ٹیلی سیریز ’’کنٹریکٹر‘‘ شائقین کی توجہ کا مرکز کیسے بنی؟

عیدالفطر کے دوران نجی ٹی وی جیو کے پلیٹ فارم سے ریلیز ہونے والی ٹیلی سیریز ’’کنٹریکٹر‘‘ شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، پانچ روز کی قسطوں پر مبنی اس ٹیلی سیریز نے شائقین کو تجسس میں ڈالے رکھا لیکن اس کا اختتام خوش آئند ہوا جس کو شائقین نے کافی سراہا۔11 اپریل کو سیریز کی پہلی قسط ’ہر پل جیو‘ سے نشر ہوئی اور عید کے پانچ دن تجسس و دلچسپی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی اگرچہ اس کا عید کے تہوار سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اُمید کے دیے اور روشنی کی کرن ضرور تھی۔ سوچ کا ایک نیا زاویہ ضرور تھا۔ ایکشن سیریز ہونے کے باوجود اس میں وہ مار دھاڑ نہیں تھی جس کی کوئی منطق نہ ہو۔ اس میں اشرافیہ کا وہ سلجھا ہوا روپ دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں عام انسان کے ذہین میں سوال ہی رہتا ہے کہ یہ دولت کہاں سے آ رہی ہے اور کیسے آ رہی ہے؟دو مہذب و معزز انسان ہیں، راشد پروفیسر ہیں اور ان کی بیگم نگار نرس رہی ہیں، ان کے بیٹے صغیر کو کسی نے مار دیا تھا اور وہ دونوں اس کے قتل کا انتقام لیتے لیتے کرائے کے قاتل بن جاتے ہیں، وہ دونوں سماج سے اپنا انتقام بھی لے رہے ہیں اور دوسروں کے مقاصد بھی پورے کر رہے ہیں لیکن کئی جگہ احساس ہوتا ہے ان کا ضمیر بھی جاگ رہا ہے۔ قتل جیسا گھناؤنا کام کرنے کے باوجود ان کی باڈی لینگوئج سے بالکل شائبہ نہیں ہوتا کہ وہ جرم بھی کر سکتے ہیں۔وہ آٹھ قتل کر چکے ہیں جن میں کوئی منشیات فروش تھا، کوئی زمینوں کا قبضہ گروپ چلا رہا تھا، کوئی جعلی ادویات بنا رہا تھا، کوئی ڈارک ویب چلا رہا تھا ، کوئی انسانی اعضا کی سمگلنگ کرتا تھا۔بدر ایک مڈل مین کے طور پہ دونوں گروپس کے لیے معاونت کا کام کرتا تھا، وہ ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہے جو بہت کچھ کرنا چاہتا تھا مگر نظام کی خرابی کو سمجھ گیا تھا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ اس نظام کے خلاف جا کر وہ کوئی کام نہیں کر سکتا اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔یہ بات ابھی ایس ایچ او حماد کو سمجھ نہیں آ رہی۔ وہ بدر کو اپنا آئیڈیل آفیسر سمجھتا ہے لیکن جب اس پہ حقیقت کھلتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے کہ اس کا ہیرو تو ہیرو نکلا ہی نہیں۔وہ ابھی یہی سمجھتا ہے کہ ہیرو اور عہدہ بے بس نہیں ہو سکتے لیکن ایک کیس کی چھان بین میں اپنی تمام تر کوشیشوں کے باوجود نگاراور راشد کو گرفتار کرنے میں ناکام رہتا ہے۔یہاں سارہ پہ راز خود کھلنا شروع ہو جاتے ہیں، وہ شک میں راشد اور نگار کے پاسپورٹ کاشان کو دے دیتی ہے وہ اپنے آٹھویں ٹارگٹ کو پورا کرنے کے بعد جب بدر کے کہنے پہ ملک سے نکلنا چاہتے ہیں تو پاسپورٹ غائب ہوتے ہیں۔سارہ کاشان سے اپنی ہر بات شئیر کرتی ہے وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے باپ کا قاتل اور صغیر کا قاتل ایک ہی ہے اور اگر وہ مجرم ہیں بھی توان کو صفائی پیش کرنے کا حق تو دے۔سارہ ان کو معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتی لیکن اس کو ان سے محبت بھی ہے کہ انہوں نے اسے بیٹی کا پیار دیا ہے اسے کسک یہ ہے کہ بیٹی بنا کر وہ اسے ایک بار پھر یتیم و لاوارث کر رہے ہیں۔ نگار اورراشد بھیس بدل کر ایک بار پھر گھر آ جاتے ہیں کہ سارہ سے معافی مانگ سکیں مگر سارا اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے لیکن کھل کر رونے کے بعد انہیں معاف کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ایک خوشگوار اختتام کے ساتھ ٹیلی فلم جس نے سانس سکھا رکھے تھے، امید کی کرن بنتی ہے۔ دولت ، عہدوں اور روشنیوں کے پیچھے چھپی دنیا کی عمدہ کہانی ہے جس میں جذباتیت اورمنطق مقابل دکھائی دیتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button