نیوٹرلز اپنی نیوٹریلیٹی ختم کرنے پر مجبور کیوں ہوئے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ لاڈلے نے جنرل سرفراز احمد کی شہادت کی آڑ میں سوشل میڈیا کے ذریعے گندی سیاست کھیلی اور اپنے کچھ سابق وزرا کے مشورے سے فوج میں پھوٹ ڈلوانے کی خاطر شہباز گل کے ذریعے منصوبہ بندی سے فوج کے نچلے رینک کے افسران کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی ناپاک کوشش کی۔ چنانچہ نیوٹرلز کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے اپنی نیوٹریلیٹی ختم کردی، لیکن عمران کے لئے نہیں بلکہ اپنے ادارے کو بچانے کے لئے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان بڑے چالاک اور شاطر شخص ہیں کیونکہ وہ میکاولی کے پیروکار ہیں جب کہ نیوٹرلز طاقتور اور منظم ہونے کے باجود سیاست، صحافت اور سفارت کی چالوں کو نہیں سمجھتے۔ یہ تینوں گرے grey areas ایریاز کے شعبے ہیں اور یہاں کوئی بات بلیک اینڈ وائٹ میں نہیں ہوتی جب کہ نیوٹرلز کی تربیت بلیک اینڈ وائٹ میں کی جاتی ہے۔ ان کی زندگی منظم ہوتی ہے۔ وہ زیادہ محنت کرتے ہیں، زیادہ پڑھتے اور لکھتے ہیں لیکن بلیک اینڈ وائٹ انداز میں سوچتے ہیں۔ ڈسپلنڈ فورس ہونے کی وجہ سے وہ رائے پہلے بناتے ہیں اور پھر لکھتے پڑھتے وقت بھی اپنی رائے کے لئے دلائل تلاش کرتے ہیں، نہ کہ دلائل سن کر رائے قائم کر لیں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ نیوٹرلز کے سامنے خود کو نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ایک ایسی متبادل فورس کے طور پر پیش کیا جو پاکستان کو کرپشن سے پاک کردے گی۔ دو خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری ختم کردے گی اور عالمی برادری کو بھی پاکستان کے قدموں میں لا بٹھائےگی۔ چنانچہ 2010 سے نیوٹرلز، عمران خان کی محبت اور زرداری اور نواز شریف کی مخالفت میں غیر جانبدار ہو گئے۔ انہوں نے اپنے حلف کی بھی خلاف ورزی کی اور عمران کو لیڈر بنانے کے لئے غیر آئینی کردار بھی ادا کیا۔ پہلے آصف زرداری کو ملک دشمن ثابت کیا گیا اور اس عمل میں نواز شریف کو استعمال کیا گیا اور پھر نواز شریف کی باری آئی تو اس میں پیپلزپارٹی کو استعمال کیا گیا۔ جنرل ظہیر الاسلام نے طاہرالقادری کو ساتھ ملاکر عمران سے ان کے خلاف دھرنے دلوائے۔ گزشتہ برسوں میں نیوٹرلز نے عمران کے ہر گناہ سے صرف نظر کیا اور ان کو سزا سے بھی بچائے رکھا جب کہ ان کے سیاسی مخالفین کے ہر گناہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا تاکہ عمران خان کے حق میں لوگوں کی ذہن سازی کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کو بھی پوری طرح استعمال کیا گیا۔ عدلیہ کے وقار کو دائو پر لگا کر اس سے نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف فیصلے کروائے گئے جب کہ دوسری طرف عمران خان کو جسٹس ثاقب نثار سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دلوایا گیا جو اب جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔

