نجم سیٹھی کو جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا یقین کیوں نہیں؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پچھلے چند ہفتوں میں کم از کم دو مرتبہ اس واضح اعلان کے بعد کہ وہ 29 نومبر کو اپنے عہدے کی معیاد پوری ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے، سینئر صحافی نجم سیٹھی اس حوالے سے خدشات میں مبتلا ہیں۔ فرائیڈے ٹائمز کے تازہ ایڈیٹوریل میں سیٹھی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کیا کوئی غیر معمولی پیش رفت اُنھیں اپنے عہدے پر برقرار رہنے پر مجبور کر دے گی۔ اسکے بعد انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا عمران کا ہزاروں نفوس پر مشتمل لانگ مارچ کوئی دھماکہ کر پائے گا یا پھر آہ وزاری پر ختم ہوجائے گا؟ اور کیا سیاسی تناؤ ختم کرنے کے لیے عمران اور شہباز شریف مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تا کہ اگلے الیکشن کی کوئی قابل قبول تاریخ طے کی جا سکے؟ اسکے بعد سیٹھی نے یہ عجیب سوال بھی کیا ہے کہ کیا سیاسی کشمکش کا پارہ مزید بڑھانے یا اس پر ثالثی کرنے میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کوئی کردار ادا کریں گے؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ نجم سیٹھی کو اپنے اداریے میں سوالات اٹھانے کی بجائے ان کا جواب دینا چاہیے کیونکہ سوال کرنا تو آسان ہوتا ہے لیکن جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔ سیٹھی کے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کا امکان صفر ہے خصوصاً جب ڈی جی آئی ایس آئی خود ایک پریس کانفرنس میں بتا چکے ہیں کہ آرمی چیف نے عمران خان کی جانب سے غیر معینہ مدت تک توسیع کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ جہاں تک لانگ مارچ کے مستقبل کا تعلق ہے تو خان صاحب مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، اسٹیبلشمنٹ ان کی بات سننے کو تیار نہیں اور لوگ ان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں، لہذا موصوف روزانہ ایک دکاندار کی طرح شام کو اپنا لانگ مارچ بند کر کے گھر چلے جاتے ہیں اور صبح آ کر دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔ جہاں تک حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم بھی واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ خان نامی فتنے سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور اس نے اپنی پٹاری سے جو سانپ نکلنا ہے ایک بار نکال دکھائے۔ دوسری جانب فوج بھی واضح اعلان کر چکی ہے کہ وہ اب کوئی سیاسی کردار ادا نہیں کرے گی، لہذا عمران خان کا لانگ مارچ ناکام ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جہاں تک چیف جسٹس بندیال کی جانب سے حکومت اور عمران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے کا تعلق ہے تو آئین اس کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی چیف جسٹس ایسا کرنا چاہیں گے خصوصا ًجب خان اپنی بندوقیں فوج پر تان چکا ہے۔
تاہم نجم سیٹھی کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔ اپنا سازشی چورن بیچتے ہوئے انکا کہنا ہے کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے، لیکن جنرل باجوہ کی روانگی پر ابہام کا پردہ پڑا ہوا ہے کیوں کہ پی ڈی ایم حکومت نے ان کے جانشین کے نام کا ابھی تک اعلان نہیں کیا۔ افواہیں تھیں کہ عمران خان نے مارچ میں حزب اختلاف کی عدم اعتماد کی تحریک کو شکست دینے کے لیے آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع کی پیش کش کی تھی۔ اس میں کوئی راز نہیں کہ پی ڈی ایم حکومت بھی انھیں خوش کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ وہ تحریک انصاف کے منڈلاتے ہوئے خطرے کو ٹالنے میں ان کی مدد کریں۔ عمران نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس ماہ پی ڈی ایم حکومت کا بوریا بستر گول کر دیا جائے اور نگران بندوبست آجائے۔ اس صورت میں چاہے جنرل باوجوہ آرمی چیف کے منصب پر موجود رہیں یہاں تک کہ انتخابات کے بعد نئی حکومت اقتدار میں آجائے۔ چنانچہ ”غیر سیاسی“ کردار کے عزم کے باوجود اگر تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران معاملات بگڑ جاتے ہیں اور تشدد کی نوبت آ جاتی ہے تو یہ بات قابل فہم ہے کہ پھر جنرل باجوہ کو ”مجبوراً“ متحارب گروہوں کے درمیان آکر بیچ بچاؤ کرانا اور اُنھیں کچھ سمجھانا پڑے گا۔ اس ”اچھے کام“ کے صلے میں ظاہر ہے کہ توسیع تو بنتی ہے۔ یہ صورت حال قبل ازوقت انتخابات کی راہ ہموار کردے گی۔ ان حالات میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، ”دانائی“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کے آنے تک ایک اور توسیع کی منظوری دے دیں گے۔ اس کا بہت حد تک انحصار اگلے ایک یا دو ہفتوں میں عمران کے لانگ مارچ کی نوعیت پر ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق عمران خان کو ابھی تک امید ہے کہ تشدد کی دھمکی کے بعد پی ڈی ایم حکومت ڈگمگا جائے گی اور مذاکرات کے ذریعے ان کے تمام مطالبات مان لے گی۔ فی الحال طرفین اپنے اپنے عزائم پر کاربند دکھائی دیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ طرفین چیف جسٹس بندیال سے اپنا ساتھ دینے کا کہہ رہے ہیں۔عمران خان مارچ کرنا، جب کہ پی ڈی ایم حکومت ان کا راستہ روکنا چاہتی ہے۔خان کا اصرار ہے کہ مارچ کے شرکا پرامن رہیں گے، لیکن وزیر داخلہ، رانا ثنا اللہ نے تشدد کی آگ بڑھکانے کے تحریک انصاف کے ارادوں کا ثبوت دے دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف مارچ کرنے کا حق رکھتی ہے، لیکن یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وہ اسے کسی بھی وقت روکنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس دوران اُنھوں نے حکومت پر دباؤ ڈال کر سپریم کورٹ کو اپنے من پسند جونیئر ججوں سے بھر لیا ہے۔ مریم نواز کی بریت کا راستہ روکنے اور پی ڈی ایم کی چوٹی کی قیادت کو نجات دلانے والی نیب قانون میں ترمیم کو غیر قانونی دینے کی دھمکی نے حکومت کو سمجھوتے پر مجبور کر دیا۔ حتیٰ کہ اسے اپنے وزیر قانون اعظم تارڑ کی بھی قربانی دینا پڑی۔ تارڑ نے مجبور ہو کر اپنے بار کے مفادات کے برعکس جوڈیشل کمیشن میں جسٹس بندیال کے نامزد تین جونئیر ججوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آئی کہ اگر ان کا موقف اصولی تھا تو استعفیٰ پہلے دینے کی بجائے بعد میں کیوں دیا؟
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پس منظر میں ایک اور جدوجہد کے خدوخال بھی واضح ہورہے ہیں۔ چوٹی کے کم از کم پانچ جنرل فوج کے اہم ترین عہدے کے لیے مسابقت کی دوڑ میں ہیں جب 29 نومبر کو جنرل باجوہ اپنی وردی اتار دیں گے۔ اگر کسی غیر معمولی پیش رفت کی وجہ سے جنرل باجوہ ایسا نہیں کرتے تو یہ جرنیل انکی مدت پوری ہونے سے پہلے ریٹائر ہو کر گھر چلے جائیں گے۔ لہذا انکا مفاد اس میں ہے کہ ملک میں کسی قسم کی پرتشدد کشمکش نہ ہو، عمران کو ہنگامہ آرائی سے دور رکھیں تاکہ اپنے چیف کو سکون کے ساتھ جاتا دیکھ سکیں۔ پاکستان کی حالت زار کا یہ عالم ہے کہ دو ادارے جنہیں ”سیاسی طور پر غیر جانبدار“ ہونا چاہیے۔۔۔ فوج اور عدلیہ۔۔۔وہ انتہا کے مداخلت کار اور متنازع ہو چکے ہیں۔ بدترین بات یہ ہے کہ ان کے سربراہان اپنی طاقت اور جھکاؤ کا بلا روک ٹوک، کھلا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس صورت حال سے جڑی دہری ستم ظریفی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ فوج کی اعلیٰ قیادت کا اصرار ہے کہ وہ غیر سیاسی اور نیوٹرل ہوچکی ہے، اور مستقبل میں بھی اسی راہ پر گامزن رہے گی، لیکن تحریک انصاف اور پی ڈی ایم، دنوں اس کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ ایک جماعت اسے دھمکا رہی ہے، دوسری اسے رام کرنے کی کوشش میں ہے۔ ان حالات میں جنرل ممکنہ طور پر ریاست کو دیوالیہ اور عدم استحکام کا شکار ہوتے دیکھ کر ”قومی مفاد“ میں کوئی فیصلہ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے،جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔
خالق اور تخلیق کی جنگ میں آخری جیت کس کی ہو گی؟
نجم سیٹھی کے بقول دوسری ستم ظریفی کا تعلق عمران کا فوج کی سیاسی مداخلت پر تنقید کرنا ہے جسے غیر معمولی حد تک عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ معمول کے حالات میں اسے، چلیں تاخیر سے ہی سہی، آئینی جمہوریت کی طرف ایک خوش آئندہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جاتا۔ لبرل، بائیں بازو کے دھڑے، جمہوریت پسند، انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں، نسلی اور اقلیتی گروہوں کی طویل مدت سے کی جانے والی جدوجہد کا مرکزی ہدف تو یہی تھا۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی ”حقیقی آزادی“ کے لیے کی جانے والی جدوجہد کا ہدف فوج کی مداخلت کا ڈنگ نکالتے ہوئے کثیر جماعتی آئینی جمہوریت کو تقویت دینا نہیں بلکہ اس کے پنجے تیز کرکے تحریک انصاف کے سیاسی حریفوں کا خاتمہ اور ایک جماعت پر مبنی فسطائی نظام کا قیام ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب پاکستان کے عوام نے عدلیہ کی آزادی کے لیے جذباتی انداز میں وکلا تحریک کا ساتھ دیا تھا۔ اس وقت ملک میں آئینی انقلاب آتا دکھائی دے رہا تھا۔ ایک عشرہ بعد ہمارا واسطہ سیاسی طور پر انتہائی جھکاؤ رکھنے والی خود سر عدلیہ سے تھا جس کا کسی طور احتساب کیا ہی نہیں جاسکتا، جیسا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری، ثاقب نثار اور آصف کھوسہ۔ آج ایک مرتبہ پھرایک ریاستی ادارے کے خلاف ویسی ہی مقبول عوامی تحریک کی لہر دکھائی دے رہی ہے جو ہمیں آزاد کرنے کی بجائے مزید غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دے گی۔
