آئی ایس آئی میں اہم ترین تبادلوں اور تقرریوں کا مطلب کیا ہے؟
معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پشاور سے ایک ایسی ٹرانسفر ہوئی ہے جس کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی ‘سیم پیج’ پھٹ گیا ہے، اسکے علاوہ ایک اہم ترین ایجنسی کے چار افسران کو بھی ٹرانسفر کر دیا گیا ہے جس کے بعد ندیم بھائی نے معاملات کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈویلپمینٹس فارن فنڈنگ کیس میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے عمران خان کے لیے کافی پریشان کن ہیں۔
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ دنوں آئی ایس آئی میں اہم ترین سمجھے جانے والے ڈائریکٹر جنرل ‘C’ کے عہدے پر میجر جنرل فیصل نصیر کو تعینات کر دیا گیا یے جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے فیض دلھڑے کا زور ٹوٹ جائے گا اور تقسیم کا تائثر بھی ختم ہوجائے گا۔ میجر جنرل فیصل نصیر کو میجر جنرل کاشف ظفر کی جگہ لگایا گیا ہے جو سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے زمانے سے یہاں تعینات تھے اور اب بھی ان کے ساتھ رابطے میں تھے. اس سے پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بھی کور کمانڈر پشاور کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر بہاولپور تعینات کر دیا گیا تھا۔ میجر جنرل کاشف ظفر کو اب ڈی جی ‘P’ لگا دیا گیا یے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں بریگیڈئیر سے ترقی پانے والے میجر جنرل فہیم کو آئی ایس آئی میں ڈی جی ‘F’ لگا دیا گیا یے۔ بریگیڈئیر سے ترقی پانے والے میجر جنرل عدیل کو آئی ایس آئی میں ڈی جی ‘T’ لگا دیا گیا ہے جبکہ میجر جنرل شہباز تبسم کو ڈی جی ‘X’ لگا دیا گیا ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر ملٹری انٹیلی جنس میں بھی تعینات رہے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ الیکشن کمیشن میں پچھلے آٹھ برس سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آچکا ہے اور عمران خان چور ثابت ہو چکے ہیں۔ اتحادی حکومت آہستہ معاملات کا کنٹرول حاصل کر رہی ہے۔ امریکی ڈالر کے جعلی پر کاٹ دیے گے ہیں، فیض یافتگان صحافی ملک چھوڑ گئے ہیں، شہباز گل بغاوت پر اکساتے ہوئے پکڑے گئے ہیں، جس کے بعد کچھ اور لوگ بھی پکڑے جائیں گے، یعنی سادہ لفظوں میں اب ہواؤں کا رخ بدل گیا ہے۔ حماد غزنوی کے بقول ذوالفقار علی بھٹو کی مقبولیت اور ذہانت نے انہیں مسندِ اقتدار پر فائز کیا اور انہی وظائف کے سبب وہ تختہ دار پر بھی پہنچے، نواز شریف نے نعرہ لگایا ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘، عوام نے انہیں سرآنکھوں پر بٹھا لیا، لیکن پھر اسی نظریے نے انہیں جیل اور جلاوطنی کے لق ودق صحرا میں لا کر چھوڑ دیا، سوال یہ ہے کہ کیا آج ایسا ہی کچھ معاملہ عمران خان کے ساتھ بھی تو درپیش تو نہیں ہے؟
کیا خان صاحب کی سب سے بڑی خوبی ان کی گردن کا طوق بننے جا رہی ہے؟ عمران خان کے جس جارحانہ مزاج نے انہیں سیاست کے بامِ عروج پر پہنچا دیا تھا، کیا اسی ذہنی فضا میں انہوں نے سوئے ہوئے شیر کی دم پر چٹکی تو نہیں کاٹ لی ہے؟
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ریاست کے تمام اداروں نے مل کر، دن دہاڑے عمران کی سیاست کی ڈولی کو کاندھا دیا، خان صاحب کا برائیڈل میک اَپ کیا گیا، ہر داغ دھبے کو کریم سے چھپایا گیا، سولہ سنگھار کئے گئے.
