پی ٹی آئی کا خیبر پختون خواہ حکومت کے خاتمے کا اعلان

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بشمول پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور سیکرٹری جنرل راجہ سلمان اکرم راجہ نے عملاً خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے دونوں مرکزی قائدین کا کہنا ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو عملا مفلوج کر دیا گیا ہے اور تمام تر انتظامی اختیارات چیف سیکرٹری اور کمشنر کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختون خواہ کی حکمران جماعت کی مرکزی قیادت کے ان بیانات نے صوبے میں حکومتی عمل داری، پولیس اور سول بیوروکریسی پر منتخب حکومتی اختیار اور وزیر اعلیٰ کی انتظامی حیثیت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، ادھر خیبر پختون خواہ کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کا معاملہ اٹھا دیا ہے۔
تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق صوبے میں پولیس اور بیوروکریسی حکومتی ہدایات پر عمل نہیں کر رہی، جس کے باعث صوبائی حکومت کو انتظامی امور چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے نمائندوں کی جانب سے خیبر پختون خواہ کی حکومت کو تقریبا ہائی جیک کیا جا چکا ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت کے ان بیانات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ اپنے احکامات پر عمل درآمد یقینی نہیں بنا سکتے تو صوبے میں انتظامی اختیار کی عملی صورت حال کیا ہے۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔ سہیل آفریدی اپنی تقاریر میں سب سے زیادہ تنقید اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر کر رہے ہیں جس کے بعد یہ اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں حکومت کو مفلوج کر دیا جائے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ احتجاجی مہم کے ذریعے وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری طرف صوبے میں انتظامی فیصلوں کا اختیار چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس نے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس صورت حال نے تحریک انصاف کو دوہرے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مبینہ اغوا یا لاپتا ہونے کے واقعات نے بھی حکومتی عمل داری پر سوالات گہرے کر دیے ہیں۔ پہلے صوبائی وزیر فضل شکور خان کے اغوا کی اطلاع سامنے آئی، جس کے بعد ڈاکٹر امجد کے بھی اغوا ہونے کی اطلاع آ گئی۔ ان واقعات نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے 9 اکتوبر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو وزیراعلیٰ اپنے وزرا اور ارکان اسمبلی کا تحفظ نہیں کر سکتا، وہ صوبے کے عوام، حقوق اور وسائل کی حفاظت کیسے کرے گا۔ گورنر نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کے پاس پولیس سمیت تمام اختیارات موجود ہیں، لہٰذا اختیارات نہ ہونے کی شکایت پر انہیں وضاحت دینی چاہیے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جبکہ حکومت سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
گورنر کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے امکان کا ذکر ہونے کے بعد صوبے میں آئینی اقدامات سے متعلق بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق اگر وزیراعظم اور صدر مملکت حالات کے پیش نظر ایمرجنسی یا گورنر راج ضروری سمجھیں تو آئینی طریقۂ کار کے تحت اقدام کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس امکان کا اظہار کسی حتمی فیصلے یا باقاعدہ نفاذ کے مترادف نہیں۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان اختلافات، بالخصوص اعلیٰ انتظامی افسران سے رابطوں اور صوبائی حکومت کے اختیارات پر تنازع، نے وفاق اور صوبے کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف قانونی کارروائیوں اور نااہلی کی درخواستوں نے بھی انکے عہدے کے مستقبل سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی آئینی عدالت سہیل افریدی کی نااہلی کی درخواست کی سماعت 15 اکتوبر کو کرنے جا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وزیراعظم نے اہم اجلاس طلب کرلیا
سیاسی حلقوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اب سہیل آفریدی بطور وزیراعلی پشاور واپس نہیں پہنچیں گے کیونکہ اس سے پہلے ہی یا تو وہ نااہل کر دیے جائیں گے یا ان کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے بیانات، گورنر کے استعفے کے مطالبے اور گورنر راج کے امکان نے وزیراعلیٰ کے لیے صورت حال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اس مرحلے پر اہم ترین سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت اپنے اختیارات سے متعلق تحفظات کا کس طرح جواب دیتی ہے اور آیا وہ پولیس و بیوروکریسی کے ساتھ معاملات بہتر بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
مختصر یہ کہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو اسوقت سنجیدہ ترین سیاسی، انتظامی اور آئینی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف پارٹی کی مرکزی قیادت پولیس اور سول بیوروکریسی کے عدم تعاون کی شکایت کر رہی ہے، تو دوسری طرف پی ٹی آئی رہنماؤں کے اغوا کے نے ممبران اسمبلی کے عدم تحفث کے احساس میں اضافہ کر دیا ہے۔

2 Comments