نواز شریف تحریک عدم اعتمادلانے پر کیسے راضی ہوئے؟

معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے دعویٰ کیا ہے کہ بالآخر نواز شریف پیپلزپارٹی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز پر راضی ہو گئے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یہ کارروائی نئے انتخابات کا دروازہ کھولے۔اعزاز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ن لیگ ایوان کے اندر سے تبدیلی لانے کی صورت میں وزارت عظمیٰ کی خواہشمند نہیں ہے کیونکہ وہ ضروری قانونی ترامیم کے بعد عام انتخابات کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اعزاز سید کہتے ہیں کہ 2019 میں سینیٹ چئیرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں شکست کھا جانے کے باوجود اب پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک بار پھر تحریک عدم اعتماد کا کھیل کھیلنے جارہی ہیں۔ پیپلز پارٹی شروع دن سے ایوان کے اندر سے تبدیلی لانے کی خواہاں ہے رہی جبکہ ن لیگ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بغیر عام انتخابات کو مسائل کا حل قراردیتی ہے۔ لیکن اب ن لیگ کے مؤقف میں تبدیلی آئی ہے اور میاں نواز شریف نے پیپلزپارٹی کی طرف سے دی گئی تحریک عدم اعتماد کی تجویز کو منظور کر لیا ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ یہ کارروائی نئےانتخابات کا دروازہ کھولے۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والوں کی جانب سے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ حکومت کی نااہلی کے باعث اس بار اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ نہیں ہے اور وہ خاموشی سے انکا ساتھ چھوڑ چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ خیال بھی ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے کے بعد اب عدم اعتماد کی تحریک کے دوران ماضی کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔
تاہم اعزاز سید کے بقول انہیں ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔انخے بقول، سچی بات یہ ہے کہ مجھے ابھی تک عمران خان تو تبدیل ہوتے نظرنہیں آرہے البتہ وہ مئی میں پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو ضرور تبدیل کرنے جارہے ہیں۔ دودری جانب یہ بھی سچ ہے کہ عمران خان کا یہ نظریہ کہ پاکستان میں کرپشن تمام مسائل کی جڑ ہے بری طرح پٹ چکا ہے اور لوگ ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث مہنگائی سے بلک رہے ہیں مگر کوئی انکی سننے والا نہیں۔
حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے نوازشریف کو وطن واپس لا کر جیل میں بند کرنے کے اعلانات بھی کرتی رہی ہے مگر ان کے اپنے مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے 18 جنوری کو ہونے والے کابینہ کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کو بتایا ہے کہ نواز شریف کو برطانیہ سے واپس لایا جانا آسان نہیں۔ انہوں نے اجلاس میں بزنس ٹائیکون عارف نقوی کا حوالہ بھی دیا کہ کس طرح امریکہ ایک برس سے عارف نقوی کی برطانیہ سے حوالگی کے لیے کوشش کر رہا ہے لیکن بے بس ہے۔
اعزاز سید کہتے ہیں کہ در حقیقت سیاسی جماعتیں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سب اس وقت بند گلی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا ریکوڈک پر تاریخی معاہدے کا اعلان
اسٹیبلشمنٹ نے سب کو اپنی طاقت سے قابو تو کر رکھا ہے مگر وہ بار بار سیاست میں مداخلت کے باعث تیزی سے غیر مقبول ہو رہی ہے۔ ادھر نہ تو تحریک انصاف کو حکومت سنبھالنا آرہا ہے اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کو اپوزیشن کرنا۔ سب ہلکی آنچ پر ابالیاں کھا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے پہلت مرحلے میں تحریک عدم اعتماد شاید وزیراعظم عمران خان کی بجائے اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینٹ کے خلاف آتی نظر آرہی ہے۔
اعزاز کا کہنا ہے کہ حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک عملی طور پر مجھے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کیتلی میں رکھے اس گرم پانی کی مانند لگتی ہے، جو ابل رہا ہے اس میں سے بھاپ بھی نکل رہی ہے لیکن اسے کیتلی سے ابل کر باہر نہیں آنے نہیں دیا جارہا۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تب تک تحریک عدم اعتماد نہیں لائیں گئی جب تک انہیں اس کی کامیابی کا سو فیصد یقین نہیں ہو جائے گا کیونکہ اگر یہ وار خالی گیا تو عمران خان مزید مضبوط ہو کر ابھریں گے۔ اسی لیے پہلے مرحلے میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی تا کہ ان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے خلاف بڑا حملہ کیا جائے۔
