عمران خان "افراتفری کا بادشاہ” کیوں بنا رہتا ہے ؟

پرانے سیاستدانوں کے خلاف عمران خان کے غصے نے انھیں پاکستان کا مقبول ترین لیڈر بنا دیا ہے۔ اور وہ اپنے اس تشخص کو محض اس لیے دھندلا نہیں ہونے دیں گے کہ وہ ایسے ملک کو چلائیں جسے ان کے ہارے ہوئے مخالفین بھی چلانے سے گریزاں ہیں ایسے میں جب عمران خان ملک کے سب سے مشہور قیدی نمبر 804 کے طور پر اڈیالہ جیل کی ایک کوٹھری میں قید ہیں ان کے لیے یہ صورت حال اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے بہترین ماحول فراہم کر رہی ہےعمران خان جب اقتدار سے باہر ہوئے تو وہ ’افراتفری کے بادشاہ‘ بنے دوسروں کو مشکل میں مبتلا رکھنا ان کی عادت ہے۔ اس کا عمران خان سے زیادہ لطف کسی اور نے نہیں اُٹھایا۔ ، ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی محمد حنیف نے اپنے آیک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ اُمید تھی کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات ملک میں استحکام کا باعث بنیں گے، وہ استحکام جس کی ملک میں کمرتوڑ مہنگائی اور تلخ ہوتی سیاسی تقسیم سے نمٹنے کے لیے اشد ضرورت تھی۔ اس کے بجائے، کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ مل سکی اور ایک اتحادی حکومت وجود میں آئی، ایک متزلزل اور تذبذب کا شکار اتحاد جو اپنے ہی مینڈیٹ کے بارے میں غیر یقینی کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔
انتخابات کے دو ہفتے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق میں حکومت بنانے کا اعلان تو کیا مگر ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ پی پی پی اس کا حصہ نہیں بنے گی۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے آدھی رات کو (اتحاد کا) اعلان غمگین لہجے میں کیا گیا اور بظاہر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ویسا ہی معاملہ جیسے کسی جلدبازی میں کی جانے والی شادی کا۔ اچانک سے کُچھ یوں ہوا کہ پاکستان وہ نایاب جمہوری مُلک بن گیا کہ جہاں کوئی وزیراعظم بننے کو تیار نہیں ہو رہا تھا۔ محمد حنیف کہتے ہیں کہ ’اسٹیبلشمنٹ‘ ہمیشہ سے یہ مانتی چلی آئی ہے کہ عام انتخابات ایک اتنا حساس معاملہ ہے کہ جسے سیاستدانوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس بار انھوں نے اپنی پرانی انتخابی پلے بُک کھولی اور ماضی میں کامیابی سے استعمال کی گئی ہر چال کا استعمال کیا۔دھاندلی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود پاکستان تحریک انصاف الیکشن میں واحد سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ الیکشن والے دن عمران خان کی مقبولیت کی لہر ایسی تھی کہ معمول کی دھاندلی سے اسے لگام نہیں ڈالی جا سکی۔ اسٹیبلشمنٹ نے ڈیجیٹل معاملات کی سمجھ بوجھ رکھنے والی نسل پر قابو پانے کے لیے 20 ویں صدی کے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا، مگر ناکامی ہوئی۔ آزمائی گئی چالوں پر، ووٹرز کا جواب شائستہ اور انحراف پر مبنی تھا، ’شکریہ، مگر ہم اتنے جاہل اور ناخواندہ نہیں ہیں جتنا آپ سمجھتے ہیں۔ عمران خان کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت نہیں ملی، انھوں نے حکومت سازی کے لیے کسی دوسری پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کر دیا اور اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنا تشخص اور اپنی سیاسی مہم کو اپنے مخالفین کو کرپٹ کے طور پر پیش کرکے پروان چڑھایا ہے۔ وہ ان سیاستدانوں کے ساتھ اقتدار بانٹنے سے بیزار دکھائی دیے جن پر وہ اپنے سیاسی کیرئیر میں اکثر اوقات تنقیدی جُملوں سے حملہ کرتے رہے۔ زیادہ تر پاکستانی سیاستدانوں کو کسی نہ کسی دور میں جیل میں وقت گزارنا پڑا ہے۔ لیکن اس چیز کا عمران خان سے زیادہ لطف کسی اور نے نہیں اُٹھایا۔ اپنے حامیوں تک پہنچنے کے لیے انھیں کوئی بھی عوامی پلیٹ فارم دستیاب نہیں تھا، انھوں نے اپنے وکلا اور قریبی خاندان کے افراد کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات کے ساتھ اپنے جیل کی کوٹھری سے یہ انتخابی کامیابی حاصل کی ہے۔
محمد حنیف کے مطابق نو مئی کے بعد اسٹیبلشمنٹ ایک واضح اشارہ دینا چاہتی تھی کہ عمران خان اور ان کی پارٹی ختم ہو چکی ہے۔ خان کے جیل میں ہونے کے ساتھ، جیسے جیسے الیکشن قریب آیا، پارٹی کو دوسرے درجے کی قیادت اور مقامی وفادار کارکنوں نے سنبھال لیا جو شکست خوردہ پارٹی کی جیت کی مہم کو منظم کرنے میں اہم کردار رہے۔
عمران خان جب اقتدار سے باہر ہوئے تو وہ ’افراتفری کے بادشاہ‘ بنے دوسروں کو مشکل میں مبتلا رکھنا ان کی عادت ہے۔انھوں نے نہ صرف اپنے سیاسی مخالفین بلکہ آرمی اسٹیبلشمنٹ پر بھی اپنا غصہ اتارا۔ ۔اب جب کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے دشمن نمبر ایک ہیں، تو وہ انتخابات میں اپنی پارٹی کی شاندار کاکردگی کے بعد خوش ہیں۔ ان کی پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عمران خان اپنی سیاست پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ سڑکوں پر عوامی جلسوں اور سوشل میڈیا کی مدد سے کرنا پسند کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کو پہلے ہی ’ہارنے والوں کا اتحاد‘ کہا جا رہا ہے، یہ حقیقی طور پر ان سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جنھیں انتخابات میں خان نے بری شکست دی ہے ۔ نتیجتاً الیکشن کے دو ہفتوں بعد تک خان کے مخالفین میں حکومت بنانے کا کوئی جوش دکھائی نہیں دیا۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ملک سرکردہ سیاستدان اقتدار کا دعویٰ کرنے کے بجائے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں تھے۔ حکومت کرنے میں ہچکچاہٹ اس لیے ہے کیونکہ پاکستان کو قرضوں کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ایندھن اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے محنت کش طبقے کے لیے زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ حکمرانی کے ہر شعبے میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار کے ساتھ، اقتدار میں موجود سیاستدانوں کا کردار اب دنیا بھر میں گھوم پھر کر بین الاقومی اداروں سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے تک محدود ہو چکا ہے بہت سے لوگوں نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا ہے کہ کیا عمران خان کا جیل میں رہنا انھیں زیادہ سمجھدار سیاستدان بنا دے گا مگر اس کا امکان تو نہیں لگتا۔ وہ ایک آوارہ مزاج کے طور پر ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول بننے کے لیے اپنا نرم مزاج ہونے کا تاثر نھیں بنائیں گے۔