عرقِ گلاب سے غسل دیا گیا، اور جب دلہن تیار ہوئی تو باوردی سکھیوں، سہیلیوں نے اسکی بلائیں لیں اور یک زبان ہو کر گنگنانا شروع کر دیا ’کِنا سوہنا تینوں رب نے بنایا‘۔ پھر میڈیا کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر حکم صادر کیا گیا کہ اب اس تصویر کو بیوٹی فلٹر لگایا جائے، کوئی کمی رہ گئی ہے تو اسے بھی دور کیا جائے۔
گئے۔ بلاشبہ عمران خان سے زیادہ دُھن کا پکا سیاست دان ہمارے کوچہ سیاست سے نہیں گزرا۔ خان صاحب کی جارحیت بے مثال ہے، جب وہ حکومت سے نکلے تو ان کے یہ ہنر اور بھی ابھر کر سامنے آئے، انہوں نے ایسے مقدس گریبانوں پر ہاتھ ڈالا جو اب تک سویلینز کی پہنچ سے باہر تھے، انہوں نے اپنے محسن افراد اور اداروں کو پچھلے قدم پر دھکیل دیا، ان کا ہر سیاسی مخالف کرپٹ قرار پایا اور ان سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والا ہر صحافی ’لفافہ‘ کہلایا۔ بے شک، عمران خان کی یلغار حیرت انگیز تھی۔
عمران نے مونس کو کرپٹ قرار دے کر وزیر بنانے سے انکار کیا
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ دوسری طرف اپنی انتہائی بے سروپا حکومت کے خاتمے کے بعد عمران نے بیرونی سازش کا افسانہ گھڑا جو ان کے حامیوں نے بہ خوشی اپنا لیا، اور گلیوں میں ’ہم کوئی بھکاری ہیں، ہم کوئی غلام ہیں‘ جیسے تصوراتی نعرے گونجنے لگے۔ پھر ضمنی انتخاب کے نتائج سے تو عمران یکسر بپھر گئے، اور پنجاب میں پرویز الٰہی کی حکومت آنے سے انہیں نئے الیکشن کی منزل بالکل سامنے نظر آنے لگی۔ لیکن جارح مزاج جب کامیابیاں سمیٹ رہا ہوتا ہے تو اکثر اسے یہ سمجھ نہیں آتا کہ رُکنا کہاں ہے، ہٹلر نے بھی یہی غلطی کی تھی، 1941 کی سردیوں سے پہلے ماسکو پر قبضہ کرنے کے بجائے جرمن فوج کو یوکرین اور اسٹالن گراڈ کی طرف موڑ دیا، یہ ایک تاریخ ساز غلطی تھی۔ عمران بھی نہایت کامیابی سے یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ادارے کے نہیں بس ایک آدھ فرد کے خلاف ہیں، لیکن پھر انہیں اور ان کے ٹائیگرز کو سمجھ نہیں آئی کہ کہاں رُکنا ہے، کہاں پر فرد ختم ہو تا ہے اور ادارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے سپہ سالار بھی یہ سوچ کر برداشت کر رہے تھے کہ ان کے کسی بھی ردِ عمل کو ذاتی لڑائی سمجھا جائے گا۔ لیکن جب پاک فوج کے افسر ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہوئے اور پی ٹی آئی کا منظم سوشل میڈیا بے لگام ہوا تو فوج کے ضبط کے بند ٹوٹ گئے، پھر فیصلہ ہو گیا کہ اب اس فاشزم کو روکنا ہو گا ورنہ یہ فوج کے ادارے کو بھی بہا کر لے جائے گا۔
بقول حماد غزنوی، کچھ اقدامات واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ عمران کو آخرِ کار مسندِ دلبری سے معزول کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آٹھ سال بعد ممنوعہ فنڈنگ کیس کا جو فیصلہ سنایا ہے وہ عمران خان کے لئے دلدل ہے، وہ اس سے نکلنے کی جتنی کوشش کریں گے، اس میں اتنا ہی دھنستے چلے جائیں گے۔
