرح عمران خان نے بیرسٹر سیف کو کابینہ کا حصہ بنانے اورپارٹی کے بعض سینئر اراکین کو کابینہ میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ خان، شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی اور سابق صوبائی وزیر شکیل خان کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کا واضح حکم دیا تھا لیکن سہیل آفریدی نے عمران خان کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان اراکین کو نہ صرف اپنی کابینہ میں شامل کر لیا ہے بلکہ انھیں اہم قلمدان بھی سونپ دئیے ہیں۔ تاہم سہیل آفریدی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ بانی چئیرمین نے صرف کابینہ مختصر رکھنے کا پیغام بھجوایا تھا جبکہ کابینہ میں کسی کو شامل کرنے یا شامل نہ کرنے بارے کوئی ہدایات جاری نہیں کی تھیں تاہم کابینہ میں کسی بھی وقت ردوبدل ہوسکتا ہے عمران خان جس کو چاہیں کابینہ میں شامل کرسکتے ہیں اور اگر کسی کو نکالنا چاہیں تو کسی بھی وزیر کو فارغ کرسکتے ہیں ۔
خیال رہے کہ نومنتخب وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سامنے آنے والی 13 رکنی کابینہ میں دس صوبائی وزرا دو مشیر جبکہ ایک معاون خصوصی شامل ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کابینہ میں شامل زیادہ وزراء سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ساتھ کابینہ میں رہ چکے ہیں۔ سہیل آفریدی کے مطابق فی الوقت مختصر کابینہ تشکیل دی گئی ہے مگر عمران خان سے ملاقات کے بعد مزید اراکین کابینہ میں شامل کیے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا کابینہ کے اراکین میں مینا خان آفریدی کا نام پھر سے شامل کیا گیا ہے جو سابق صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم رہ چکے ہیں جبکہ وزیراعلی سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔صوبائی وزراء میں سابق وزیر بلدیات ارشد ایوب ، سابق وزیر برائے ہاوسنگ ڈاکٹر امجد علی، سابق وزیر قانون آفتاب عالم، سابق وزیر قانون فضل شکور، خلیق الرحمن، ریاض خان، فخر جہاں، عاقب اللہ اور فیصل خان شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مشیروں میں مزمل اسلم سابق مشیر خزانہ اور تاج محمد کا نام شامل ہے جبکہ کابینہ میں پہلی بار شفیع جان کو شامل کیا گیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا کی گزشتہ دو حکومتوں میں کابینہ کا حصہ رہنے والے سابق مشیر بیرسٹر سیف کا نام نئے کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بیرسٹر سیف نہ صرف حکومت کی ترجمانی کرتے تھے بلکہ انہیں بانی چئیرمین عمران خان سے ملاقات کرنے اور پیغام کی رسانی کے لئے اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے تاہم اس بار حکومت کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ بیرسٹر سیف سابق وزیراعلی محمود خان کے ساتھ بھی مشیر اطلاعات رہ چکے ہیں جبکہ نو مئی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بیرسٹر سیف کو کابینہ میں شامل نہ کرکے ورکرز کو پیغام دیا کہ وہ سابق وزیراعلیٰ سے مختلف ہیں اس لئے وہ کسی بھی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کو اپنی کابینہ میں قبول نہیں کرینگے ان کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت سہیل آفریدی کے سامنے گورننس کے ساتھ عمران خان کی رہائی کا اہم ٹاسک موجود ہے۔ اسی لئے سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ میں کچھ پرانے چہرے بھی شامل کئے ہیں کیونکہ وہ نئی ٹیم کے ساتھ کسی بھی قیمت پر رسک نہیں لینا چاہتے تاہم ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا کی نئی کابینہ سے بھی کسی خیر یا کارکردگی کی کوئی توقع نہیں ہے کیونکہ کابینہ میں تقریباً تمام چہرے پرانے ہیں ان میں کوئی وزیر رہ چکا ہے جبکہ کچھ معاون خصوصی کے طور پر سابق وزیراعلی کے ساتھ کام کر چکے ہیں ۔ کابینہ میں صرف ایک نیا چہرہ لایا گیا ہے جس نے ایوان میں بیٹھ کر دوسری سیاسی جماعت کے لیڈر کو گالی دی تھی بس یہی اس کی کارکردگی ہے جس کی بنیاد پر اسے سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کا حصہ بنایا ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا کی نئی کابینہ حقیقت میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سلیکشن ہے یا کسی اور کی یہ تو آگے چل کر ہی پتا چلے گا۔
