جھانوی کپور کی نئی فلم ’’بوال‘‘ تنقید کی زد میں کیوں آ گئی؟

’’ہولو کاسٹ‘‘ کو استعمال کرنے پر بھارتی اداکارہ جھانوی کپور اور ورون دھون کی نئی فلم ’’بوال‘‘ عالمی سطح پر تنقید کی زد میں آ گئی ہے بلکہ ایک یہودی تنظیم نے ایمازون سے اس کو فلم کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے جبکہ فلم کی کاسٹ اور فلمساز نے تنقید کو غیرضروری قرار دیا ہے۔سائمن ویزنتھل سینٹر کا کہنا ہے کہ یہ فلم لاکھوں افراد کے مصائب اور منظّم قتل کو غیر اہم‘ قرار دے رہی ہے، جس طرح اس فلم میں ہولوکاسٹ کا استعمال کیا گیا ہے انڈیا میں بہت سے لوگوں نے اس فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم اس فلم میں کام کرنے والے اداکاروں اور ہدایتکار نے تنقید کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو ایمازون پرائم پر ریلیز ہونے والی اس فلم کے بعد سے سینما کے ناقدین اور ناظرین نے کچھ ایسے مناظر اور مکالموں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو مرکزی کردار کی محبت کی کہانی اور ہولوکاسٹ کے درمیان مماثلت رکھتے ہیں۔فلم میں گیس چیمبر کے حوالے سے ایک خیالی منظر شامل ہے اور اس میں نازی رہنما ایڈولف ہٹلر اور آشوٹز ڈیتھ کیمپس کو استعاروں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، اس فلم میں مشہور اداکار ورون دھون اور جھانوی کپور نے نوبیاہتا جوڑے کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جو یورپ کا سفر کرتے ہیں، وہ تاریخ کے استاد ہیں اور ان کا مقصد اپنے طالب علموں کو دوسری جنگ عظیم پڑھانے کے لیے انسٹا گرام ریلز بنانا ہے، بالی وڈ فلموں کی کارکردگی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے بوال کو کمرشل ہٹ قرار دیا ہے۔ایک منظر میں انسانی لالچ کو بیان کرنے کے لیے استعارے کے طور پر ہٹلر کو استعمال کیا گیا ہے، جس میں جھانوی کپور نے جو کردار ادا کیا ہے وہ یہ کہتا ہے ’ہم سب ہٹلر کی طرح ہیں ، کیا ہم نہیں ہیں؟‘ ایک اور مثال میں وہ کہتی ہیں کہ ’ہر رشتہ ان کے آشوٹز سے گزرتا ہے‘ نازی جرمنی کے سب سے بڑے ڈیتھ کیمپ کا حوالہ تھا جہاں تقریباً دس لاکھ یہودی مارے گئے تھے۔ کیمپ میں ہونے والی ہولناکیوں کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہیرو اور ہیروئن کو ایک گیس چیمبر کے اندر دکھایا گیا ہے، جہاں ان کے ارد گرد ایسے لوگ موجود ہیں جو چیخ رہے ہیں اوران کا دم گھٹ رہا ہے، یہودی انسانی حقوق کی تنظیم سائمن ویزنتھل سینٹر نے کہا کہ آشوٹز کو استعارے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ ’انسان کی برائی کی صلاحیت کی بدترین مثال‘ ہے۔اس کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر فلم ساز کا مقصد نازی ڈیتھ کیمپ میں مبینہ طور پر ایک فینٹسی سین کی عکس بندی کر کے اپنی فلم کے لیے تشہیر حاصل کرنا تھا تو وہ اس میں کامیاب ہو گئے ہیں۔بیان میں ایمازون پرائم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ فلم کو ’مونیٹائز کرنا بند‘ کرے اور اسے فوری طور پر اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے، اگرچہ فلم سازوں نے ابھی تک اس بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن دھون نے فلم کے پروموشنل ٹور کے دوران ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ لوگ ہندی فلموں میں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اعتراض کرتے ہیں لیکن انگریزی فلموں کو زیادہ چھوٹ دیتے ہیں۔ہدایتکار نتیش تیواری نے کہا تھا کہ فلموں کو ’میگنفائنگ گلاس‘ (بہت زیادہ تنقیدی نگاہ) کے ساتھ نہیں دیکھا جانا

مشترکہ مفادات کونسل الیکشن اگلے سال تک ملتوی کر دے گی؟

چاہئے کیونکہ اس طرح آپ کو ہر کام میں مسائل دکھائی دیں گے۔

Back to top button