عمران نے فارن فنڈنگ کیس 8 برس تک کیسے لٹکا کر رکھا؟

عمران خان نے تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ ممنوعہ فنڈنگ کیس بڑی کامیابی کے ساتھ 8 برس تک لٹکا کر رکھا ، لیکن ان کی وزارت عظمیٰ کے خاتمے کے ساتھ ہی اب کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے اور عمران کے سیاسی مستقبل پر خطرے کے سیاہ بادل منڈلانا شروع ہو گئے ہیں۔

تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کے دائر کردہ اس کیس کا فیصلہ لٹکانے کے لیے عمران خان نے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ اب اس کا فیصلہ آ کر رہے گا تو انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی ساکھ پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے۔ پہلے کئی برس تو پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن کمیشن کا دائرہ کار ہی تسلیم نہیں کیا جارہا تھا، لیکن پھر سپریم کورٹ کے حکم پر اسے تسلیم کیا گیا۔ لیکن اسکے بعد بھی کیس لٹکانے کے لیے درجنوں متفرق درخواستیں دائر کی جاتی رہیں جن میں کبھی پی ٹی آئی کے حق میں اور کبھی مخالفت میں فیصلے آتے رہے۔

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کا کہنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ آنے سے ملکی سیاست بدل سکتی ہے کیونکہ جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے پر عمران خان کے خلاف صادق اور امین نہ ہونے سے متعلق کارروائی ہوسکتی ہے اور الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس حکومت کو بھجوا سکتا ہے۔ 21 جون کو آخری روز ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار اکبر ایس بابر کے مالی امور کے ماہر ارسلان وردگ نے مختلف مالیاتی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا سے فنڈنگ ہوئی۔ اس نے 11 اکاؤنٹس تسلیم کیے جو اس نے ظاہر نہیں کیے تھے۔ اس نے بیرون ملک سے آئے کئی فنڈز کے ذرائع نہیں بتائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ڈونرز کی تفصیل نہ ہونے پر پی ٹی آئی وکیل انور منصور اپنے دلائل دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق فنڈنگ کے وقت قانون میں ڈونر کی تفصیل دینا لازمی نہیں تھا۔ دوران سماعت کیس کے مدعی اکبرایس بابر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جواب دہ بنانے کیلئے یہ بہترین موقع ہے۔ ایسی جماعتوں اور لیڈرز کو رول ماڈل ہونا چاہیے۔

ملک ریاض نے عمران کو کتنے ارب کی زمین رشوت دی؟

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ انشاء اللہ ہم اس کیس میں سرخرو ہوں گے۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ 8 سال میں 190 کے قریب پیشیاں ہوئیں۔ میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال پارٹی کو دیے۔ ہم نے عمران خان کو وزیراعظم بنانے کیلئے پارٹی نہیں بنائی تھی۔ امید ہے الیکشن کمیشن اس تاریخی موقع کو نہیں گنوائے گا اور بے خوف ہو کر فیصلہ کرے گا۔ اس کے دبنگ فیصلے سے سیاست بدل جائے گی۔ اکبر ایس بابر کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ یہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے۔ ممنوعہ فنڈنگ میں کسی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ الیکشن کمیشن کو تمام سیاسی جماعتوں کا فیصلہ ایک ساتھ کرنا چاہیے۔ کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ توازن قائم کرے۔

اس کیس میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں درخواست دائرکی کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں آنے والی کروڑوں روپے کی رقوم غیرقانونی طور پر ان اکاؤنٹس میں آئی ہیں جن کے بارے میں کچھ اطلاع نہیں ہے۔ اس معاملے پر پارٹی کے اندر اکبر ایس بابر پر شدید تنقید کی گئی اور ایک وقت آیا کہ ان کی بنیادی رکنیت بھی ختم کردی گئی، لیکن اکبر ایس بابر اپنے موقف سے نہ ہٹے اور اس بارے میں الیکشن کمیشن میں کیس چلاتے رہے۔ درخواست گزار کا الزام تھا کہ تحریکِ انصاف کو بیرونی ممالک سے بھاری رقوم فنڈنگ کی مد میں حاصل ہوئیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کو جو ریکارڈ فراہم کیا گیا وہ اُس رقم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لہذا فنڈز میں خرد برد کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے اگست 2017 میں غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریکارڈ جمع کرانے کے لیے سات ستمبر تک کی مہلت دی تھی۔ بعد ازاں، الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس حوالے سے حکم دیا۔ جس کے مطابق تحریکِ انصاف نے مختلف کمرشل بینکوں میں موجود کل 26 اکاؤنٹس میں سے آٹھ کو ظاہر کیا اور ان کی تفصیل الیکشن کمیشن میں عمران خان کے دستخطوں سے جمع کرائی۔ کل 26 اکاؤنٹس میں سے صرف 8 ظاہر شدہ تھے جب کہ باقی 18 اکاؤنٹس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بے نامی اکاؤنٹس تھے جن میں بیرون ملک سے آنے والی فنڈنگ جمع کی جاتی رہی۔ لیکن یہ فنڈنگ کہاں خرچ ہوئی، اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی مخالف جماعتیں انہی بے نامی اکاؤنٹس کی بنیاد پر تحریک انصاف کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

