سوشل میڈیا پر بریانی اور سموسہ زیر بحث کیوں آگئے؟

سموسے اور بریانی پاکستان کے مقبول ترین پکوانوں میں سے ایک ہیں، آپ چٹورے ہوں یا ہاتھ روک کر کھانا کھانے کے عادی سبھی لوگ اسے شوق سے پسند کرتے ہیں۔
ایک جانب پاکستانی عوام جہاں سموسہ ہلکی پھلکی بھوک میں کھاتے ہیں تو بریانی ہر گھر کے دسترخوان کی شان بڑھاتی ہے، ویسے آج ہم ان دونوں پکوان کی بات اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ایک ٹوئٹر صارف نے سموسے کے اندر بریانی ڈال کر تصویر شئیر کی جس کے بعد گذشتہ چند دنوں سے ٹوئٹر پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔
بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ سموسے کے اندر بریانی کی انوکھی ڈش بھارت کے شہر سری نگر میں فروخت کی جا رہی ہے، اس منفرد سموسے کو بنانے والے نے بھی ٹویٹر اکاؤنٹ پر تصویر شیئر کی۔تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سرحد کے دونوں اطراف لوگوں کا پارہ ہائی ہو رہا ہے۔
کھانے پینے کے شوقین افراد غصے کا اظہار کر رہے ہیں تو کچھ لوگ اسے کھانے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ بریانی ایک عزت دار ڈش ہے، اس کی عزت کریں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ اس نے سموسے اور بریانی کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو چاہت فتح علی خان موسیقی کے ساتھ کرتا ہے۔عائشہ نامی صارف نے لکھا کہ ’بریانی بریانی نہ رہی سموسہ سموسہ نہ رہا‘۔احسن نے لکھا کہ ایسے لوگوں کا آخرت میں الگ سے حساب ہوگا۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے تو اسے بریانی اور سموسے دونوں کی توہین قرار دے دیا لکھا کہ ’ایسا کرنا بریانی اور سموسے، دونوں کی بے حرمتی ہے، ایسا کرنے والے کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ علمائے دین سے گزارش ہے کہ فتویٰ جاری کریں۔‘
ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ایسا کرنے والوں کو کم سے کم 14 سال کیلئے جیل میں ڈال دینا چاہئے جبکہ ایک صرف نے لکھا کہ اگر میں نے اپنے سموسے میں بریانی دکھی تو میں پولیس کو بلا لوں گی، کئی صارفین نے بریانی بھرے سموسے کو کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ایک صرف نے یہاں تک کہہ دیا کہ جس نے بھی بریانی بھرے سموسے کا آئیڈیا تخلیق کیا ہے اس پر ہمیشہ کیلئے بریانی کی پابندی ہونی چاہئے، اس بریانی بھرے سموسے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ کھانا پسند کریں گے؟ ہمیں کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
