رومانوی مناظرکی عسکبندی ،مادھوری کی چیخیں نکل گئیں

بالی ووڈ کے خطرناک ولن گوپال بیدی نے انکشاف کیا ہے کہ 1989 میں فلم ’’پریم پتگیا‘‘ کی شوٹنگ کے دوران جنسی چھیڑ خانی پر اداکارہ مادھوری ڈکشٹ رو پڑی تھیں، بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق گوپال بیدی المعروف رنجیت نے حال ہی میں انٹرویو میں انکشاف کیا کہ مادھوری ڈکشٹ نے ان کے ساتھ چھیڑ خانی کے مناظر شوٹ کروانے سے انکار کر دیا تھا، اس زمانے میں وہ اتنے مقبول تھے کہ بیک وقت 80 فلموں کی شوٹنگ کرواتے تھے، جس میں سے زیادہ تر فلموں میں ان کے کردار مختصر ہوتے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں زیادہ تر بُرے کرداروں کی پیش کش کی جاتی تھی، انہیں زیادہ تر ہیروئنز کا استحصال کرنے، ان کی ساڑھیاں اتارنے اور ان کے ساتھ جنسی طور پر چھیڑ خانی کے کردار دیے جاتے تھے، وہ اس طرح کے کردار ادا کر کے تنگ بھی آ چکے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اس طرح کے کرداروں کو پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرتے اور شوٹنگ کے دوران کسی بھی ہیروئن کو نامناسب انداز میں نہ چھوتے۔ اداکار نے بتایا کہ ان کے ساتھ کبھی کسی ہیروئن کو کام کرنے میں مسئلہ نہیں ہوا لیکن 1989 میں فلم پریم پرتگیا کی شوٹنگ کے دوران مادھوری ڈکشٹ نے ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا تھا، رنجیت کے مطابق عکس بندی کے دوران انہوں نے مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ چھیڑ خانی کرنی تھی لیکن اداکارہ نے شوٹنگ شروع ہوتے ہی رونا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ مناظر شوٹ کروانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ بعد ازاں جنسی چھیڑ خانی کے مناظر کو فلم کا حصہ بنایا گیا یا نہیں؟ پریم پرتگیا میں رنجیت اور مادھوری کے علاوہ متھن چکرورتی نے کردار ادا کیے تھے جب کہ دیگر اداکار بھی فلم کا حصہ تھے۔
