شہباز حکومت کیلئے آئی ایم ایف پروگرام پھندہ بن گیا

رواں مالی سال کا ٹیکس سے بھرپور بجٹ اور مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلےسے توجہ سیاست سے معیشت کی جانب مبذول ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے نئے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط پوری کرنے کی ملک کی صلاحیت پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

مخصوص نشستیں نظر ثانی درخواستیں، عمراندار ججز کا فوری سماعت سے انکار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے 28 ارب ڈالر قرضے کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے چین کی مدد کا خواہاں ہے، تاہم ذرائع کا خیال ہے کہ چین ان قرضوں کی تنظیم نو نہیں کرے گا، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ دیگر ممالک جیسا کے سری لنکا بھی بیجنگ سے قرضوں کی ری پروفائلنگ کی درخواست کر سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس بات کا تعین بہت اہم ہے کہ آیا حکومت 7 ارب ڈالر قرض کے معاہدے کی شرائط کو پورا کر سکتی ہے یا نہیں، بہر حال یہ بات یقینی ہےکہ حکومت کسی بھی قیمت پر اس معاہدے پر دستخط کرے گی۔ تاہم بینکرز اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کو اہم چیلنجز کا سامنا ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔لیکن حکومت عوام کو کوئی ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے بلکہ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کرکے صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے،  جبکہ صرف بینک اور ایکویٹی مارکیٹ ’بدترین معیشت‘ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تاریخی منافع حاصل کر رہے ہیں۔

 

 

Back to top button