سندھ حکومت کچے میں ڈاکو راج کے خاتمے میں ناکام کیوں؟

سوشل میڈیا پر فرنٹیئر کور کی وردی میں ملبوس اہلکار کی ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ایف سی کے صوبیدار سے اپیل کر رہا ہے کہ اس کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے تاوان ادا کیا جائے اور اسے یہاں سے نکالا جائے۔ویڈیو میں موجود اہلکار نے اپنا نام خالد بتاتا ہے جس کا تعلق ٹانک سے بتایا جاتا ہے، خالد کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اسے ضلع کشمور کے علاقے کندھ کوٹ کے قریب سے ڈاکو اغوا کر کے کچے کے علاقے میں لے آئے ہیں۔
ویڈیو بیان میں خالد کہتا ہے کہ اس پر تشدد کیا جا رہا ہے اور اسے کئی روز تک بھوکا بھی رکھا گیا ہے، وہ پولیس اور ایف سی کے صوبیدار سے اپیل کر رہا ہے کہ اس کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے تاوان ادا کیا جائے اور اسے یہاں سے نکالا جائے۔کشمور سندھ کے ان شمالی اضلاع میں سے ایک ہے جہاں امن و امان کی صورتِ حال کافی تشویش ناک ہے، چند روز قبل ہی کشمور تھانے کے سٹیشن ہیڈ آفیسر (ایس ایچ او) گل محمد مہر اور ایک پولیس اہلکار سمیت دو دیگر افراد کو بھی اغواء کر لیا گیا تھا، پولیس نے بڑے پیمانے پر آپریشن کر کے ایس ایچ او کو تو بازیاب کرا لیا تھا لیکن دیگر تاحال جرائم پیشہ افراد کی گرفت میں ہی ہیں۔
پولیس نے اس واقعے کے بعد قبائلی سردار، سردار تیغو خان تیغانی اور ان کے بیٹے کے خلاف اغواء برائے تاوان اور پولیس مقابلوں کی شقوں کے تحت ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔ تیغو خان کا شمار علاقے کے سب سے طاقتور جاگیرداروں میں ہوتا ہے۔ اور چند سال قبل انہیں پولیس افسران کی موجودگی میں ایک پروگرام میں امن کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا جس پر شہریوں نے سندھ پولیس پر تنقید بھی کی تھی۔
تیغو خان تیغانی پر پہلے بھی کئی مقدمات درج کیے جاچکے ہیں اور ان پر اس علاقے میں ڈاکوؤں اور مجرموں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔ شکاپور میں تعینات رہنے والے سابق ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تیغو خان تیغانی کے سندھ حکومت کے بعض وزرا کے ساتھ مبینہ طور پر قریبی تعلقات ہیں۔ تاہم اب تک انہیں کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوسکی ہے۔وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منگل کو میڈیا سے گفتگو میں اعتراف کیا تھا کہ کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد ایک چیلنج بن چکے ہیں جن کی سرکوبی کے لیے حکومت نے وہاں اچھی شہرت کے حامل پولیس افسران کو تعینات کیا ہے، جس پر ڈاکو اپنا ردِعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
کشمور سے تعلق رکھنے والے صحافی میر اکبر علی بھنگوار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اغوا کاروں کے جھانسے میں زیادہ تر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لوگ آتے ہیں جبکہ کچے کے علاقے میں رہنے والوں کو کاشت کاری کے لیے جرائم پیشہ افراد کو بھتہ دینا پڑتا ہے اور انکار کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی ہیں۔گزشتہ موسم بہار میں سندھ اور پنجاب پولیس کی جانب سے کچے کے علاقے میں گرینڈ آپریشن کیا گیا تھا ۔ اس آپریشن کے دوران پنجاب کے اضلاع راجن پور اور رحیم یار خان کے علاوہ سندھ کے سرحدی اضلا میں بھی کارروائیاں کی گئیں تاہم زیادہ تر مبصرین کے نزدیک اس کے مطلوبہ نتائج ابھی تک نہیں مل پائے ہیں۔
مصنف اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کا کہنا ہے کہ شمالی سندھ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کی ایک وجہ قبائلی نظام کی باقیات بھی ہے اگرچہ اس نظام کی جڑیں تاریخ میں ہیں اور یہ کافی حد تک وقت کے ساتھ کمزور تو ہوئی ہے لیکن اب بھی کہیں نہ کہیں کسی شکل میں ضرور موجود ہے۔وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکر محمد علی شیخ نے کہا کہ غیر مؤثر امن و امان کے ادارے اپنے فرائض میں ناکام دکھائی دیتے ہیں جبکہ نظامِ انصاف بھی اس ناہمواری میں برابر کا شریک ہے، جس کی ناکامی کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ سالوں بلکہ دہائیوں پر محیط

وکیل قتل کیس،سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری سےروک دیا

خاندانی دشمنیاں چلی آ رہی ہیں۔

Back to top button