لانگ مارچ کو سرکس بنانے پر سہیل آفریدی کا رگڑا

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سوشل میڈیا پر اپنے ہی یوتھیوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں اور ان پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے لانگ مارچ اسلام آباد لے جانے کی بجائے اسے سرکس کا وہ کنواں بنا دیا ہے جس میں موٹر سائیکل سوار گول گول گھومتا رہتا ہے۔ پارٹی کے ہمدردوں کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کیے گئے لانگ مارچ کو مسلسل خیبر پختون خواہ میں گھمانے کے بجائے اسلام آباد کی طرف بڑھنا چاہیے اور اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینا چاہیئے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں گول گول گھوم رہا ہے حالانکہ اس کے روٹ اور حکمت عملی پر پارٹی کارکنوں کی جانب سے اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہے تو قافلوں کو صوبے کے اندر مختلف مقامات پر لے جانے، سڑکیں بند کرنے اور شہریوں کی نقل و حرکت متاثر کرنے کے بجائے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کا واضح ہدف ہونا ضروری ہے، ورنہ بار بار راستے تبدیل کرنے سے احتجاج کی سمت اور حکمت عملی کے بارے میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔
ایسے میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے لانگ مارچ ایک بڑی سیاسی آزمائش بن چکا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق اگر آفریدی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد جمع نہ کرسکے تو انہیں نہ صرف سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا بلکہ وزارت اعلی سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ نجم سیٹھی نے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر واپس آنے پر گنڈاپور کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور اب آفریدی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے دوران کارکنوں کی بڑی تعداد جمع کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ قیادت کو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ مشکل حالات میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی کشمکش سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ آفریدی شاید خود بھی ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ اور گرفتاریاں چاہتے ہوں تاکہ انہیں مشکل صورت حال سے نکلنے کا سیاسی جواز مل سکے۔
حکومت مخالف لانگ مارچ گنڈاپور مخالف کیوں ہو گیا؟
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کو پوری طاقت سے روکنے کا عزم کر رکھا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں گے۔ ایسے میں سہیل آفریدی کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عمران کی رہائی کے لیے سیاسی جدوجہد، کارکنوں کی توقعات اور صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں۔ لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار صرف شرکا کی تعداد پر نہیں ہوگا، بلکہ قیادت کے فیصلوں، کارکنوں کے ساتھ اس کے طرزِ عمل اور حکومت کے ردعمل پر بھی ہوگا۔ نجم سیٹھی کی رائے میں یہ صورت حال سہیل آفریدی کی وزارت اعلی کے خاتمے پر منتج ہو سکتی ہے۔
