خالق اور تخلیق کی جنگ میں آخری جیت کس کی ہو گی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں خالق اور تخلیق کی آپسی جنگ میں شدت آ چکی ہے اور یہ خدشہ پیدا ہو چکا ہے کہ اسلام آباد پر حملے کی غرض سے لانگ مارچ لے کر نکلنے والا کہیں پنڈی میں اپنے خالقوں کا رخ نہ کر لے۔ اس سے پہلے تخلیق نے اپنے خالقوں کے گھر میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی اور اب دبائو ڈال کر خالقوں کے گھر کا سربراہ بھی اپنی مرضی کا لگوانا چاہتا ہے۔ چنانچہ خالق اور تخلیق کی جنگ اب آخری مرحلے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے۔ لیکن تاریخ کا سبق یہی ہے کہ خالق اور تخلیق کی جنگ میں حتمی جیت ہمیشہ خالق کی ہی ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے یا تخلیق کوئی نئی تاریخ رقم کرتی ہے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگرچہ عمران خان نے اپنے سسر اور جمائما خان کے والد سر گولڈ اسمتھ کے کہنے پر سیاست کے میدان میں قدم رکھا لیکن طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ اس نے عمران کو لیڈر بنایا۔ 2018 کے الیکشن میں تاریخی دھاندلی کے بعد رہی سہی کسر پوری کرنے اور عمران کی حکومت بنانے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ نے ان کی پارٹی میں سینکڑوں الیکٹ ایبلز شامل کرائے۔ اسکے علاوہ خان کو اے ٹی ایم مشینیں بھی دلوائی گئیں۔ اس سے پہلے موصوف کو ایک قومی سطح کا لیڈر بنانے کی خاطر ان کیلئے دھرنے بھی کرائے گئے۔ پھر ان کی خاطر نواز شریف، آصف زرداری، مولانا، قوم پرستوں اور دیگر جماعتوں کو دیوار سے لگایا گیا اور ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ عمران کی خاطر عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن کو بری طرح استعمال کیا گیا۔ کپتان کے جرائم پر پردہ ڈالا گیا اور اسکے مخالفین پر لگنے والے الزامات کو بڑھا چڑھا کر اور سچ بنا کر پیش کیا پیش گیا۔ اس کے علاوہ عمران خان کی حکومت بنوانے اور چلانے کی خاطر سیاسی انجینئرنگ کر کے فوج کے ادارے کو بدنام کیا گیا اور اس کی ساکھ کا جنازہ نکال دیا گیا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس سب کے باوجود عمران خان الٹا اسٹیبلشمنٹ سے کہتے ہیں کہ میں نے آپ کیلئے کیا کچھ نہیں کیا اور آپ نے میرا اقتدار بچانے کے لئے کچھ بھی نہ کیا۔ عمران کا کیس یہ ہے کہ جسے اسٹیبلشمنٹ نے غدار کہلوانا چاہا اسے میں نے غدار کہا۔ بھائی لوگوں نے جس کو امریکی اور انڈین ایجنٹ بنوانا چاہا میں نے اسے انہی القابات سے نوازا۔ میں نےشیخ رشید کو فوج کے کہنے پر اپنا دست راست اور وزیر بنایا حالانکہ وہ تو ایک چپڑاسی بننے کے بھی قابل نہیں تھا۔ انکاکہنا ہے کہ میں نے بابر اعوان کو بھی بھائی لوگوں کے کہنے پر وزیر بنایا۔ مجھے کہا گیا کہ ”جیو“ پر حملہ آور ہو جاؤ او تو میں نے حملہ کر دیا، آپ نے کہا کہ اے آروائی کو اپنے گلے لگائو تو میں نے اسے اپنی آنکھوں کا تارہ بنا لیا، لیکن پھر بھی آپ لوگ مطمئن نہ ہوئے۔ چنانچہ سرد جنگ شروع ہوئی جو اب گرم جنگ میں تبدیل ہو گئی اور خالق اور تخلیق دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آچکے ہیں۔
چینی صدرکی وزیر اعظم کو معاشی استحکام کیلئے مدد کی یقین دہانی
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خالقوں نے اب تک بہت صبر سے کام لیا تھا لیکن سیاسی تخلیق نے انہیں اس انداز میں چیلنج کیا کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اب تخلیق صرف اسلام آباد پر حملہ کرنے نہیں آرہی ہے بلکہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ کہیں وہ پنڈی جا کر اپنے خالقوں پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ لہذا خالق اور تخلیق کی جنگ میں شدت آ چکی حالانکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ خالق اور تخلیق کی جنگ میں حتمی جیت ہمیشہ خالق کی ہوئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے یا تخلیق کوئی نئی تاریخ رقم کرتی ہے؟
