کیا گوادر کا مولانا ہدایت اللہ اسٹیبلشمنٹ کی گیم کھیل رہا ہے؟

کئی کتابوں کی مصنفہ اور دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ گوادر میں دھرنا دینے والے مولانا ہدایت اللہ اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرنے والے مولانا فضل الرحمن جیسے مذہبی دائیں بازو کے سرکردہ ملا حضرات کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرنے کے موڈ میں نظر آتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ جہاں تک مذہبی عناصر میں ریاستی دلچسپی کا معاملہ ہے تو وہ مولانا ہدایت الرحمن کے طرز عمل سے خوش دکھائی دیتی ہے جو کہ تحریک لبیک کے علامہ سعد رضوی کی طرح مستقبل میں گوادر کے سیاسی افق پر ابھر سکتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ ایک مولانا گوادر کے سیاسی معاملات کو سنبھالنے والا ہو تو یہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک کافی مناسب ملاپ ہے۔
ڈاکٹر عائشہ کے بقول عوامی تحریکیں متاثرکن اور امید افزا ہوتی ہیں جیسا کہ گوادر میں ہونے والا عوامی مظاہرہ تھا۔ ہزاروں لوگوں کا اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنا اور نعرے لگانا کافی مسحور کن عمل ہوتا ہے، مگر مدعا یہ ہے کہ گوادر کے احتجاج کو ہمارے میڈیا میں بہت کم کوریج دی گٸی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں گوادر کے اححتجاج کو مظاہرین کی نظر سے دیکھنے کی بجائے ریاست اور اس کے اداروں کی نظر سے دیکھنا چاہوں گی۔ عائشہ کہتی ہیں کہ 16 دسمبر کو گوادر دھرنا ختم کرنے کے لیے بلوچستان کے وزیراعلٰی اور مولانا ہدایت الرحمٰن کے مابین ہونے والا معاہدہ شاید لوگوں کو وقتی طور پر کچھ فاٸدہ دے۔ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹ رہی ہے۔
سوشل میڈیا میں گوادر مظاہرے بارے بحث صوبے پر راج کرنے والوں کے مابین آپسی چپلقش اور ریاست کے جیو پالٹیکل مقاصد میں ہم آہنگی کو بڑی نفاست سے چھپا رہی ہے۔چلیں معاہدے کی طرف چلتے ہیں جس کے مطابق گوادر کے ماہی گیروں سے وعدہ کیا گیا کہ سمندری حدود میں غیر قانونی ٹرالرنگ کے خلاف کارروائی، چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی اور ایرانی سرحد پر تجارت کے لیے آسانیاں پیدا کر دی جاٸیں گی۔ عمران خان کی حکومت نے بھی طوفانوں سے متاثرہ ماہی گیروں کی امداد اور کشتیوں کو چھڑوانے کے لیے ایک طریقہ کار بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ بتاتی ہیں کہ میں نے ایک شخص سے اس بابت گفتگو کی جو حکومت کی جانب سے معاہدے پر عملدر آمد کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں تھا۔ بے شک کچھ چیک پوسٹوں کو ہٹایا اور کچھ ٹرالرز کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے مگر تب بھی مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقتدرہ قوتیں احتجاج کو جلد بازی میں سمیٹنے کے حق میں تھیں جیسا کہ انہوں نے 2017ء میں تحریک لبیک کے احتجاج کے ساتھ مظاہرین کو رشوت دے کر کیا۔ بلوچستان کے وزیراعلٰی کو بھی ایک ویڈیو میں پیسے تقسیم کرتے ہوٸے دیکھا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ گوادر کے مظاہرین اور ان کے مطالبات حقیقی تھے جن کا تحریک لبیک کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ گوادر کو پاکستان کے جیو پالیٹکل مقاصد اور سی پیک میں شاہی تاج میں جڑے ہیرے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے اور وہاں کے عوام کا موازنہ محرومی اور غربت کے کیچڑ میں لتھڑنے والے جواہر سے کیا جا سکتا ہے۔ گوادر کے مقامیوں کو جن کی اکثریت ماہی گیروں پر مشتمل ہے، معاشی مسائل درپیش ہونے کے ساتھ ساتھ گوادر میں بجلی کے شدید بحران کا بھی سامنا ہے۔ درحقیقت مظاہرین نے بجلی کے 300 یونٹس ماہانہ مفت فراہمی کا بھی مطالبہ کیا تھا جسے تسلیم نہیں کیا گیا اور اس تناظر میں ایران بارڈر پر بغیر کسٹم ادائیگی کے گاڑیوں کی اجازت سے یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ مقامی لوگوں کے مطالبات اور اس اختیاراتی مفاد سے فائدہ اٹھانے والوں میں فرق کیا جانا چاہیے۔
غیر قانونی ٹرالنگ واقعی میں ایک حقیقی مسئلہ ہے جس کی بنیادیں 1990ء تک جاتی ہیں، جب صوبائی فشریز کے محکمے اور کچھ غیر مقامی ٹرالر مالکان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا۔ جب ٹرالر مالکان بالخصوص سندھ سے تعلق رکھنے والوں نے سرمایہ کاری کی اور سندھ اور بلوچستان کے حکام کو رشوت دینی شروع کی۔
