کپتان کے دورہ روس کے دوران تحریک عدم اعتماد لانے کا امکان

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے کوشاں اپوزیشن کے جہانگیر خان ترین سے خفیہ ملاقاتوں نے کپتان کی نیندیں حرام کردیں ہیں کیونکہ اب تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے ہی تحریک انصاف میں ایک دھڑا علیحدہ ہو کر فارورڈ بلاک بنا لے گا جس کے بعد حکومت کی دیگر اتحادی جماعتیں بھی کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک عدم اعتماد 23 فروری کو شروع ہونے والے وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کے دوران بھی دائر کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے ساتھ جہانگیر ترین کی خفیہ ملاقات نے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ اگر ترین گروپ حکومت سے علیحدہ ہو گیا تو کپتان حکومت دھڑام سے نیچے آ گرے گی۔ یاد رہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے مابین پچھلے کئی مہینوں سے براہ راست رابطہ نہیں ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے خلاف شوگر اسکینڈل میں ایف آئی اے کی کارروائی تھی جس کے بعد دونوں کے تعلقات ختم ہوگئے تھے۔ تب جہانگیر ترین نے ایک علیحدہ دھڑا تشکیل دے کر اس کے اجلاس شروع کر دیے تھے جس پر عمران خان نے دباؤ میں آ کر ترین کے خلاف ایف آئی اے کا کیس ٹھنڈا کروا دیا تھا۔
اب جہانگیر ترین کی شہباز شریف سے خفیہ ملاقات کی خبروں کے بعد ترین، ان کے گروپ کے ارکان اور حکومتی اتحادیوں کی سرگرمیوں پر سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور لمجہ بہ لمحہ اطلاعات وزیر اعظم کو دی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ترین کے خلاف زیر التوا شوگر سکینڈل میں کارروائی تیز کر دی جائے اور انہیں گرفتار کرلیا جائے۔ لیکن کپتان ابھی مخمصے کا شکار ہے، .کیونکہ اگر حکومت چینی اسکینڈل میں ایف آئی اے کے ذریعے ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے دوبارہ پوچھ گچھ کرتی ہے
تو اس کا نتیجہ ترین کے حامی 10 اراکین قومی اسمبلی اور 30 اراکین پنجاب اسمبلی کی بغاوت کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ دوسری جانب اگر اس صورتحال میں حکومت محض ایک تماشائی بنی رہے تو اپوزیشن باآسانی جہانگیر ترین کے ساتھ معاملات طے کر سکتی ہے جس کا نتیجہ حکومت کے خاتمے کی صورت میں سامنے آئے گا۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف کے ساتھ ترین کی ملاقاتوں کی تصدیق یا تردید کسی بھی جانب سے نہیں کی گئی۔ تاہم وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جہانگیر ترین کی اپوزیشن کے ساتھ ملاقاتوں کو مسترد کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ ترین پی ٹی آئی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جہانگیر ترین، پی ڈی ایم کی متوقع تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرا جہانگیر ترین کے ساتھ احترام کا تعلق ہے، جہاں تک میں انہیں جانتا ہوں مجھے نہیں لگتا کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ لیں گے جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے، وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہی رہیں گے۔
محسن بیگ کو کچھ ہوا تو FIR عمران کے خلاف کٹے گی
جب پوچھا گیا کہ جہانگیر ترین کے تحفظات دور کرنے کے لیے وزیر اعظم یا کسی اور وزیر کا ان سے ملاقات کا ارادہ ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے انکی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں معلوم نہیں، لیکن ہمارے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم ان کے ساتھ خصوصی ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے حامی پارلیمینٹیرینز بھی تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ تحریک انصاف سے کسی ایسی چیز کے لیے الگ نہیں ہوں گے جس کا مستقبل غیر یقینی ہو۔ ترین گروپ اور حکومت کے اتحادیوں کی ایجنسیوں کے ذریعے نگرانی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا کیونکہ اس طرح کی نگرانی غیر قانونی ہوتی ہے۔
تاہم ترین کیمپ میں شامل ایک رکن نے بتایا کہ ان کے نگرانی کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے اپنے پتے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ایک بات یقینی ہے، ہمارے گروپ اراکین میں سے کوئی بھی جہانگیر ترین کو الوداع کہنے کے لیے تیار نہیں اور یہ بات تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں بات چیت کے لیے ان کی طاقت بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیر اعظم عمران خان کے لیے صورتحال اچھی نظر نہیں آرہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کے اعلیٰ رہنما جہانگیر ترین کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے خواہشمند تھے لیکن چونکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ ایک اہم چیز سمجھا جاتا ہے، اس لیے پارٹی کو یقین ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کی حتمی منزل یہ ٹکٹ ہوگی۔ لیکن پیپلزپارٹی کے ایک رہنما کا خیال تھا کہ ابھی بہت سے مراحل طے ہونا باقی ہیں، کچھ کہنا قبل از وقت ہے، ممکن ہے ترین گروپ پی پی پی کو اگلی حکومت بنانے کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھتے ہوئے ساتھ مل جائے۔ صرف وزیر اعظم کو ہٹانے پر توجہ مرکوز رکھنے کے حوالے سے پی ڈی ایم ذرائع نے کہا کہ مرکزی اپوزیشن جماعتیں یعنی مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور جے یو آئی-
ایف اصولی طور پر صرف وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے اور انہیں فارغ کرنے پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن خصوصی طور پر اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور ایک بار جب اس نے جادوئی نمبر حاصل کر لیا تو وہ اس پر عملدرآمد کر لے گی۔ دوسری جانب نواز لیگ کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ خان دعوی کر چکے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں مطلوبہ تعداد میں ایم این ایز اپنے ساتھ ملا چکی ہیں اور اب عمران خان کی چھٹی یقینی بنانے کے لیے اس تعداد میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔
اسی دوران ایک اور لیگی رہنما جاوید لطیف نے دعویٰ کر دیا ہے کہ 90 حکومتی ایم این ایز وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے، یوں ان پر فلور کراسنگ کی پاداش میں نااہلی کی شق کا اطلاق بھی نہیں ہوگا کیونکہ ان کی تعداد تحریک انصاف کے کل اراکین کا پچاس فیصد ہوگی۔
لیکن دوسری جانب حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کی تحریک ناکامی سے دوچار ہو گی۔ انکا کہنا یے کہ بات صرف عددی کھیل کی نہیں ہے، سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد والے دن اپوزیشن مطلوبہ تعداد میں اراکین قومی اسمبلی کی حاضری یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن لا رہی ہے اس لیے 172 رکنی اسمبلی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ووٹ ڈلوانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ تحریک عدم اعتماد والے دن حکومتی اراکین کو قومی اسمبلی میں جانے سے منع کر دیا جائے تاکہ عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالنے کا امکان ہی ختم ہو جائے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ملک کی پارلیمانی تاریخ میں اب تک کسی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تاریخ بدلنے جارہی ہے اور پہلی مرتبہ کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔
