جب بھارتی طیارہ ہائی جیک کیا گیا

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
جنرل پرویز مشرف کے عنان اقتدار سنبھالتے ہی ایک بھارتی مسافر طیارے کو ہائی جیک کرکے افغانستان لے جایا گیا ۔اس واقعہ نے خطے کے مستقبل پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے۔انڈین ایئر لائن کی پرواز IC-814نے کھٹمنڈو ایئر پورٹ سے 24دسمبر 1999ء کو اُڑان بھری تو اس کی منزل بھارتی شہر دہلی تھا۔ایئر بس 300طیارے میں 178مسافر اور پائلٹ سمیت عملے کے 12افراد موجود تھے۔پائلٹ دیوی شرن نے چائے مانگی، چیف اسٹیورڈ انیل شرما چائے دیکر جیسے ہی کاک پٹ سے باہر نکلے انکے پیچھے دونوں طرف سے دو نقاب پوش نمودار ہوئے جنکے ایک ہاتھ میں گرنیڈ اور دوسرے ہاتھ میں پسٹل تھا۔اس سے پہلے کی انیل شرما کچھ سمجھ پاتے ،ایک شخص نے کاک پٹ میں داخل ہوکر پائلٹ کو یرغمال بنایا اور دوسرے شخص نے دیگر تین ساتھیوں کے ہمراہ مسافروں کو دھمکانا شروع کردیا۔بعد ازاںانیل شرما نے اپنی یادداشتوں کو کتابی صورت میں قلمبند کیا جبکہ فلائٹ انجینئرAnil k Jaggiaنے بھی ہائی جیکنگ کی کہانی کتابی شکل میں شائع کی۔
بھارتی مسافر جہاز IC-814جو بھارت کی فضائی حدود میں داخل ہوچکا تھا ،اسے ہائی جیک کیا جا چکا تھا۔چند مسافروں نے اسے کرسمس کے موقع پر پرینک سمجھا مگر جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔پانچ ہائی جیکرز جنکے کوڈ نیم چیف،برگر،ڈاکٹر،بھولا اور شاکر تھے ،چاہتےتھےکہ جہاز کولاہور ایئرپورٹ لے جایا جائے۔کیپٹن دیوی شرن نے بتایا کہ ایندھن کم ہونے کی وجہ سے طیارے کو لاہور نہیں لے جایا جا سکتا۔’’برگر‘‘جسکی شناخت بعد ازاںSAقاضی کے نام سے ہوئی۔اس نے پوچھا،تمہارا متبادل روٹ کیا ہے؟پائلٹ کو بتانا پڑا کہ اس کا آلٹرنیٹ روٹ بمبئی ہے اور اس کا مطلب تھا کہ ایندھن کا کوئی مسئلہ نہیں۔’’برگر‘‘ کو نہ صرف ہوابازی سے متعلق تکنیکی معلومات حاصل تھیں بلکہ اس نے جہاز اُڑانے کی ٹریننگ بھی لی ہوئی تھی۔
پاکستان اس معاملے میں نہیں اُلجھنا چاہتا تھاچنانچہ بھارتی طیارے کو لاہور لینڈ کرنے کی اجازت نہ دی گئی،کیپٹن دیوی شرن نے ہائی جیکرز کو اس بات پر قائل کرلیا کہ طیارے کو ری فیولنگ کیلئے امرتسر اُتار لیا جائے۔سات بج کر ایک منٹ پر طیارہ امرتسر ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیا ۔ایئر پورٹ انتظامیہ نے تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کیے تو ہائی جیکرز نے مسافروں کو قتل کرنا شروع کردیا ۔پائلٹ کو کہا گیا کہ فوری طور پر یہاں سے ٹیک آف کرو ،ورنہ مزید مسافر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیںگے۔بھارتی حکومت آپریشن کیلئے سوچتی رہ گئی اور 48منٹ بعد طیارہ ٹیک آف کرگیا۔اس بار بھارتی ہوائی جہاز لاہور کی طرف رواں دواں تھا۔
