سہیل آفریدی کی ایوان اقتدار میں واپسی ناممکن کیوں؟

خیبرپختونخوا کی سیاست ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ میں واپسی کے امکانات بظاہر محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق، صوبے میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج اگر عارضی بھی ثابت ہوں تو سہیل آفریدی کی دوبارہ منصب سنبھالنے کی راہ آسان نہیں ہوگی۔ تاہم یہ حکومتی حلقوں کا جائزہ ہے، کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں، اور ان کے سیاسی مستقبل کا انحصار آئینی صورتِ حال، زیرِ التوا مقدمات اور آنے والے سیاسی حالات پر بھی ہوگا۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے مؤثر تدارک اور امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ اس اقدام کے نتیجے میں تحریک انصاف کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت معطل ہوگئی، جبکہ سہیل آفریدی سمیت کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لے لیا گیا۔ تحریک انصاف نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ یوں صوبے میں انتظامی تبدیلی کے ساتھ ایک نیا سیاسی تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سہیل آفریدی کا محاذ آرائی پر مبنی سیاسی طرزِعمل، خصوصاً دہشت گردی اور ریاستی اداروں کے حوالے سے ان کے بیانات، وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنے۔ حکومتی سطح پر اب ان کی وزارتِ اعلیٰ میں واپسی کو قابلِ عمل امکان نہیں سمجھا جا رہا۔ تاہم اس صورتِ حال کو محض سیاسی اختلاف تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کے سامنے متعدد قانونی معاملات بھی موجود ہیں جو ان کے سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت نے 15 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ تحریک انصاف کے منحرف رہنما شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے انتخاب کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس مقدمے میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے لیے اختیار کیے گئے آئینی اور قانونی طریقۂ کار کی حیثیت کیا تھی۔ عدالت کا فیصلہ اس معاملے کی قانونی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ میں سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات حاصل کرنے اور حفاظتی ضمانت کے لیے دائر درخواستیں بھی زیرِ سماعت ہیں۔ 10 اکتوبر کو عدالت نے وکلا کو دلائل دینے کا آخری موقع دیتے ہوئے اگلی سماعت 20 اکتوبر مقرر کی اور مزید مہلت نہ دینے کا عندیہ دیا۔ ان کارروائیوں کے دوران سہیل آفریدی کو یہ ثابت کرنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا کہ ان کے خلاف مقدمات میں ان کے حقوق اور قانونی تقاضوں کا پورا خیال رکھا جائے۔ مئی 2023ء کے واقعات سے متعلق مقدمات بھی ان کے لیے ایک اہم قانونی چیلنج ہیں۔ ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت میں توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کے واقعے سے متعلق مقدمے میں ان کا نام شامل ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تفتیشی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد تفتیشی افسر کو ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی مقدمے میں نامزدگی یا کارروائی کا زیرِ التوا ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ حتمی ذمہ داری کا تعین قانونی کارروائی اور عدالت کے فیصلے سے ہی ہوگا۔
ایک الگ معاملے میں پشاور ہائیکورٹ نے ہری پور کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کرنے والی سہیل آفریدی کی درخواست مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے سیاسی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، لیکن درخواست مسترد ہونے کو بنیادی الزامات پر حتمی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مختلف مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو ان کے اپنے قانونی دائرے میں دیکھنا ضروری ہے۔
سہیل آفریدی کے لیے اصل چیلنج اب بیک وقت سیاسی اور قانونی محاذوں پر ہے۔ ایک طرف صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہونے کے بعد تحریک انصاف کو اپنی سیاسی حکمتِ عملی ازسرِنو مرتب کرنا ہوگی، دوسری طرف سہیل آفریدی کو اپنی تقرری اور دیگر مقدمات میں قانونی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔ اگر ایمرجنسی اور گورنر راج ختم بھی ہو جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب لازمی نہیں کہ سابقہ سیاسی انتظام خودبخود بحال ہو جائے گا۔ اس کے لیے آئینی تقاضوں، متعلقہ قانونی فیصلوں اور صوبائی سیاست میں پیدا ہونے والی نئی صورتِ حال کو دیکھنا ہوگا۔موجودہ حالات میں سہیل آفریدی کی واپسی کے امکانات کم دکھائی دینے کی بنیادی وجہ صرف گورنر راج نہیں، بلکہ ان کے گرد موجود سیاسی کشیدگی، قانونی مقدمات اور وفاق کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والا تناؤ بھی ہے۔ تاہم ان کی سیاسی واپسی کو قطعی طور پر ناممکن قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ آنے والے دنوں میں عدالتوں کی کارروائیاں، وفاقی حکومت کا طرزِعمل اور تحریک انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی اس معاملے کی سمت متعین کریں گے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہ بھی رہے گا کہ اس سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں امن و امان بہتر ہوتا ہے یا صوبہ مزید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔
