ہم مسلمان دنیا بھر میں جوتے کیوں کھا رہے ہیں؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ میں اکثر محسوس کرتا ہوں ہم مسلمان دنیا میں مسلمان ہونے کی وجہ سے جوتے کھا رہے ہیں اور ہمیں آخرت میں اس لیے جوتے پڑیں گے کہ ہم سرے سے مسلمان تھے ہی نہیں۔ انکاکہنا ہے کہ رسولؐ کا نام ہم لیتے ہیں لیکن رسولؐ کے احکامات پر عمل غیرمسلم کرتے ہیں لہٰذا دنیا اور آخرت دونوں کے انعامات انھیں مل رہے ہیں۔ ہم یہاں بھی خالی ہاتھ ہیں اور ہمیں شاید وہاں بھی کچھ نہیں ملے گا کیونکہ اسلامی دنیا اور مسلمان دونوں اخلاقیات کے خوف ناک بحران کا شکار ہیں۔
نواز شریف کے قطری خط اور ثاقب نثار بارے رانا شمیم کے حلفیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں آج ماننا ہوگا کہ دنیا کے 58 اسلامی ملکوں میں ایک بھی ایسا ملک نہیں جس کے عدالتی فیصلے یا نوٹری پبلک کے تصدیق نامے کو جینوئن اور سچا تسلیم کر لیا جائے جبکہ برطانیہ جیسے کرسچین ممالک کے عام سے نوٹری پبلک کے تصدیق نامے بھی پوری دنیا میں تسلیم کیے جاتے ہیں۔ لہذا کیا یہ ہم مسلمانوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام نہیں؟ انکا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف انصاف کی حد تک محدود نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے ہرشعبے میں ساکھ کا یہی حال ہے۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے آپ علاج کس ملک میں کرانا چاہیں گے؟ سعودی عرب یا امریکا؟ آپ کس ڈاکٹر‘ کس سرجن کو اہمیت دیں گے‘ مسلمان یا عیسائی؟ آپ اپنے بچوں کو اسلامی ملکوں میں تعلیم دلاناچاہیں گے یا ہارورڈ‘ سٹینفورڈ‘ کولمبیا‘ آکسفورڈ‘ کیمبرج یا ہائیڈل برگ میں؟ آپ کسی اسلامی ملک کی شہریت لینا چاہیں گے ‘ یورپ‘ برطانیہ‘ امریکا یا کینیڈا کی یا سعودی عرب کی؟ آپ ادویات کس ملک کی استعمال کریں گے‘ کورونا ویکسین کہاں سے منگوائیں گے؟ آپ کپڑے اور جوتے کس ملک سے خریدنا چاہیں گے، کتابیں اور ریسرچ پیپر کہاں سے منگوائیں گے اور جائے نماز اور تسبیح کس ملک سے خریدنا چاہیں گے؟
بقول جاوید چودھری ان سوالوں کے جواب ہمارا حال اور مستقبل دونوں طے کریں گے۔ جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف دونوں لندن میں ہوں تو محفوظ ہیں لیکن یہ اگر کسی اسلامی ملک میں ہوں تو ان کی کیا حالت ہو؟ نواز شریف چھ سال سعودی عرب میں رہے۔ میاں صاحب نے پھر بریگیڈیئر نیاز اور پرنس عبداللہ کی مدد سے دیار حبیبؐ سے لندن جانے کی اجازت لے لی اور مسجد نبوی میں شکرانے کے نفل پڑھ کر لندن چلے گئے۔ جنرل پرویز مشرف دوبئی میں تھے۔ اب یہ لندن پہنچ گے اور اب خود کو آزاد اور محفوظ سمجھتے ہیں۔ عرب شہزادے بھی اپنی دولت کویورپ میں محفوظ سمجھتے ہیں اور اسلامی ملکوں کے ڈاکٹرز اور انجینئرز کو بھی اگر اسلامی ملک اور یورپ دونوں میں سے کسی ایک کا آپشن دیا جائے تو یہ کرسچین ملک کا انتخاب کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں پھر ماننا ہوگا اسلام دنیا کا شان دار ترین مذہب ہے۔ یہ قدرت کا ماسٹر پیس ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بدترین لوگوں میں آ پھنسا ہے۔ یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے صفائی کو آدھا ایمان قرار دیا یعنی آپ اگر صرف صاف ستھرے ہو جائیں تو آپ آدھے ایمان کے حق دار ہو جاتے ہیں اور جنت کے لیے ایک فیصد ایمان بھی کافی ہوتا ہے لیکن آپ مسلمانوں کی ذاتی صفائی سے لے کر گلی محلوں اور شہروں کی صفائی تک دیکھ لیں کیا ہم صفائی کے کسی بھی معیار پر پورے اترتے ہیں؟
