لاپتہ نوجوان 27سال بعد ہمسائے کے تہہ خانے سے بازیاب

آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ کوئی اپنے کھو جانے یا اغواء ہوجانے کے بہت برس بعد گھر لوٹ آیا لیکن آپ نے یہ کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کوئی اپنے ہی گھر کے پڑوس میں اغواء رہا ہو جی ایسا ہی کچھ افریقی ملک الجزائر کے ایک نوجوان کے ساتھ ہوا جسے اغواکاروں نے اسی کے گھر کے پڑوس میں کئی برس تک قید میں رکھا۔
الجزائر میں ایک نوجوان جو 27 سال قبل کھوگیا تھا، اسے حال ہی میں پڑوسی کے گھر کے تہہ خانے سے بازیاب کرایا گیا۔ یہ واقعہ الجزائر کے شہر جیلفہ میں پیش آیا جہاں 1998 میں 17 برس کا عمر نامی نوجوان لاپتہ ہوگیا تھا تاہم اب یہ انکشاف ہوا کہ وہ گھر سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر پڑوسی کے گھر کے تہہ خانے میں قید تھا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ٹول ٹیکس میں 30 فیصد تک اضافہ کردیا
عمر بن عمران 17 سال کا تھا جب وہ 1998 میں لاپتہ ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب الجزائر میں خانہ جنگی جاری تھی جس میں 200,000 افراد مارے گئے اور 20,000 اغوا ہوئے تھے۔
ہوا کچھ یوں کہ مغوی عمر کے ایک پڑوسی نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا تھا کہ اس کے بڑے بھائی نے ماضی میں ایک نوجوان کو اغواء کیا تھا۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ کو عمر کے ایک رشتہ دار نے دیکھ لیا اور فوراً ہی پولیس کو مطلع کردیا جس پر پولیس نے پڑوسی کے گھر چھاپہ مارا۔ چھوٹے بھائی نے پولیس کو تہہ خانے میں موجود اغواء کیے گئے ایک آدمی کی اطلاع دی۔ جب پولیس تہہ خانے میں گئی تو وہاں مغوی پایا۔ پولیس کے چھاپے کے دوران اغواء کار ملزم نے بھاگنے کی کوشش کی تاہم اسے گرفتار کرلیا گیا۔
