گوجرانوالہ کے مرتضیٰ حسن کی ’’مستانہ‘‘بننے کی کہانی

سٹیج اداکاری سب سے مشکل اور چیلنجنگ کام ہوتا ہے اور اگر بات سٹیج کامیڈی کی ہو تو اس میں کمال صلاحیتوں کے حامل اداکار ہی اپنا لوہا منواتے ہیں جن میں ’’مستانہ‘‘ اپنی مثال آپ ہیں، سٹیج کامیڈی کو اس لیے بھی مشکل قرار دیا جاتا ہے کہ سٹیج فنکار جس قسم کی بھی اداکاری کرتے ہیں، اس کا ردعمل فوری طور پر سامنے آ جاتا ہے۔

ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی فلمی صنعت کو بڑے اعلیٰ درجے کے مزاحیہ اداکار ملے جنہوں نے اپنی زبردست اداکاری سے مداحوں کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا۔ ان مزاحیہ اداکاروں میں منور ظریف، البیلا، رنگیلا، علی اعجاز، ننھا اور لہری کے نام لیے جا سکتے ہیں، ان میں سے البیلا اور علی اعجاز وہ فنکار ہیں جو فلموں سے پہلے سٹیج پر اداکاری کرتے رہے۔

سٹیج پر اداکاری کرنے والے 2 فنکار ایسے تھے جن کا انتقال اپریل کے مہینے میں ہوا۔ ایک کا نام تھا ببو برال جبکہ دوسرے کا نام مستانہ، دونوں نے بہت شہرت حاصل کی۔ ان کی موت کا صدمہ ابھی تک برقرار ہے، دونوں انتہائی منجھے ہوئے فنکار تھے۔

مستانہ عوام میں بے حد مقبول تھے، انہوں نے بھی کئی برس تک لوگوں کو ہنسایا۔ اپریل 1955ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے مستانہ کا اصل نام مرتضیٰ حسن تھا۔ انہوں نے بے شمار اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔

مستانہ بے ساختہ اداکاری کرتے تھے، ان کی اداکاری اس وقت قابل دید ہوتی تھی جب وہ مرحوم عابد خان کے ساتھ کام کرتے تھے اگرچہ ان کی پیدائش گوجرانوالہ میں ہوئی تھی لیکن وہ لاہور میں ہی پلے بڑھے۔

لاہور میں ہی انہوں نے تھیٹر میں کام شروع کیا اور بہت جلد مقبول ترین آرٹسٹ بن گئے۔ ان کے مشہور ترین اسٹیج ڈراموں میں ’لاری اڈہ‘ اور ’میں لٹیا گیا‘ شامل ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 2 ہزار سٹیج ڈراموں میں کام کیا۔]

ٹی وی کے ایک ڈرامہ سیریز ’شب دیگ‘ میں انہوں نے ’انکل کیوں‘ کا کردار ادا کیا جس سے انہیں بے پناہ شہرت ملی۔ اپنے پورے کیریئر کے دوران انہوں نے خالد عباس ڈار، ببو برال، نسیم وکی، سہیل احمد، طارق ٹیڈی، افتخار ٹھاکر، امانت چن، امان اللہ، البیلا، عابد خان، شوکی خان، قوی خان، عمر شریف اور معین اختر جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔

مستانہ نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ صرف مزاحیہ ہی نہیں بلکہ سنجیدہ اداکاری بھی کمال کی کرتے ہیں، اس حوالے سے ’انکل کیوں‘ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ پھر انہوں نے تھیٹر چھوڑ دیا انہیں ہیپا ٹائٹس سی ہو گیا۔ اسی مرض کی وجہ سے وہ 11 اپریل 2011ء کو عالم جاوداں کو سدھار گئے۔ مستانہ نے تمام عمر لوگوں کو ہنسایا لیکن پھر وہ اپنے مداحین کو روتا چھوڑ گئے۔

 

وزیر کھیل وہاب ریاض کا ٹرولنگ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب

Back to top button