نواز شریف کا وطن واپسی پر سیدھا جیل جانا یقینی کیوں؟

لیگی قیادت کی جانب سے 21 اکتوبر کو سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی وطن واپسی کی تاریخ کے باضابطہ اعلان کے بعد جہاں ایک طرف نون لیگ نے استقبال کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں وہیں دوسری جانب یہ بحث بھی جاری ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی کے موقع پر ان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کے پاس کیا قانونی آپشنز موجود ہیں؟ کیا نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جائے گا یا وہ خود عدالت کے سامنے سرنڈر کرینگے؟

 ذرائع کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے تمام تر تیاریاں مریم نواز خود مانیٹر کر رہی ہیں۔ جہاں مریم نواز اس ضمن میں پارٹی کے مختلف ونگز سے ملاقاتیں کر رہی ہیں وہیں مریم نواز کی نواز شریف کے مقدمات کے حوالے سے اپنی قانونی ٹیم سے بھی مشاورت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق مریم  نواز نہیں چاہتی ہیں کہ نواز شریف کو وطن واپسی پر فوراً گرفتار کر لیا جائے اور وہ چاہتی ہیں کہ نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے منصب سنبھالنے پر ہی قانونی ٹیم نواز شریف کی سزا معطلی کے حوالے سے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرے۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو نیب عدالت نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں 10 اور 7 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم خرابی صحت کے باعث انہیں علاج کے غرض سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی اور اس سلسلے میں عدالت نے ان کی سزا معطل کر رکھی ہے۔

تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف کی واپسی پر قانونی مسائل کیا ہوں گے؟سابق وزیراعظم نواز شریف نومبر 2019 میں لندن روانگی سے قبل نیب عدالت کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس کیس میں 7 سال کی سنائی گئی تھی۔ سزا میں کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ انہیں نیب نے دوسرے کیس میں تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا جہاں ان کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔عدالت میں نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے جمع کرائی گئی یقین دہانی کے باوجود جب وہ واپس نہیں آئے تو عدالت نے انہیں ایک سال بعد دسمبر 2020 میں اشتہاری قرار دیدیا تھا۔ صدر لاہور ہائی کورٹ بار رانا انتظار حسین کے مطابق نواز شریف کو کسی بھی عدالت سے کوئی ریلیف لینےکے لیے سب سے پہلے خود کو سرنڈر کرنا ہو گا۔’اگر نواز شریف ابھی وطن واپس آتے ہیں تو ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں تو ان کے وکلا ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں کہ نواز شریف وطن واپس آکر اپنے مقدمات کا سامنا کرنا اور سرنڈر کرنا چاہتے ہیں۔‘

صدر لاہور ہائی کورٹ بار رانا انتظار حسین کے مطابق نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اس لیے نہیں دی جا سکتی کہ ان کا اسٹیٹس صرف اشتہاری ملزم کا نہیں بلکہ مجرم کا ہے۔ اس لیے ان کے پاس گرفتاری کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔

دوسری جانب ماہر قانون اور سابق ایڈشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور کہتے ہیں کہ نوازشریف کو وطن واپسی کے موقع پر خود کو سرنڈر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’قانون کے مطابق نوازشریف کو وطن واپسی پر جیل جانا ہوگا اور اس کے بعد ہی ان کی اپیلیں سنی جائیں گی‘۔

تاہم ماہر قانون اور نیب کے سابق اسپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’نوازشریف حفاظتی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں جس میں وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہونے کے لیے آرہے ہیں اس لیے انہیں حفاظتی ضمانت دی جائے‘۔عمران شفیق نے کہا کہ ’نوازشریف عدالت کے سامنے پیش ہو کر خود کو سرنڈر کریں گے اور پھر یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ ان کو ضمانت دی جائے یا پھر جیل بھیجا جائے‘۔ تاہم ماہر قانون شاہ خاور کے مطابق نوازشریف کو حفاظتی ضمانت ملنا مشکل ہے کیونکہ وہ سزا یافتہ شخص ہیں صرف مفرور نہیں۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر نواز شریف اپنی سزاؤں کیخلاف اپیل کرتے ہیں تو نوازشریف کی نیب عدالت کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ کب تک متوقع ہے؟شاہ خاور کہتے ہیں کہ نوازشریف کی جانب سے عدالت کے سامنے سرینڈر کرتے ہی ان کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہوسکتی ہیں کیونکہ عدالت پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ جب وہ پیش ہوں گے تو ان کی اپیل سنی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی سزا ختم ہونے کے بعد نوازشریف کی سزا بھی ختم ہوجائے گی کیونکہ اس فیصلے کا فائدہ ان کو بھی ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں مرحوم جج ارشد ملک کے بیانات کے بعد معاملہ پہلے سے متنازع ہوچکا ہے اس لیے ان کو ریلیف ملنے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی۔شاہ خاور کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی اپیلوں پر بحث 3 سے 4 سماعتوں میں مکمل ہوسکتی ہے جس کے بعد انہیں بری کردیا جائے گا اور وہ الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دے دیے جائیں گے۔

دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور نگراں وزیر اعلٰی محسن نقوی اپنے انٹرویوز میں واضح کر چکے ہیں کہ وطن واپسی پر نوازشریف کی گرفتاری کا فیصلہ ان کی حکومتیں نہیں عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے

نیب ترامیم کالعدم،نواز، زرداری،گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنسز بحال

ادارے کرینگے تاہم وہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔

Back to top button