9 مئی کی سازش کو کس جرنیل نے کیسے ناکام بنایا تھا؟

9 مئی 2023 کو پاکستانی فوج کو تقسیم کرنے کی سازش ناکام بنانے میں سابق چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا چونکہ اس روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر بیرون ملک دورے پر تھے اور ساحر شمشاد سینیئر ترین جرنیل تھے۔ اگر اس روز ساحر شمشاد کمزور پڑ جاتے تو شر پسند عناصر کامیاب ہو جاتے اور 9 مئی کی سازش کامیاب ہو جاتی ہے۔
معروف تجزیہ کار اور کئی کتابوں کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 9 مئی 2023 کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر عمان اور قطر کے سرکاری دورے پر تھے جب ساحر شمشاد مرزا نے انہیں فون کر کے فوجی تنصیبات پر حملوں سے آگاہ کیا اور یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ فکر نہ کریں اور اپنا دورہ جاری رکھیں۔ انہوں نے اپنے باس کو یقین دلایا تھا کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں پاکستان میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورت حال کو موثر طریقے سے سنبھال لیں گے۔
نیا دور کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ ساحر شمشاد مرزا ایک ادارہ جاتی سوچ رکھنے والے فوجی افسر تھے جن کے لیے فوج کے اتحاد، ادارہ جاتی تسلسل اور وقار کو برقرار رکھنا کسی بھی اور مقصد سے زیادہ اہم تھا۔ لہذا انہوں نے اس نازک صورت حال میں جنرل عاصم منیر اور فوج کے ادارے کے ساتھ وفاداری نبھائی اور فوج میں انتشار کی سازش کو تارپیڈو کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
عائشہ صدیقہ کے بقول جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کور کمانڈرز اور جنرل آفیسرز کمانڈنگ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نئی صورتحال میں تمام تر احکامات براہِ راست چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے لیں۔ پاک فوج کے اندرونی معاملات اور عسکری قیادت کے باہمی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ نے سوشل میڈیا پر سرگرم بعض نام نہاد تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کے طرزِ عمل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ قرار دینے والے نام نہاد تجزیہ کار عسکری اداروں کی بنیادی حرکیات کو سمجھے بغیر واٹس ایپ پر گردش کرنے والی بے بنیاد باتوں کو اٹھا کر دہراتے رہتے ہیں۔
انکے مطابق، اب بعض لوگوں نے فوجی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کا چورن بیان کرنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ فوج کے ادارے میں چین آف کمانڈ چلتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں مشترکہ رابطے اور منصوبہ بندی کے مسائل کا جائزہ لیتے وقت فوج، فضائیہ اور بحریہ کے درمیان اختیارات، معلومات کی فراہمی اور فیصلوں کے طریقۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے 1965 کی جنگ کے دوران آپریشن جبرالٹر اور کارگل جنگ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بعض مواقع پر مشترکہ عسکری منصوبہ بندی میں خامیاں سامنے آئیں، جن کی بنیادی وجہ آرمی کی جانب سے فضائیہ کو بروقت اعتماد میں نہ لینا تھی۔ انہوں نے کارگل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب جنرل پرویز مشرف نے ایئر مارشل پی کیو مہدی سے جنگی طیارے تعینات کرنے کے لیے کہا تو فضائیہ کی قیادت نے وسائل کی کمی اور بین الاقوامی سرحد پر ایک اور محاذ کھلنے کے خدشات کے پیش نظر ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ منصوبہ بندی کی اہمیت کو نظرانداز کرنے سے بڑے تزویراتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
گفتگو کے دوران پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل، آئینی ترامیم، چیف آف ڈیفنس فورسز کے تصور اور دنیا بھر میں آمرانہ رجحانات کے بڑھنے کے حوالے سے ایک سوال پر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا کہ پاکستان میں ہائبرڈ طرزِ حکمرانی کی ابتدا سال 2008 میں ہوئی تھی جب جنرل پرویز مشرف کی چھٹی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق، اس دور میں فوج نے براہِ راست اقتدار سنبھالنے کے بجائے حکمرانی اور ریاستی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کا راستہ اختیار کیا تاکہ پیچھے رہ کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں کچھ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اقتدار میں رہنے کی خاطر عسکری اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار کو قبول کیا اور اسے مزید وسعت دینے میں حصہ ڈالا۔ ان کے بقول، مسئلہ محض کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں سول اور عسکری اختیارات کے درمیان توازن کا ایک دیرینہ سوال ہے۔
لیکن ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2008 سے 2013 کے دوران بعض معاملات میں اس رجحان کی مزاحمت کی جس کا اسے خمیازہ بھی بھگتنا پڑا اور اس کا ایک وزیراعظم فارغ بھی ہو گیا۔ انکے مطابق، میثاقِ جمہوریت کے تناظر میں قومی سلامتی کونسل کو ختم کرکے دفاعی کمیٹی کی بحالی کو سول بالادستی کی سمت ایک قدم سمجھا جا سکتا تھا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ بعد میں 2013 میں نواز شریف کی حکومت کے دوران قومی سلامتی سے متعلق ادارہ جاتی بندوبست میں تبدیلیاں کی گئیں اور قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اس دور کے سیاسی اور عسکری تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعد ازاں فوجی اور سویلین قیادت کے مابین ڈان لیکس کا تنازع بھی اسی وسیع تر بحث کا حصہ بنا، جس میں منتخب حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلافات نمایاں ہوئے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے بھی حکومتی اور معاشی پالیسی سازی میں فوجی قیادت کی شمولیت کو بڑھایا۔ ڈاکٹر عائشہ کے مطابق، آرمی چیف کو اکنامک ڈیولپمنٹ کونسل میں شامل کرنا اس بات کی مثال تھا کہ پاکستان میں سیاسی حکومتیں اقتدار برقرار رکھنے یا اپنے انتظامی اہداف حاصل کرنے کے لیے عسکری اداروں کے کردار کو وسعت دینے پر آمادہ ہوتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں منتخب حکومتوں اور عسکری قیادت کے درمیان اختیارات کی واضح حدبندی کمزور ہوتی ہے، جبکہ جمہوری اداروں کی خود مختاری اور جواب دہی کے نظام پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا خیبر پختون خواہ حکومت کے خاتمے کا اعلان
ڈاکٹر عائشہ نے پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مشکلات کی بنیادی وجوہات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں ناکامی کو بنیادی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، پاکستان میں صرف فوجی مداخلت یا عسکری اثر و رسوخ کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں، کیونکہ سیاسی جماعتوں اور لبرل قوتوں نے بھی پارلیمان، عدلیہ، جمہوری روایات اور سول اداروں کی خودمختاری کے استحکام کے لیے مطلوبہ کردار ادا نہیں کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب سیاسی قوتیں اپنے مختصر مدتی مفادات کے لیے طاقتور اداروں کا سہارا لیتی ہیں تو اس سے اختیارات کا توازن مزید بگڑ جاتا ہے اور جمہوری نظام اپنی بنیادیں مضبوط کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
