ثاقب نثار کی لیک ہونے والی کال میں دوسرا جج کون ہے؟


سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) کی لیک ہونے والی تازہ آڈیو ٹیپ نے ان الزامات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ انہوں نے انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر براجمان ہونے کے باوجود اپنے عہدے کا تقدس پامال کرتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ کا کردار ادا کیا اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا دلوانے اور نا اہل کروانے کے لیے اپنے ساتھی ججوں پر دباؤ ڈالا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) نے انکی موجودگی میں ایک جج کو فون کر کے یہ احکامات دئیے تھے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ہر صورت 2018 کے الیکشن تک جیل میں رکھنا ہوگا اور انہیں اس سے پہلے باہر نہیں آنا چاہیئے۔ ثاقب نثار نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور اب اپنی لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ کو بھی جعلی قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب یہ آڈیو جاری کرنے والی معروف ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے دعوی کیا ہے کہ اسے یہ ریکارڈنگ دو ماہ پہلے موصول ہوئی تھی جس کی تصدیق امریکہ کی ایک قابل بھروسہ فارنزک لیبارٹری سے کروائی جا چکی ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ آڈیو ٹیپ میں سنائی دینے والی آواز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ہی کی ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔
ثاقب نثار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ آڈیو مختلف کلپ جوڑ کر بنائی گئی ہو۔تاہم فیکٹ فوکس نے ثاقب نثار کے موقف کو رد کر دیا ہے ۔ اس آڈیو میں دو افراد کی گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ دونوں اس گفتگو کے دوران اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے تاہم ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک آواز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے۔ دوسری آواز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی ہو سکتی ہے۔ اس گفتگو کے دوران بابا رحمتے کہلانے والے ثاقب نثار کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ہمیں نواز شریف کو سزا دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ آڈیو میں سابق چیف جسٹس سے منسوب آواز کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں لگی لپٹی رکھے بغیر کہوں گا ہمارے ہاں فیصلے ادارے دیتے ہیں۔۔۔اس لیے اس کیس میں میاں صاحب کو سزا دینی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم نے خان صاحب کو لانا ہے. ثاقب نثار کی جانب سے دوسرے فرد سے یہ بھی کہا جاتا ہے ’کہا ہے جی، اب یہ کرنا پڑے گا۔‘ یعنی نواز شریف اور مریم دونوں کو سزا دینا ہوگی۔ مریم کو سزا دینے کے معاملے پر دوسرا فرد کہتا ہے کہ ’میرے خیال میں بیٹی کو سزا دینی بنتی نہیں ہے‘۔ اس پر ثاقب نثار کہتے ہیں کہ ’آپ بالکل جائز بات کر رہے ہیں۔ میں نے بھی دوستوں سے یہی کہا تھا لیکن دوستوں نے اتفاق نہیں کیا.
جب اس آڈیو پر ردعمل لینے کے لیے ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ آڈیو جعلسازی کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب فیکٹ فوکس کا کہنا یے کہ انہیں یہ آڈیو تقریباً دو ماہ قبل ملی، اس کا معائنہ کیا گیا اور تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی آواز کی تصدیق ہو جانے کے بعد آڈیو کو فارنزک معائنے کے لیے امریکہ میں ملٹی میڈیا فارنزک کی ماہر ایک اہم فارنزک لیبارٹری "گیریٹ ڈسکوری” بھیجا گیا، گیریٹ ڈسکوری فارنزک کے شعبہ قابل ماہرین پر مشتمل ہے اور اس کے ماہرین امریکی عدالتوں میں فارنزکس سے متعلق ثبوت پیش کرنے جیسے معاملات میں مہارت رکھتے ہیں۔ گیریٹ ڈسکوری کی رپورٹ کے مطابق اس آڈیو کو کسی بھی طرح سے ایڈیٹ یا تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔
آڈیو ریکارڈنگ ثاقب نثار کی اس بات سے شروع ہوتی ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان کی عدالتوں میں ہونے والے فیصلے ادارے یعنی فوج اور آئی ایس آئی کرواتے ہیں۔ فیکٹ فوکس کے مطابق آڈیو کے مواد اور اس میں تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے جاری ہونے والی ہدایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات سے کچھ ہی دن پہلے تب جاری کی گئیں جب سابق نواز شریف اور انکے خاندان کے افراد کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ سنا جا رہا تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہدایات جاری کیں کہ جیسا بھی ہے میاں صاحب یعنی نواز شریف اور انکی بیٹی یعنی مریم نواز کو ہر حالت میں سزا دینی ہے۔ "یہ جائز ہے یا نہیں، یہ کرنا ہے،” ثاقب نثار نے فون پر دوسری طرف موجود شخص سے کہا۔ "جو بھی ہے سزا دینی ہے، بیٹی کو بھی۔”
تاہم فیکٹ فوکس سے بات کرتے ہوئے ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) نے کہا کہ انہوں نے کبھی احتساب عدالت کے کسی بھی جج کو نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق حکم نہیں دیا۔ ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ فوج یا آئی ایس آئی میں سے کسی نے کبھی اس حوالے سے ان پر دبائو نہیں ڈالا، ثاقب نثار نے فیکٹ فوکس کو مزید بتایا کہ جب ان کا نواز شریف سے کوئی بغض نہیں تو وہ ایسا کیوں کریں گے؟ انکا۔اصرار تھا کہ تمام فیصلے میرٹ پر ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں مودی نے کسانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے

تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ثاقب نثار کی اس فون کال کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 5 جولائی 2018 کو نواز شریف کو 11 برس قید با مشقت، مریم نواز کو آٹھ برس قید جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی جبکہ نواز شریف کو 80 لاکھ جبکہ مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔اس سزا کے نتیجے میں تین ہفتے بعد ہونے والے 2018 کے الیکشنز میں نواز شریف اور مریم نواز حصہ لینے کے اہل نہیں رہے تھے۔ اس وقت نواز شریف لندن میں موجود ہیں اور انھیں عدالت نے مفرور قرار دیا ہوا ہے جبکہ مریم کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

Back to top button