حکومت مخالف لانگ مارچ  گنڈاپور مخالف کیوں ہو گیا؟

 

 

 

 

تحریک انصاف کے لانگ مارچ نے پارٹی کے گنڈاپور اور آفریدی دھڑوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور اب آفریدی گروپ کی جانب سے یہ دھمکی دے دی گئی ہے کہ اگر علی امین گنڈاپور نے آفریدی کے خلاف سازش بند نہ کی تو لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی بجائے ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع ان کی رہائش گاہ کی جانب موڑ دیا جائے گا۔

 

تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے صدر جنید اکبر خان نے اپنے ویڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور کے حامی ارکان اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں چھپے بیٹھے ہیں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسلام آباد کی طرف جانے والے لانگ مارچ کا رخ ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب بھی موڑا جا سکتا ہے۔ جنید اکبر کے اس بیان کو گنڈاپور کے حامی ارکان اسمبلی پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور دوبارہ وزارت اعلیٰ حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں اور انہیں صوبائی اسمبلی کے 30 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

 

دونوں دھڑوں کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب علی امین گنڈاپور سے منسوب ایک آڈیو پیغام تحریک انصاف کی صوبائی کابینہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیا گیا۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک منٹ 43 سیکنڈ کے اس پیغام میں سابق وزیراعلیٰ نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھیں، کیونکہ ان کے پاس ایسے معاملات کا ریکارڈ موجود ہے جنہیں منظرعام پر لانے کی صورت میں سہیل آفریدی کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔ گنڈاپور نے کہا کہ وہ پارٹی میں اتفاق اور اتحاد برقرار رکھنے کے لیے خاموش ہیں، تاہم ان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

 

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق گنڈاپور اس وقت شدید ناراض ہوئے جب انہیں معلوم ہوا کہ سہیل آفریدی نے ایک پارٹی اجلاس میں 26 نومبر 2024 کے احتجاج کو فکسڈ میچ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد گنڈاپور لانگ مارچ میں شرکت کے لیے آنے کے باوجود راستے سے واپس ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہو گئے۔ آڈیو میں انہوں نے سہیل آفریدی کے بیان کو اپنے خلاف سنگین الزام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی گفتگو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے لیے طنزیہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ماضی کے سیاسی معاملات، مذاکرات اور مختلف رہنماؤں کے کردار سے متعلق ایسی معلومات موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔

 

گنڈاپور نے آڈیو میں بانی تحریک انصاف عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کے معاملے کو بھی اٹھایا اور سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا کہ عمران خان کے وکلا اور اہل خانہ کی ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے حوالے سے ان کا کردار رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے سے متعلق ریکارڈ بھی ان کے پاس موجود ہے۔ سابق وزیراعلیٰ نے بشریٰ بی بی اور ان کے اہل خانہ سے متعلق معاملات کا ذکر کرتے ہوئے بھی سہیل آفریدی پر الزامات عائد کیے اور کہا کہ اقتدار میں ان کی آمد کے پس منظر اور اس سلسلے میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سامنے لائی جا سکتی ہیں۔

 

سابق وزیراعلیٰ نے اپنی گفتگو میں 26 نومبر 2024 کے اسلام آباد احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ اس وقت بشریٰ بی بی کو سڑک پر چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے۔ گنڈاپور نے پشتون روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت سے معاملات سے واقف ہیں، لیکن عمران خان اور پارٹی کے موجودہ حالات کے باعث خاموش ہیں۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں اور عملی طور پر کام کرکے دکھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو وہ بھی خاموش نہیں رہیں گے اور متعلقہ معاملات کی تفصیلات سامنے لے آئیں گے۔

 

یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ اکتوبر 2025 میں سامنے آیا، جب انہوں نے عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا۔ سہیل آفریدی 13 اکتوبر 2025 کو صوبائی اسمبلی سے 90 ووٹ حاصل کرکے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اور 15 اکتوبر کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

 

گنڈاپور کی تبدیلی کو پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے صوبے کی خراب سکیورٹی صورتحال سے جوڑا تھا۔ تاہم بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کو یہ شک ہو گیا تھا کہ گنڈا پور ڈبل گیم کھیل رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ گنڈاپور نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عمران خان کے حکم کی تعمیل میں عہدہ چھوڑ رہے ہیں، تاہم قیادت کی اس تبدیلی کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے۔

پی ٹی آئی کا خیبر پختون خواہ حکومت کے خاتمے کا اعلان

علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے درمیان اختلافات کی شدت میں اضافے کے ساتھ خیبر پختونخوا میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ موجودہ وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں 30 سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب جنید اکبر کی جانب سے لانگ مارچ کا رخ ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف موڑنے کے عندیے نے پارٹی کے اندر جاری کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ یوں تحریک انصاف کا لانگ مارچ، جس کا مقصد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی ہے، اب پارٹی کے اندر قیادت، احتجاجی حکمت عملی اور وزارت اعلیٰ کے تنازعے کے باعث بھی سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔

Back to top button