پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چئیرمین کی تقرری تاخیر کا شکار کیوں؟

حکومت اور اپوزیشن میں اختلافات کی وجہ سے قومی اسمبلی کی طاقتور ترین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تشکیل کو 38 روز گزرنے کے باوجود تاحال اس کے چیئرمین کا انتخاب نہ ہوسکا۔
خیال رہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن 12 جون کو جاری کیا گیا تھا،چیئرمین کے انتخابات کے معاملہ پر حکومت اور سنی اتحاد کونسل میں ڈیڈ لاک برقرار ہے،حکومت شیخ وقاص اکرم کی بجائے کوئی دوسرا چیئرمین بنانے کی خواہشمند ہے،ذرائع کے مطا بق حکومت پی اے سی میں شامل ثناءاللہ مستی خیل ، ریاض فتیانہ ، ملک عامر ڈوگر اور خواجہ شیراز محمود میں سے کسی ایک کو اپنی چوائس پر چیئرمین بنانے کے لیے تیار ہے، جبکہ سنی اتحاد کونسل شیخ وقاص اکرم کو ہی چیئرمین پی اے سی بنانے پر بضدہے۔
بنگلہ دیش میں حالات بے قابو، بدامنی پھیلانے والوں کو گولی مارنے کا حکم
حالانکہ سنی اتحاد کونسل انتخاب کی صورت میں اپنا چیئرمین منتخب کرانے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ22 ارکان پرمشتمل پی اے سی میں حکومتی ارکان کی تعداد 14 ہےجبکہ پی اے سی میں سنی اتحاد کونسل اور حامی ارکان کی مجموعی تعداد صرف 8 ہے حکومت نے چیئرمین پی اے سی کے انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار سنی اتحاد کونسل کو قرار دے دیا ،ڈاکٹر طا رق فضل چوہدری نے کہا کہ وہ ایک ہی نام پر اصرار کررہے ہیں ا س لیے چیئرمین کے انتخاب میں تاخیر ہورہی ہے۔