تب سے ہی معاملہ مزید گھمبیر ہوتا چلا گیا۔ 2002 میں صوبائی حکومت کی طرف سے ٹرالرنگ کو روکنے کے لیے ایک الگ میرین لیویز کے قیام کی کاوشیں رائیگاں ثابت ہوٸیں۔ یا پھر شاید غیر قانونی ٹرالرنگ سے رشوت سمیٹنے کے لیے ایک اور ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نئے قائم کردہ ادارے کو چینی ماہی گیری مفادات سے کوئی سروکار نہیں جو کہ 2016ء میں سی پیک کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ ابھرا۔ بڑے چینی ٹرالرز ناصرف زیادہ مچھلی پکڑتے ہیں بلکہ وہ تو سفید چھوٹے پامفرٹ نامی مچھلی کو بھی نہیں بخشتے جس کی مناسبت سے علاقہ مشہور ہے کہ یہ فقط وہیں پائی جاتی ہیں۔
بقول عائشہ صدیقہ، حکومت بلوچستان یا پھر صوبے کے اصل حکمران، پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ مظاہرین سے مذاکرات کی زحمت ہی نہ کرتے اگر وہ گوادر میں دھرنے کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ نہ کرتے۔ یہ بات بھی انتہاٸی اہم ہے کہ گوادر میں دھرنا دینے والے مولانا ہدایت الرحمٰن کو اتنے عسکری دباٶ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں یا پھر قوم پرستوں کو کرنا پڑتا ہے۔ گوادر تحریک میں مولانا ہدایت الرحمٰن کے ملوث ہونے کے دو انتہائی اہم قابل غور تناظر پر فکرمند ہونا چاہیے۔
پہلا یہ کہ وہ ایک عام بندہ نہیں بلکہ جماعت اسلامی بلوچستان کا جنرل سیکرٹری ہے اور یہ جماعت بلوچستان میں لمبے عرصے سے فوج کی حمایتی اور شراکت دار رہی ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بہت پراعتماد ہے کہ اسے استعمال کرکے مقامی لوگوں کو مجبوراً کوئی رعایت دینے کا خطرہ اٹھائے بغیر اپنے جیو پالیٹیکل مقاصد پر بات چیت اور مقاصد حاصل کر سکتی ہے۔
مذہبی ملاٶں کی رہنمائی میں چلنے والی تحریک ایک پرانی حکمت عملی کی یاد دلاتی ہے جو کہ امریکیوں کے خلاف استعمال کی گئی اور اب اسے چینیوں کے لیے آزمایا جا رہا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ چین اور پاکستان کی گہری شراکت داری پر زور دینے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ اس بات پر فکر مند ہے کہ بیجنگ کو مطلوبہ حد سے زیادہ ”اسپیس“ نہیں دینی چاہیے۔ یہ پاکستان کے لیے اہم ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بناٸے کہ اس کے ساتھ سری لنکا یا پھر چین کے افریقی گاہک ممالک جیسا برتاٶ نہ کیا جاٸے۔
دوسرا یہ کہ مولانا ہدایت الرحمٰن عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایک قوم پرستانہ بیانیے کا سہارا لے رہا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ جماعت اسلامی سے اپنے تعلقات ترک کر دے گا۔ اس کی جماعت وہ واحد پارٹی ہے جس کی قیادت نے پچھلے چند ماہ گوادر کا دورہ کیا۔ لہذا مولانا کی گوادر میں سرگرمیاں طویل عرصے سے صوبے میں الیکشن جیتنے والی بی این پی جیسی قوم پرست قوتوں کو پیچھے دھکیلنے میں اسٹیبلشمنٹ کی معاون ثابت ہوں گی۔
کرونا کے 3 ہزار سے زائد کیسز، مثبت شرح 6.12 فیصد پر آ گئی
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ مولانا ہدایت رحمان کو ڈاکٹر اللہ نذر جیسے آزادی پسند بلاچ رہنماٶں سے بھی حمایت حاصل ہوئی۔ شاید اس لئے کہ انہیں اندازہ ہے مولانا تحریک کی رہنمائی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ٹارگٹ ہوٸے بغیر کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ آزادی پسند اپنی تواناٸیاں پاکستانی الیکشن کے عمل میں ضاٸع کرنے کے قاٸل نہیں۔ علیحدگی پسندوں اور قوم پرستوں سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں اندازہ لگا سکتی ہوں کہ ان کے پاس کسی عوامی مارچ کو لیڈ کرنے کا کوٸی دوسرا متبادل منصوبہ یا حکمت عملی نہیں تھی۔ہدایت الرحمٰن انتہاٸی چالاک آدمی ہے جو جماعت اسلامی کے اسلامی نظریے کے برعکس اب تک اپنے قوم پرست ہونے کا تاثر دیتا رہا ہے جیسا کہ اس نے ٹویٹر پر ایک گفتگو کے دوران افراسیاب خٹک سے کہا تھا کہ وہ بلوچ قوم پرستوں کو دوبارہ قوم پرستانہ سیاست میں دھکیلنے کا خواہش مند ہے اور وہ لوگوں کا نماٸندہ ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔
لیکن سچ یہی ہے کہ افغانستان سے لے کر پاکستان تک اسٹیبلشمنٹ مذہبی دائیں بازو کی حمایت اور حوصلہ افزائی کے موڈ میں دکھاٸی دیتی ہے۔ لہذا مولانا ہدایت کو گوادر میں گھسانے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے.
عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ بلاشبہ گوادر کے باسیوں کا حالیہ احتجاج ایک سنجیدہ سیاسی عمل تھا لیکن یہ کوئی بڑی مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ایسا ناصرف ریاستی اداروں کا احتساب نہ ہونے کی وجہ سے ہوا، بلکہ سیاسی جماعتوں کی نااہلی بھی اس میں شامل تھی جو اتحاد واتفاق سے مل کر اس تحریک کی جانب مددگارانہ ہاتھ نہیں بڑھا سکے۔
