12صوبوں کا قیام،پنجاب، سندھ،KPKاور بلوچستان کے کتنے ٹکڑے ہونے والے ہیں؟

پاکستان میں 12 صوبے بنانے کی تجویز نے ایک بار پھر ملک کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی بحث چھیڑ دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت پنجاب کو 4، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو 3، 3 جبکہ سندھ کو 2 صوبوں میں تقسیم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ملک گیر ریفرنڈم اور پھر 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے انتظامی نقشے کی تشکیل کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ عوام کو بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری خدمات تک آسان رسائی دینے کے نام پر سامنے آیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد ہے یا موجودہ نظام میں اختیارات، وسائل اور انتظامی صلاحیت کی غیر منصفانہ تقسیم؟ کیا نئے صوبے بنانے سے عوام کے مسائل حل ہوں گے یا صرف حکومتی ڈھانچے، سیاسی عہدوں اور وسائل کی تقسیم کا ایک نیا نظام وجود میں آئے گا؟
روزنامہ جنگ سے وابستہ سینئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق، اس تجویز پر ابتدائی غور و خوض جاری ہے اور مجوزہ آئینی ترمیم کی جانب 2027 کے پہلے نصف حصے میں پیش رفت کا تصور پیش کیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی اقدامات پہلی سہ ماہی میں کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی حتمی فیصلے کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔ نئے صوبوں کی حدود، انتظامی ڈھانچے اور آئینی طریقہ کار کے بارے میں کوئی حتمی خاکہ سامنے نہیں آیا۔مجوزہ تقسیم کے مطابق پنجاب کو 4 صوبوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 3، 3 صوبے بنانے کی تجویز ہے۔ سندھ کو 2 انتظامی صوبوں میں تقسیم کرنے کا تصور بھی زیرِ غور بتایا گیا ہے۔ اس طرح موجودہ 4 صوبوں کی جگہ ملک میں 12 صوبے قائم ہو سکتے ہیں۔ اس منصوبے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے حکومت عوام کے زیادہ قریب آئے گی، مقامی مسائل کی نشاندہی اور حل آسان ہوگا، سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے گی اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات دور دراز علاقوں تک پہنچائے جا سکیں گے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں صوبائی سطح پر انتظامی مرکزیت اور بڑے شہروں میں وسائل کے ارتکاز کی شکایات نئی نہیں ہیں۔ جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان کے دور دراز علاقے اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ اضلاع طویل عرصے سے ترقیاتی عدم مساوات اور سرکاری سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ تاہم صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے ان مسائل کا حل خودبخود ممکن نہیں ہوگا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ نئے صوبوں کو مالی وسائل، انتظامی اختیارات اور ترقیاتی منصوبوں پر فیصلہ سازی کا کتنا اختیار دیا جاتا ہے۔ اگر اختیارات اور وسائل کی تقسیم کا موجودہ طریقہ برقرار رہا تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کے ساتھ نئے انتظامی اخراجات کا بوجھ بن سکتے ہیں۔
اس تجویز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم سے پہلے ملک گیر ریفرنڈم کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں عوامی رائے حاصل کرنا اور اس معاملے کو صرف سیاسی جماعتوں کے مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے براہ راست عوامی حمایت سے جوڑنا بتایا گیا ہے۔ حامیوں کے مطابق ریفرنڈم سے قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک ہی ملک گیر سوال کے ذریعے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مختلف تاریخی، لسانی، ثقافتی اور سیاسی حساسیتوں کی درست ترجمانی ممکن ہوگی؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ صوبوں کی تعداد طے کرنا نہیں بلکہ ان کی حدود، دارالحکومتوں، وسائل، ملازمتوں، اسمبلیوں، مالی اختیارات اور سیاسی نمائندگی کے نئے نظام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ سندھ میں نئے صوبے کی بحث تاریخی اور سیاسی طور پر حساس رہی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کی الگ صوبے کی تحریک بھی ایک طویل پس منظر رکھتی ہے۔ بلوچستان میں رقبے، آبادی اور مقامی شناخت کے معاملات اہم ہوں گے، جبکہ خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر مختلف علاقوں کے مطالبات اور تحفظات سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک عمومی منصوبے کو تمام صوبوں پر یکساں انداز میں نافذ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
آئینی اعتبار سے بھی یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہوگی۔ موجودہ صوبائی ڈھانچے میں ردوبدل کے لیے آئینی ترامیم، پارلیمانی منظوری اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی آئینی حیثیت کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، صوبائی محکموں کی تقسیم، ملازمین کی تعیناتی اور اثاثوں و واجبات کی منتقلی جیسے معاملات بھی طے کرنا ہوں گے۔ ماہرین کے نزدیک ان امور پر واضح منصوبہ بندی کے بغیر نئے صوبوں کا قیام انتظامی آسانی کے بجائے ایک نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔
اس مجوزہ منصوبے کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت پہلے موجودہ صوبوں میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی؟ بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانا، مقامی حکومتوں کو مستقل مالی وسائل دینا، سرکاری محکموں کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانا اور ترقیاتی فنڈز کی شفاف تقسیم بھی انتظامی اصلاحات کا حصہ ہیں۔ اگر ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر صرف صوبوں کی تعداد بڑھائی گئی تو ممکن ہے کہ موجودہ انتظامی مرکزیت صوبائی دارالحکومتوں سے نئے صوبائی دارالحکومتوں میں منتقل ہو جائے، لیکن عام شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لیے پھر بھی طویل انتظار کرنا پڑے۔
مبصرین کے مطابق 12 صوبوں کا تصور ایک بڑی انتظامی تبدیلی ضرور ہے، لیکن اس کی کامیابی کا پیمانہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ عوام کو ملنے والی سہولت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حکومتی جواب دہی ہونا چاہیے۔ ریفرنڈم کی تجویز عوامی رائے جاننے کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہوگا کہ عوام کے سامنے ہر مجوزہ صوبے کی حدود، اخراجات، آمدنی، وسائل، انتظامی اختیارات اور متوقع فوائد کی مکمل تفصیلات رکھی جائیں۔ محض ایک سیاسی نعرے یا عمومی وعدے کی بنیاد پر اتنی بڑی آئینی تبدیلی کا فیصلہ کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا موجودہ نظام میں حقیقی اصلاحات کی، اس بحث کا فیصلہ سیاسی قیادت کے مفادات کے بجائے عوامی ضروریات اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر 28ویں آئینی ترمیم سے پہلے ریفرنڈم کی تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ ملک کے انتظامی مستقبل سے متعلق ایک اہم قومی بحث بن سکتی ہے۔ لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا اس منصوبے سے عام آدمی کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور بنیادی سہولتیں اپنے علاقے میں میسر آئیں گی، یا صرف پاکستان کے انتظامی نقشے پر نئے نام اور نئی حکومتیں شامل ہو جائیں گی؟