تحریک انصاف فارن فنڈنگ کے حوالے سے اکبر ایس بابر کی طرف سے عائد کردہ تمام الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا موقف رہا ہے کہ سیاسی مخالفین کے کہنے پر پارٹی کو بدنام کرنے کے لیے یہ کیس بنایا گیا ہے۔ لیکن اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ 2009 سے 2013 کے درمیان پارٹی کے کئی درجن سےزائد اکاونٹس مشتبہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 73 لاکھ ڈالرسے زائد رقم وصول کی۔ تحریک انصاف نے معاملہ رکوانے کیلئے چھ مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا رخ کیا اور درخواستوں میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کوچیلنج کیا۔ الیکشن کمیشن میں دوران سماعت پی ٹی آئی نے9 وکیل تبدیل کیے۔

عدالت عظمیٰ کے حکم اورعدالیہ عالیہ سے سنوائی نہ ہونے پر کیس کی الیکشن کمیشن میں باقاعدہ سماعت شروع ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے تحقیقات کیلئے مارچ 2018 میں سکروٹنی کمیٹی قائم کی جس کو صرف ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ لیکن اس کمیٹی نے انتہائی سست رفتاری سے کام کرتے ہوئے 96 اجلاس کے بعد اگست 2020 میں تحقیقاتی رپورٹ کمیشن میں جمع کروائی۔ الیکشن کمیشن نے یہ رپورٹ مسترد کی جس پر کمیٹی نے حتمی رپورٹ جنوری 2022 میں جمع کروائی۔ جنوری 2022 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق حتمی رپورٹ جمع کرا ئی، جس میں پارٹی کی طرف سے 53 بینک اکاؤنٹس چھپانے کا انکشاف ہوا تھا۔
اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے قبل الیکشن کمیشن میں تحریکِ انصاف نے اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آنے تک پی ٹی آئی کی رپورٹ خفیہ رکھنے کی استدعا کی تھی۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے اگرچہ باقاعدہ طور پر سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، تاہم اس رپورٹ کے مندرجات میڈیا میں رپورٹ کیے جا رہے ہیں، جس کے مطابق پی ٹی آئی نے 65 بینک اکاؤنٹس میں سے صرف 12 بینک اکاؤنٹس کے بارے میں کمیشن کو آگاہ کیا اور مبینہ طور پر 53 اکاؤنٹس چھپائے۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری محمد دلشاد کا کہنا ہے کہ ای سی پی کے پاس بڑا اختیار یہ ہے کہ جب عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا اور جب اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق ثابت ہوگیا تو حقائق چھپانے پر ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے کی صورت میں صادق اور امین بھی نہیں رہیں گے اور اس بنا پر اگر الیکشن کمیشن اپنی رپورٹ بھجوائے گا تو اس پر عمران خان کے خلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کا انتخابی نشان بلا بھی واپس لے سکتی ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف کی رجسٹریشن پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے بارے میں الیکشن کمیشن کو اندازہ ہے کہ ان کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا لہذا وہ تمام سالوں کا مکمل ریکارڈ تیار کریں گے۔ ساتھ ہی دیگر جماعتوں کے حوالے سے بھی آئندہ چند دن میں فیصلہ آ جائے گا تاکہ کسی جماعت کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا نہ ہو۔ کنوردلشاد کے بقول عمران خان اور ان کی جماعت کی طرف سے الیکشن کمیشن پر مزید الزامات لگائے جائیں گے لیکن یہ ایک آئینی ادارہ ہے اور اسے ان الزامات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اورپی ٹی آئی کو اس کیس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Related Articles

Back to top button