مہوش حیات لالی ووڈ کی سیکسی کوئین کیوں کہلاتی ہیں؟

آپ اسے کتنا ہی متنازعہ کہیں، اس کے کردار کی دھجیاں اُڑائیں، اسے ملنے والے ایوارڈ کو مشکوک نظروں سے دیکھیں۔۔۔ لیکن مہوش حیات میں کچھ تو ایسا ہے جو اسے سب سے منفرد بناتا ہے۔ لالی ووڈ کی یہ سیکسی کوئین اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہونے والی ایکٹرس ہے، سوشل میڈیا پرلاکھوں فالورز ان کی ہر تصویر، ہر خبر کا بیتابی سے انتظار کرتے ہیں۔ جبکہ شوبز اور شوبز سے باہر، ایک بڑی تعداد اس کی کسی کمزوری کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کوئی سکینڈل، کوئی خفیہ ویڈیو، کوئی ایسی بات جو اس پر انگلی اٹھانے کا جواز بن سکے مگر مہوش ہر قدم بہت سمجھداری سے اٹھاتی ہیں۔

عام طور پر ایکٹریسز کے افیئرز کے چرچے ہوتے ہیں، ان کی نسبت سیاستدانوں، وڈیروں، جاگیرداروں اور بڑے بڑے عہدے والوں سے جوڑی جاتی ہے۔۔۔ ٹارگٹ تو مہوش کو بھی بنایا گیا لیکن مہوش نے نہ ہی کسی بات کی تردید کی اور نہ ہی تصدیق۔۔۔ البتہ وہ یہ ضرور کہتی ہیں کہ انھوں نے بوائے فرینڈ کبھی نہیں بنایا۔ انھیں فیم اتنی چھوٹی عمر میں مل گئی کہ انھوں نے سوچا، اب جو بھی قریب آئے گا، وہ ان کی فیم سے ہی امپریس ہو گا۔ ویسے خود مہوش کے بقول ان کا پہلا کرش ٹام کروز پر ہوا تھا۔

ایسا نہیں کہ مہوش کو لوگوں کے منفی رویوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن وہ کتنی ہی آف کیوں نہ ہوں، ڈانس انھیں فریش کر دیتا ہے اور وہ خود کو "آئٹم نمبر” کہتی ہیں۔ مہوش کا ساتھی اداکاروں کے ساتھ بھی بہت الگ سا تعلق ہوتا ہے، کسی کے پھڈے میں نہیں پڑتیں، کسی کی ٹوہ میں نہیں رہتیں، پروفیشنل اتنی کہ صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہیں اور صرف خود پر دھیان دیتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انھیں کسی کی پرواہ نہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں، کیا سوچتے ہیں؟ وہ خود ہی اپنی فیورٹ ہیں اور یہ نظر بھی آتا ہے کہ مہوش نے کس طرح اپنے کیریئر کے دس بارہ سالوں میں خود کو بدلا ہے۔۔۔ سیکسی لُکس، بولڈ ڈریسنگ، وہ جم کتنی باقاعدگی سے کرتی ہیں، اس کا رزلٹ ان کے بلاک بسٹر آئٹم سانگ "بلی” میں دیکھا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں ایک برطانوی میگزین نے بھی انھیں ایشیاء کی ٹاپ ٹین "موسٹ سیکسی” خواتین میں شمار کیا ہے۔ اس سے قبل 2009 میں وہ نویں نمبر پر تھیں لیکن دوسری طرف مہوش شاید پہلی پاکستانی ایکٹرس ہیں جو بہت کم انٹرویوز دیتی ہیں۔ وہ اتنی ہی پرائیویٹ ہیں، آپ نے انھیں اپنی نجی زندگی پر بہت کم بات کرتے سنا ہو گا۔ البتہ وہ اپنے فینز کے لئے اگر کہیں اوپن ہوتی ہیں تو وہ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم ہے۔ مہوش کب خوش ہوتی ہیں ، کب گنگناتی ہیں، کھانا کے فیورٹ سپاٹ کون سے ہیں، امی کی سالگرہ کیسے مناتی ہیں، سنگر اور ایکٹر بھائی کے ساتھ کس طرح انٹرایکشن ہوتا ہے، گھومنے کہاں گئیں، عمرے سے کب واپسی ہوئی؟ جو لوگ انھیں انسٹا اور ٹویئٹر پر فالو کرتے ہیں، سب جانتے ہیں۔

