لیاری گینگ وار کی فلمی لڑائی کیسے پورے خاندان کو کھا گئی؟

لیاری گینگ وار کا نام سن کر ذہن میں فلمی لڑائی کا خیال آتا ہے لیکن حقیقت میں یہ لڑائی جرائم پیشہ گروپس کی بجائے خاندان کے قریبی لوگوں میں لڑی گئی، بھائی نے بھائی کو چھوڑا، نہ ہی گھر کی عورتوں اور بچوں کو، ایک ایسی لڑائی جو چھوٹوں سے شروع ہوتے ہوئے بڑوں تک پہنچ گئی اور پھر ہر گھر سے لاشیں اٹھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ کہانی ہے لیاری کے مشہور منشیات فروش، گینگسٹر بادشاہ خان اور ان کے بھائیوں کے مابین شروع ہونے والی گینگ وار کی، سابق ایس پی فیاض خان کے مطابق مشہور منشیات فروش بادشاہ خان اس کے بھائی میرا خان، اللہ داد خان، حق داد خان اور ولی داد لیاری کے علاقے دریا آباد میں رہائش پذیرتھے، ان بھائیوں کے خلاف متعدد مقدمات درج تھے، اگر صرف بادشاہ خان کی بات کی جائے تو ان کے 7 بیٹے تھے اور ان سب پر مقدمات درج تھے۔فیاض خان نے بتایا کہ ان سب افراد جن کے نام لے رہا ہوں ان کو میں کئی کئی بار گرفتار کر چکا ہوں اور گرفتار ہونا ان کے لیے کوئی مسلئہ نہیں تھا۔فیاض خان بتاتے ہیں کہ بادشاہ خان کے ایک چھوٹا بھائی اللہ داد خان بہت بڑا لڑاکا تھا، منشایات کے ساتھ ساتھ شہر میں جوئے کے اڈے چلاتا تھا جوا لگاتا تھا اور پولیس بھی اس کے ساتھ ملی بھگت میں شامل ہوتی تھی۔2008 میں رحمان ڈکیت نے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے گینگ وار کا آغاز کیا، اس نے پولیس اہلکاروں کی طرح ہر علاقے میں اپنے گینگسٹرز کو تعیانات کرنا شروع کر دیا، فیاض خان کے مطابق یہ اتنا آسان نہ تھا لیکن اس وقت کی حکومت کی مدد سے یہ کام آگے بڑھتا چلا گیا، اس وقت دریا آباد کا منشیات فروش بادشاہ خان کا ایک، ایک بیٹا غفور خان رحمان ڈکیت کے ساتھ شامل ہوا اور رحمان ڈکیت کے بہت قریب ہوگیا۔دریا آباد کی یہ چند گلیاں جو ان بھائیوں کی وجہ سے خوف کی علامت سمجھی جاتی رہیں، گرفتاریاں ہوتیں، لوگ مارے جاتے پر ان کا دھندا چلتا رہتا۔سابق ایس پی کے مطابق پھر ایک دن دریا آباد میں ایک بیمار خاتون جو علاج کرانے ڈاکٹر کے پاس آئی تھی تو واپسی پر اسے لوٹ لیا گیا، ان لڑکوں کو رحمان ڈکیت کے پاس لے جایا گیا، جہاں انہوں نے مار پیٹ کے بعد اعتراف کیا کہ ہم راجہ کے لیے کام کرتے ہیں وہی ہمارا گینگ لیڈر ہے۔ رحمان ڈکیت نے ولی داد خان اور اس کے بیٹے راجہ کو طلب کیا، جس پر ولی داد خان رحمان ڈکیت کے سامنے آیا، جب رحمان نے اسے بیٹا پیش کرنے کو کہا تو اس نے انکار کیا جس کے بعد ولی داد کو ٹارچر بھی کیا گیا، فیاض خان بتاتے ہیں کہ ولی داد اپنے بیٹے کے ہمراہ واپس گھر تو آئے لیکن نفرت کی بنیاد پڑھ چکی تھی، ولی کے 3 بیٹوں، راجہ، عباس اور ابراہیم نے قسم کھائی کے ہم چچا زاد بھائی غفور سے بدلہ لیں گے۔ سابق پولیس آفیسر نے بتایا کہ غفور کا کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک خاتون سے منشیات کے حوالے سے گہری دوستی اور تعلق تھا، ولی داد نے اپنے بھتیجے غفور کو دبوچنے کے لیے اس عورت کا استعمال کیا۔ جنوری 2010 کا واقعہ ہے کہ اس عورت نے غفور کو فون کر کے اپنے پاس بلدیہ ٹاؤن آنے کا کہا غفور جب اس عورت کے گھر پہنچا تو وہاں ولی داد اپنے بیٹوں راجا اور عباس کے ہمراہ پہلے سے ہی موجود تھے موقع دیکھتے ہیں انہوں نے غفور کو قتل کر دیا۔ابھی غفور کے قتل کو 30 دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ اس کے والد بادشاہ خان پر حملہ ہوجاتا ہے، بادشاہ خان اپنے بیٹے کے ہمراہ گلی میں بیٹھا تھا کہ ولی داد خان کے 2 بیٹوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں بادشاہ خان کو 6 گولیاں لگیں اور وہ انتقال کرگیا جبکہ اس کا بیٹا بھی بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔لیاری گینگ وار کی کمان رحمان ڈکیت کے بعد عزیر بلوچ کے پاس آئی جو بادشاہ خان کے بیٹے عزیر بلوچ کے ساتھ کام کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ عزیر بلوچ نے اپنی گینگ کو بتا دیا تھا کہ بادشاہ خان کے بیٹوں کے ساتھ ملکر ولی داد خان اور ان کے بیٹوں کو تلاش کیا جائے اور جہاں ملیں انہیں مار دیا جائے، ولی داد خان بیٹوں کے ساتھ باہر تھا، شکیل، ولید، بادشاہ خان کے بیٹے غرض کے سب کے سب بھائی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، کوئی نشے کی زیادتی سے مرا کسی کو رینجرز نے ، کسی کو پولیس نے اور کسی کو خود چچازادوں نے مار ڈالا۔2013 کے دوران بادشاہ کا فرزند شکیل اس دوران عزیر کے پاس رہنے لگا کیوں کہ آپریشن شروع ہوچکا تھا لیکن موقع ملتے ہی شکیل دبئی چلا گیا، اس دوران لیاری گینگ وار تتر بتر ہوگئی، ان میں سے کوئی دبئی چلا گیا، کوئی مارا گیا، کوئی پکڑا گیا جب کہ خود عزیر بلوچ اس وقت جیل میں موجود ہے۔

Back to top button