جاوید چوہدری افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلامی ملک فضائی آلودگی کے انتہائی بلند درجوں پر فائز ہیں۔ آپ کسی مسلمان ملک میں چلے جائیں آپ کو گرد، دھوئیں، بو اور کچرے سے ضرور واسطہ پڑے گا اور آپ کسی عیسائی اور یہودی ملک میں چلے جائیں آپ کو ہر چیز چمکتی، دمکتی اور صاف ملے گی۔ آپ خوراک کا معیار بھی دیکھ لیں۔ ملاوٹ ہمارے مذہب میں حرام ہے لیکن مسلمان ہو اور وہ ملاوٹ نہ کرے یہ ناممکن سا محسوس ہوتا ہے۔ پرائیویسی، شائستگی، ٹھہراؤ، دوسروں کے نظریات کا احترام، پرسنل سپیس، احترام انسانیت، جانوروں کے حقوق، پانی، ہوا اور درختوں کی حفاظت‘
، جنگلی حیات کا تحفظ، اداروں کا احترام، بچوں خواتین اور بزرگوں کی عزت، علاج، تعلیم اور انصاف کی مفت فراہمی، مذہبی آزادی‘ سوچنے، بولنے اور لکھنے کی فریڈم، چادر اور چاردیواری کا تقدس، انسانی جان کی حرمت، یتیم بچوں کی پرورش اور کرائم فری سوسائٹی، اللہ نے یہ سب ہم پر واجب کیا تھا لیکن آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں اسلامی ملکوں میں ان میں سے کون کون سی چیز موجود ہے؟ بادشاہت اور آمریت پوری دنیا میں ختم ہو چکی ہے لیکن یہ اسلامی ملکوں میں آج بھی ظاہری اور باطنی دونوں شکلوں میں موجود ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ ہماری خانہ کعبہ میں طواف کے دوران بھی جیبیں کٹ جاتی ہیں اور ہم سے حج اور عمرے میں بھی فراڈ ہو جاتاہے۔ ہمارے نہ تو شہد خالص ہوتے ہیں، نہ ہی کھجوریں۔ ہم مسلمان ایک دوسرے کا گلہ کاٹتے ہوئے بھی منٹ نہیں لگاتے، ہم دہشت گردی، جرائم، فراڈ اور انسانی حقوق میں بھی بدتر ہیں اور علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور لیونگ اسٹینڈرڈ میں بھی لہٰذا پھر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم جوتوں کے حق دار نہیں ہیں؟
جاوید کہتے ہیں کہ کیا ہم ذلت کو سر سے لے کر پاؤں تک ڈیزرو نہیں کرتے؟ میرے ایک دوست ایک بار اپنے ایک کرسچین ملازم کی ٹھکائی کر رہے تھے، میں نے بڑی مشکل سے اس کے ہاتھ سے جوتا لیا اور پھر پوچھا ’’تم اس بے چارے کوکیوں مار رہے تھے‘‘؟ وہ سانس سنبھال کربولے ’’یہ ہم مسلمانوں کی حق تلفی کر رہا تھا”۔ میں نے پوچھا ’’کیا مطلب‘‘ وہ ہنس کر بولے’’یہ سودے میں پیسے مار رہا تھا‘ میں نے پکڑ لیا اور جوتا اتار کر کہا، بے شرم انسان بے ایمانی کرنا ہم مسلمانوں کا حق ہے، تمہیں کرسچین ہو کر بے ایمانی کرتے شرم نہیں آئی‘‘۔ میری ہنسی نکل گئی لیکن میں تھوڑی دیر بعد رو رہا تھااور وہ کرسچین ملازم ہنس رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں جنسی درندے سے ستارہ امتیاز واپس لینے کا مطالبہ

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ میں اکثر محسوس کرتا ہوں ہم مسلمان دنیا میں مسلمان ہونے کی وجہ سے جوتے کھا رہے ہیں اور ہمیں آخرت میں اس لیے جوتے پڑیں گے کہ ہم سرے سے مسلمان تھے ہی نہیں، رسولؐ کا نام ہم لیتے ہیں لیکن رسولؐ کے احکامات پر عمل غیرمسلم کرتے ہیں لہٰذا دنیا اور آخرت دونوں کے انعامات انھیں مل رہے ہیں۔ ہم یہاں بھی خالی ہاتھ ہیں اور ہمیں شاید وہاں بھی کچھ نہیں ملے گا۔

Back to top button