مولا ب…جٹ

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پچھلے ہفتے امریکا ایران معاہدہ بھی ہو گیا، بجٹ بھی آ گیا، یعنی قوم عزت اور خفت کی گنگا جمنا میں ڈوبتی ابھرتی رہی، بلا شبہ دنیا کی نظروں میں پاکستان کی توقیر میں اضافہ ہوا، اور بے شک پاکستانی عوام کی نگاہ میں شب کی سیاہی مزید گہری ہوئی ہے۔

مدت ہوئی عوام بجٹ سے خیر کی توقع باندھنا چھوڑ چکے ہیں، بس دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ مزید کتنا شر پھیلے گا، کتنے کوڑے برداشت کرنا ہوں گے، اور کوڑے بھی اب بجٹ کے پابند نہیں رہے، وہ سال بھر برستے ہی رہتے ہیں، بلکہ یوں کہیے کہ ہر 15 دن بعد پٹرول کی قیمتوں کے ساتھ چھیڑ خانی کی جاتی ہے اور ایذا کا باب وا ہو جاتا ہے، پٹرول کے ساتھ ہر ضرورتِ زندگی مہنگی ہوتی ہے، بالخصوص آب و دانہ، اشیائے خور و نوش، یعنی زندہ رہنے کی بنیادی ترین شرائط سخت ہو جاتی ہیں۔ اب پٹرول کا قصہ سن لیں۔ بجٹ کے ساتھ ہی "ایک ہفتے” کیلئےپٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اوسطاً 3 روپے کی تخفیف کی گئی، جب کہ مٹی کا تیل مہنگا کر کے حساب برابر کر دیا گیا۔ سیدھی بات ہے، پٹرول کی قیمت قبل از ایران امریکا جنگ کی سطح پر آ جائے تو ہم حکومت کیلئے تالیاں بجا دیں گے، ورنہ یہ اعداد و شمار مکر کے باب میں رقم ہوتے چلے جائینگے۔ اس حساب سے پٹرول اب بھی لگ بھگ 110 روپے فی لٹر مہنگا ہے۔ مگر پٹرول کے ضمن میں شعبدہ گروں کے مستقبل کے ارادے مزید جان لیوا نظر آتے ہیں۔ اگلے سال حکومت پٹرول ٹیکس کی مد میں1. 7 کھرب روپے یعنی پچھلے سال سے 27 فی صد زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ پٹرولیم ڈویژن نے ایک کھرب مزید ٹیکس ہدف کا مشورہ دیا تھا مگر حکومت نے عوام سے "شفقت” کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے1. 7 کھرب تک بڑھا دیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ انکم ٹیکس سے ہٹ کر پٹرول ٹیکس حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اور پھر ذریعہ بھی ایسا جس میں صوبوں کو حصہ نہیں دینا پڑتا۔ اس میں کسی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ پٹرول پر ٹیکس کا بوجھ معاشرے کے پچھڑے ہوئے طبقات امراء سے زیادہ اٹھاتے ہیں۔ یہ ٹیکس کی غالباً سب سے زیادہ مکروہ صورت ہے۔

