پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ لیکر کن ممالک کے قوانین توڑے؟
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف پر فارن فنڈنگ کے الزامات درست قرار دینے کے علاوہ یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ لیتے ہوئے کئی غیر ممالک کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں پی ٹی آئی کی جانب سے توڑے گے غیر ملکی قوانین کا تفصیلی حوالہ دیا گیا یے۔ الیکشن کمیشن نے متحدہ عرب امارات کے فنڈنگ یا چیرٹی سے متعلق قوانین بارے بتایا ہے کہ یو اے ای میں خیراتی اور انسانی امداد کی تنظیمیں کو چندہ اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں ہے اور وہاں کا قانون کسی شخص کو چندہ اکٹھا کرنے کے لیے کسی قسم کی مہم چلانے یا تقریب منعقد کرنے سے منع کرتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق ابراج گروپ کے عارف نقوی نے برطانیہ کے ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کے اکاؤنٹس سے 21 لاکھ امریکی ڈالرز پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں بھیجے تھے۔ کیمن آئی لینڈ میں قائم ووٹن لیمٹڈ نے یہ رقم دبئی کے اکاؤنٹس سے بھیجی تھی۔ عارف نقوی کی جانب سے فروری 2022 میں الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں اقرار کیا گیا ہے کہ 21 لاکھ امریکی ڈالرز دبئی سے بھیجے گے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق، عارف نقوی نے جو بیان جمع کروایا اس میں متحدہ عرب امارات کے قوانین کی خلاف ورزی کو تسلیم کیا گیا ہے لہذا تحریک انصاف نے 21 لاکھ ڈالرز کی جو ڈونیشن قبول کی وہ بھی پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وصول کی۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں ہی قائم ایک اور کمپنی برسٹل انجینیئرنگ سروسز نے بھی تقریباً 50 ہزار ڈالرز پی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں بھیجے۔ اس کا اعتراف کمپنی کے مالک ماجد بشیر نے کمیشن کے پاس جمع اپنے بیان حلفی میں کیا۔ یاد رہے کہ دنیا میں 180 ممالک میں سے 126 نے ایسے قوانین بنائے ہیں جن کے تحت سیاسی جماعتوں کو کمپنیاں اور غیرملکی ادارے چندہ نہیں دے سکتے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے ایسے چندے ممنوع قرار دیے ہیں۔ امریکہ کے وفاقی قانون کا حوالے دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ غیر ملکیوں پر بھی پابندی ہے کہ وہ سیاسی جماعتون کو چندے نہیں دے سکتے۔ فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی اجازت سے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے دو کمپنیاں ایجنٹوں کے ذریعے قائم کی گئیں۔
خیال رہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق سیاسی جماعتیں ’افراد‘ سے تو چندہ لے سکتی ہیں لیکن کمپنیوں سے نہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی نے 351 کمپنیوں اور 34 غیرملکیوں سے چندہ وصول کیا جو کہ کہ غیر قانونی ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے دو لاکھ 79 ہزار امریکی ڈالرز اور 35 لاکھ پاکستانی روپوں میں چندہ وصول کیا۔ تاہم کینیڈا کا فیڈرل اکاؤنٹبلٹی ایکٹ مکمل طور پر کارپوریشنز، ٹریڈ یونینز اور ایسوسی ایشنز کی جانب سے انتخابی مدت کے دوران کسی رجسٹرڈ پارٹی کے امیدواروں کو چندہ دینے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن بعد میں سالانہ کھاتے جمع نہ کروانے پر تحلیل کر دی گئی تھی۔
حنا ربانی کھر کو سٹائلش سیاستدان کیوں کہا جاتا ہے؟
اسی طرح تحریک انصاف نے برطانیہ میں بھی 2010 میں پی ٹی آئی یوکے کے نام سے ایک کمپنی کا اندراج کروایا، جس نے چندہ جمع کر کے پارٹی اکاؤنٹس میں بھیجا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے انگلینڈ اینڈ ویلز کے چیرٹی کمیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بھی خیراتی ادارہ، جو کسی سیاسی جماعت کے اس ملک یا بیرون ملک میں مفادات کو بڑھانے کے لیے استعمال ہو، جو کسی قانون میں ترمیم یا تبدیلی یا پالیسی فیصلوں میں تبدیلی چاہتی ہو سیاسی مقصد کے لیے وجود نہیں رکھ سکتا۔ کوئی چیریٹی کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مالی معاونت نہیں کرسکتی۔‘ اس بنیاد پر کمیشن کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ برطانوی قانون کے تحت پی ٹی آئی وہاں ایک پبلک لیمٹڈ کمپنی ہے اور خیراتی ادارہ نہیں۔ تاہم وہاں کا قانون دونوں قسم کی کمپنیوں کو سیاسی فنڈنگ کی اجازت نہیں دیتا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کہ صرف ایک رجسٹرڈ کمپنی ہی شیئرہولڈرز کی منظوری کے بعد کسی سیاسی جماعت کو پیسے دینے کی اجازت دے سکتی ہے۔ پھر بھی پاکستانی قانون ایسی فنڈنگ کو وصول کرنے سے منع کرتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی نے 2008 سے 2013 تک برطانیہ سے سات لاکھ 92 ہزار پاؤنڈز کے فنڈز وصول کیے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے برطانیہ کے علاوہ سنگاپور سے بھی فنڈز حاصل کیے۔ ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری ناصر عزیز اور امریکی میں مقیم بھارتی نژاد تاجر خاتون رومیتا شیٹھی نے 27 ہزار ڈالر بھیجے۔ مس رومیتا کے 13 ہزار 700 ڈالرز پاکستانی قانون کے مطابق غیرقانونی ہیں۔