پاکستان ایئر ٹریفک کنٹرول نے ایک بار پھر بھارتی طیارے کو علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اُترنے کی اجازت دینے سے انکا رکردیا۔لاہور ایئر پورٹ کی نیوی گیشن لائٹس آف کردی گئیںتاکہ طیارہ لینڈنہ کرسکے۔بھارتی طیارہ لاہور کے چکر کاٹ رہا تھا۔ کیپٹن دیوی شرن کے مطابق صورتحال اس قدر خطرناک رُخ اختیار کرگئی کہ انہوں نے سڑک پر کریش لینڈنگ کا فیصلہ کرلیا ،جب ایئر ٹریفک کنٹرول کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا تب کہیں جاکرعلامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اُترنے کی اجازت ملی اورایندھن بھرے جانے کے بعد کہا گیا کہ یہاں سے چلے جائیں۔اب ہائی جیکرز اس طیارے کو کابل ایئر پورٹ لے جانا چاہتے تھے مگر پائلٹ نے بتایا کہ رات کے وقت وہاں لینڈ کرنا ممکن نہ ہوگا چنانچہ جہا زکو دبئی کی طرف موڑ دیا گیا،دبئی حکام نے بھی خاصی پس وپیش کے بعد المنہاد ایئر بیس پر اُترنے کی اجازت دی۔یہاں 27مسافروں کو رہا کردیا گیا،Rupin Katyal نامی مسافر،جسےامرتسر ایئرپورٹ پر خنجر مارکرقتل کر دیا گیاتھا ،اسکی لاش بھی دیدی گئی۔
بھارتی حکومت جو امرتسر میںکارروائی نہ کرپائی اور نیشنل گارڈز کے کمانڈوز منصوبے بناتے رہ گئے،اب ہر ملک سے اس توقع اور خواہش کا اظہارکررہی تھی کہ کمانڈو ایکشن کرکے مسافروں کو چھڑوالیا جائے،پہلے پاکستان سے کہا گیا کہIC-814کو علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے نہ اُڑنے دیا جائے پھر یہ مطالبہ دبئی حکام کیا گیا مگر دونوں ممالک نےاس جھمیلے میں پڑنے سے انکار کردیا۔طیارے نے ایک بار پھر اُڑان بھری،ہائی جیکر ز جہاز کو کابل لے جانا چاہتے تھے مگر افغان حکام نے کہا کہ کابل کے بجائے قندھار ایئر پورٹ پر لینڈ کریں۔ یوں 25دسبر کوکرسمس کے موقع پر IC-814قندھار پہنچ گئی۔ایک بار پھر بھارتی حکومت نے کمانڈو ایکشن کی خواہش ظاہر کی مگر طالبان حکومت نے اجازت نہ دی۔
بھارتی مسافر طیارے کے قندھار پہنچنے کے بعد ہائی جیکرز نے اپنے مطالبات پیش کردیئے۔وہ چاہتے تھے کہ ان یرغمالی مسافروں کے بدلے بھارتی جیلوں میں قید تین اہم شخصیات مولانا مسعود اظہر،مشتاق زرگر اور عمر سعیدشیخ سمیت 36قیدیوں کو رہا کرکے انکے حوالے کیا جائے اور تاوان کے طور پر 200ملین ڈالر ادا کیے جائیں ۔بھارتی پردھان منتری واجپائی نے پاکستان کی طرف انگلی اُٹھا دی۔اسکے جواب میں پاکستان کے وزیر خارجہ عبدالستار نے کہہ دیا کہ بھارتی خفیہ اداروں نے ہائی جیکنگ کا ڈرامہ خود رچایا ہے تاکہ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کوبدنام کیا جا سکے۔
طیارے میں نہ صرف کئی غیر ملکی شہری یرغمال تھے بلکہ ایک ایسا شخص بھی تھا جسے ’’Currency Tycon‘‘کہا جاتا تھا ۔سوئٹرزلینڈ سے تعلق رکھنے والے اس امیر ترین مسافر کا نام Roberto Gioriتھا اور اس کی کمپنی De La Rueدنیا کے 150ممالک کو کرنسی نوٹ چھاپنےکیلئے خدمات مہیا کیا کرتی تھی۔بھارتی حکومت کو بہت جلد اندازہ ہوگیا کہ ہائی جیکرز کے مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔چنانچہ 30دسمبر کو بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ دو ہوائی جہاز لیکر قندھار روانہ ہوئے،ایک جہاز میں مولانا مسعود اظہر ،مشتاق زرگر اور عمر سعید شیخ تھے جبکہ دوسرے میں وزیر خارجہ جسونت سنگھ اور انکا عملہ۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تاوان کی رقم بھی لے جائی گئی۔ بہر حال بھارت سے لائے گئے قیدی ہائی جیکرز کے حوالے کیے گئے اور وہ طالبان کی فراہم کردہ گاڑیوں میں بیٹھ کر فرار ہوگئے،یوںفلائٹ IC-814 کے مسافروں کو رہائی ملی۔