خطِ غربت کے اِدھر اب کون کون ہے؟ چند شہروں کی کچھ بستیوں کے مکین ہی رہ گئے ہیں جن کا پُرتعیش طرزِ حیات دکھا کر کئی دوست پوچھتے ہیں "کون سی غربت، کہاں کی غربت۔” سچ یہ ہے کہ یہ بستیاں سراب ہیں۔ پاکستان کہیں اور بستا ہے، نہتے پاکستانی کسی اور حال میں ہیں۔ جن پیمانوں سے خطِ غربت کو ماپا جاتا ہے، ان کا مقصد ہی اعداد و شمار کو چھپانا ہوتا ہے، اور انکے مطابق بھی ہر تیسرا پاکستانی قعرِ افلاس میں گر چکا ہے۔ جب کہ حقیقتِ حال اس سے کہیں ابتر ہے، کہیں زیادہ ابتر۔ بجٹ میں تمام سبسڈیز کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اور یہ سبسڈیزمیرے اور آپ کیلئے نہیں ہیں، بجٹ بنانے والے طاقت ور طبقات کیلئے ہیں۔ یعنی وہی چال بے ڈھنگی، افتادگانِ خاک کی پھٹی ہوئی جیبوں سے بچے کھچے سکے نکال کر ایک دفعہ پھر اشرافیہ میں بانٹ دیے جائیں گے۔ جس دن یہ مراعات ختم ہوں گی ہم حکومت و ریاست کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کریں گے۔ فی الحال، ہم اس منزل سے بہت دور ہیں۔پراپرٹی سیکٹر کیلئے موجودہ بجٹ میں کچھ مراعات تجویز کی گئی ہیں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان اور متعلقہ افراد کو حکومت کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ عوام کا اس معاملے سے کم کم تعلق ہے جنہوں نے زندگی میں ایک آدھ بار ہی اس عمل میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر سے متصل درجنوں صنعتیں اس کاروباری تحرک کے ثمرات سمیٹتی ہیں۔ اور پھر کبھی نہ کبھی عوام کی بھی باری آ جاتی ہے۔ ڈاکٹر محبوب الحق صاحب سے 60 کی دہائی میں ٹرکل ڈاؤن اکانومی کا فلسفہ سنتے سنتے ہم اس حال تک آ پہنچے ہیں، نہ بجٹ بنانے والوں کی دلیل بدلی نہ عوام کی حالت۔ فروعی بحثیں چھوڑ کر، سیدھی بات یہ ہے کہ سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کیلئے ترقیاتی بجٹ میں قریباً 25 فی صد رقم کم کر دی گئی ہے، یعنی عوام کی فلاح کیلئے رقم گھٹا دی گئی ہے، 650ارب کے مزید ٹیکس عوام کو برداشت کرنا ہونگے، باقی سب خیریت ہے! صنعت کار تو پریس کانفرنسوں کے ذریعے بجٹ کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کر چکے، اب زراعت کے حالات بھی سن لیجیے۔ جب بجٹ آیا تو ہم چونیاں کے قریب ایک گاؤں ’’کھوکھر اشرف‘‘ میں کاشتکاروں کے درمیان موجود تھے۔ ہم نے اپنے میزبانوں علی رضا کھوکھر اور راشد کھوکھر صاحبان سے بجٹ پر رائے مانگی تو وہ شکوے سے یوں پُر نکلے، راگ سے جیسے باجا۔ ہم نے کسان دوست پنجاب حکومت کے جتنے اشتہار دیکھ رکھے تھے ان میں مذکور سہولتوں کا تذکرہ کیا مگر وہ دوست بگڑتے ہی گئے اور دشنام دہی کے دھانے تک آن پہنچے۔ کہنے لگے بجٹ کرتبیوں نے بنایا ہے، ہماری حالت دیکھیں۔ انہوں نے کھاد کی بوری کی ہوش ربا قیمت سے ہر متعلقہ حکومتی محکمے کی کرپشن تک کےقصے سنائے، مگر صرف ایک منظر دیکھ لیجیے۔ وہ ہمیں ایک قطعہ اراضی پر لے گئے جہاں آلو کاشت کیے گئے تھے۔ بتانے لگے کہ آلو کا ریٹ 250روپے من لگا تھا، فصل تیار ہوئی تو یونہی چھوڑ دی گئی کیوں کہ فصل اتارنے میں جتنی رقم لگتی تھی اس میں نقصان ہو رہا تھا، لہٰذا اب پکی ہوئی فصل پر ہی ہل چلایا جا رہا ہے ۔ یہ ایک دل خراش منظر تھا۔ میزبانوں نے یہ بھی بتایا کہ انکا تعلق حکمران جماعت سے ہے، اور یہ بھی بتایا کہ یہاں کسانوں میں ’’ہن تے پارٹی دا کوئی حال نئیں۔‘‘

 

Back to top button