مہوش نے ایک ویب سیریز میں بھی کام کیا ہے، جس پر کافی تنقید ہوئی تھی۔ وہ اس سے دلبرداشتہ بھی ہوئیں کہ انھوں نے نہ تو اس سیریز میں کوئی گالی دی ہے، نہ کوئی گندی بات کہی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی سیکس سین ہے، پھر کیوں لوگوں نے بلاوجہ چڑھائی کی؟کچھ عرصہ قبل ہالی ووڈ سے لے کر لالی ووڈ تک جس "می ٹو موومنٹ” نے ہالی ووڈ سے لالی ووڈ کا رُخ کیا، مہوش بھی اس کو سپورٹ کرتی ہیں لیکن ان کے خیال میں خصوصاً شوبز کی عورتوں کو متحد ہو کر بدنیت لوگوں کو سبق سکھانا ہو گا۔۔۔ بھیڑیئے تو ہر جگہ ہیں، وہ ہالی ووڈ ہو، بالی ووڈ ہو یا لالی ووڈ۔۔۔ تاہم مہوش کی امی رخسار حیات نے، جو خود بھی ایک اداکارہ رہ چکی ہیں، انھیں بہت پہلے سکھا دیا تھا کہ ایسے لوگوں کا منہ کس طرح توڑنا ہے؟ اور چپ نہیں رہنا۔ تو مہوش ایسے لوگوں سے بڑی اچھی طرح نمٹ لیتی ہیں۔

بعض لوگ مہوش کو منہ پھٹ کہتے ہیں جبکہ آپ انھیں "کھلی ڈُلی” کہہ سکتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے جب مہوش نے کسی انٹرویو کے دوران کہا کہ انھیں مارننگ شوز بالکل پسند نہیں اور اگر انھیں کبھی شو کرنے کا موقع ملا تو وہ لیٹ نائٹ شو کریں گی، جیسے ایلن کرتی ہیں۔ اور جب ہوسٹ نے کہا کہ اس کے لئے تو آپ کو "لَیز بِن” بننا پڑے گا تو وہ تھوڑی دیر تو ہنستی رہیں اور پھر بولیں "آئی ڈونٹ مائنڈ۔کچھ عرصہ سے مہوش اپنا کافی وقت انسانی بھلائی کے کاموں میں صرف کرنے لگی ہیں۔ وہ کبھی سماجی کاموں میں مصروف ہوتی ہیں اور کبھی عالمی فورمز پر کشمیر اور سیاست پر بات کر رہی ہوتی ہیں۔اور وہ جو بھی کہتی ہیں، ڈنکے کی چوٹ پر کہتی ہیں۔ انھیں کبھی اپنے کسی فیصلے پر شرمندگی نہیں ہوئی۔وہ 6 جنوری 1983 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، ان کے بڑے بھائی ذیشان گلوکار اور موسیقار ہیں جبکہ ان کی بڑی بہن افشین بھی گلوکارہ ہیں، ان کے ایک اور بھائی دانش حیات بھی شوبز انڈسٹری سے ہی وابستہ ہیں۔

مہوش نے اپنے شوبز کیرئیر کا آغاز 2010 میں ڈرامہ سیریل "من جلی” سے کیا ، اس کے بعد میرے قاتل میرے دلدار، چاند پر دستک، بن تیرے، کتنی گرہیں باقی ہیں، روبرو اورعشق میں تیرے اور ان سنی، جیسے کئی ہٹ ڈراموں میں کام کیا۔ ان کا فلم ڈیبیو "انشااللہ” سے ہوا، پھر نامعلوم افراد، جوانی پھر نہیں آنی، ایکٹر اِن لاء، تین بہادر، رائز آف واریئرز، لوڈ ویڈنگ لیکن پنجاب نہیں جاؤں گی، مہوش کی بلاک بسڑ فلم کہی جا سکتی ہیں، اس فلم نے مہوش کو صحیح معنوں میں سٹار بنا دیا ہے۔ ویسے تو مہوش نے میرا جی کی فلم "باجی” میں بھی گیسٹ اپیئرنس دی ہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مہوش گلوکاری کے میدان میں بھی کسی سے کم نہیں۔ وہ اکثر مارننگ شوز اور ڈراموں کے "او ایس ٹیز” تو گاتی ہی تھیں لیکن 2011 میں جب ان کا پہلا گانا ’’ٹیل می وائی‘‘ ریلیز ہوا تو ان کے فینز چونک گئے۔ مہوش سُر میں تو ہیں ہی، ان کی آواز میں کھنک بھی کمال ہے۔ بعد میں آنے والے ان کے گانے پانی برسا، ہر سانس گواہی دیتی ہے، مجھ سے اب میرے فسانے کہو اور کوک سٹوڈیو کے سیزن 9 میں معروف گلوکار شیراز اُپل کے ساتھ ڈویئٹ گانے "تو ہی تو” اور حال ہی میں "دل صاب دل بابو” کو بھی بے حدسراہا جا رہا ہے۔ڈرامہ ہو یا فلم، مہوش اپنی خوبصورت پرفارمنس کی وجہ سے یوں تو کئی ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں لیکن مارچ 2019 کو حکومت پاکستان کی جانب سے نوازے جانے والے تمغہ امتیاز کے بعد تو جیسے ان کی زندگی بدل گئی ہے

Back to top button