سی آئی اے نے القاعدہ چیف الظواہری کو کابل میں کیسے ڈھونڈا؟

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ میں نے 2013 میں پہلی مرتبہ عمران کو لاڈلے کا خطاب دیا تھا لیکن یہ توقع مجھے بھی نہیں تھی کہ وہ اس قدر لاڈلے بن جائیں گے کہ انکے پارٹی فنڈنگ کیس کے فیصلے کو برسوں تک لٹکا دیا جائے گا۔ ان کے سول نافرمانی کے اعلانات اور پی ٹی وی پر حملے تک کے جرائم سے چشم پوشی اختیار کی جائے گی اور ان کی کابینہ میں مغربی ایجنٹوں کو برداشت کیا جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ نے عمران کو اقتدار میں لانے کی خاطر تو دشمنیاں مول لی ہیں، لیکن وزیراعظم بنوانے کے بعد بھی نیوٹرلز نے اسکے وہ وہ نخرے اور لاڈ اٹھائے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یوں لاڈلے اور لاڈلے کے لاڈلوں شہباز گل، شبلی فراز، فواد چوہدری، فیصل جاوید، اعظم خان اور دیگر کے نخرے بھی حد سے بڑھنے لگے۔ اس دوران پی ٹی آئی نے کرپشن کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ پی ٹی آئی نے کے پی میں نااہلی کے نئی ریکارڈ بناتے ہوئے ایم ایم اے کو بھی مات دی اور نیوٹرلز کے ساتھ چھیڑخانی میں مسلم لیگ (ن) کو مات دی۔ نیشنل سیکورٹی کے فیصلے بنی گالہ میں جادو ٹونے اور خوابوں سے ہونے لگے اور لاڈلا الٹا نیوٹرلز کے ادارے میں گھس کر اپنی من مانی کرنے لگا۔ دوسری طرف اس نے ملکی معیشت بھی تباہ کردی اور اپنی ناقص سفارت کاری سے پاکستان کو ہر دوست ملک سے محروم کردیا۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ جب عمران خان کی ناکامیوں کی وجہ سے فوج کو گالی پڑنے لگی تو اسکی قیادت نے تنگ آ کر سیاست سے لاتعلق ہونے اور نیوٹرل ہوتے ہوئی خود کو اپنے آئینی کردار تک محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن لاڈلے کو فوج کی یہ ادا پسند نہ آئی۔ اس نے اپنے محسنوں سے معافی تلافی کرنے کی بجائے بلیک میلنگ اور دبائو کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی سازش کے جھوٹے بیانیے کا اصل مقصد بھی ریاست اور فوج کو آزمائش سے دوچار کرنا تھا۔ سکیم صافی کے بقول ماضی میں بھی کئی سیاسی جماعتیں اور پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں فوج پر تنقید کرتی رہی ہیں لیکن وہ اسے اسکے آئینی رول تک محدود کرنے کے لیے ہوتی تھی جبکہ عمران کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ فوج کی قیادت نیوٹرل بننے کی بجائے مجھے سپورٹ کیوں نہیں کرتی؟ اپنے جھوٹے بیانیے کے زور پر لاڈلے نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو یہ یقین دلوایا دیا کہ اسے سازش کے تحت حکومت سے نکالا گیا حالانکہ سچ یہ ہے کہ اسے ایک سازش کے تحت اقتدار میں لایا گیا تھا۔

صافی کا کہنا یے کہ دوسری طرف لاڈلے کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اس کی متبادل جو حکومت آئی وہ چوں چوں کا مربہ تھی۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی اپنی بندر بانٹ میں لگی رہیں۔ ان کی نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ آج تک صوبوں کے گورنر ہی نہیں لگا سکی اور نہ ہی کوئی بیانیہ بنا سکی۔ شہباز شریف کو مولانا ایک طرف کھینچتے ہیں تو زرداری صاحب دوسری طرف، اپنی پارٹی کے لوگ تیسری طرف اور بیوروکریسی چوتھی طرف جس وجہ سے ان کی قوت فیصلہ ہی مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف نیوٹرلز، واقعی نیوٹرل ہو گئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت جانے، عمران جانے، نیب جانے اور عدالت جانے، جب کہ حکومت اس انتظار میں بیٹھی تھی کہ ان کے لئے بھی اسی طرح مسائل حل کئے جائیں جس طرح لاڈلے کیلئے کئے جاتے تھے۔ اس صورتِ حال سے لاڈلے کو اور حوصلہ ملتا تھا۔ عدلیہ میں ان کی سپورٹ اور اداروں میں بعض لاڈلوں کی درپردہ ہلہ شیری سے ان کا حوصلہ اتنا بڑھا کہ جنرل سرفراز احمد کی شہادت کی آڑ میں سوشل میڈیا کے ذریعے گندی سیاست کھیلی گئی اور بنی گالہ کے کچھ سابق وزرا کے مشورے سے فوج میں پھوٹ ڈالنے کے لئے شہباز گل سے منصوبہ بندی کے ساتھ ایسا بیان دلوایا گیا کہ جس میں نچلے رینک کے لوگوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔ چنانچہ نیوٹرلز کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے اپنی نیوٹریلیٹی ختم کردی، لیکن عمران کے لئے نہیں بلکہ اپنے ادارے کو بچانے کے لئے۔ جس کا آغاز شہباز گل سے ہو چکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ نیوٹرلز کس حد تک نیوٹرل بنتے ہیں اور کس حد تک متحرک ہوتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے متحرک ہونے کی صورت میں عمران خان کے ساتھ کون کون کھڑا رہتا ہے؟

Back to top button