حکومتی ٹٹو ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر قریشی شکنجے میں آ گیا

پچھلے کئی برسوں سے حکومتی اور ریاستی ٹٹو کا کردار ادا کرتے ہوئے آزاد منش صحافیوں کو بے بنیاد الزامات پر گرفتار کر کے انہیں ہراساں کرنے والے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ بابر بخت قریشی بالآخر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد عدالتی شکنجے میں پھنس گے ہیں اور اب موصوف کا اپنا برا وقت شروع ہوتا نظر آتا ہے۔
21 فروری کے روز جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم کے غلام کا کردار ادا کرنے والے اتھرے ڈی آئی جی بابر بخت قریشی کو محسن بیگ کیس میں اختیارات سے تجاوز پر توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا تو موصوف فورا بکری ہو گے اور جسٹس اطہر من اللہ کی منت کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے بچے ہیں.
مہربانی کیجئیے، ایسا نہ کریں۔ اس پر چیف جسٹس بولے کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے، نا تم میرے بچے ہوں اور نہ ہی میں تمہارا باپ ہوں، تم نے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود محسن بیگ کی گرفتاری کے وقت اس کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروایا گیا تھا اور جس کے مطابق گرفتاری سے پہلے ملزم کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے.
جس کی تفتیش کے بعد کیس درج ہوتا ہے اور پھر گرفتاری کا مرحلہ آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت غیر قانونی گرفتاری کرنے پر آپ کے خلاف کارروائی کرے گی کیونکہ آپ کو بار بار ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا اور آپ نے آئندہ قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی کروائی تھی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آپ کا کام لوگوں کو تحفظ دینا ہے، کسی ایلیٹ کی نجی ریپوٹیشن بحال کرنا نہیں۔ اطہر من اللہ نے نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے سائب کرائم ونگ نے ہمیشہ اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے اور قانون کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ انہوں نے ڈائریکٹر بابر بخت قریشی سے پوچھا کہ درخواست گزار مراد سعید نے محسن بیگ کے خلاف لاہور میں درخواست کیوں دی تھی؟ کیا وہ سیر کرنے لاہور گئے ہوئے تھے، یہ عدالت ایف آئی اے کو کسی کے بنیادی انسانی حقوق متاثر نہیں کرنے دے گی۔
چیف جسٹس نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ قانون سے بالا تر ہیں، جو فضول بحث کیے جا رہے ہیں۔ آپ کو اپنے عمل پر اظہار شرمندگی کرنا چاہیے بجائے کہ بحث کریں۔ انہوں نے سوال کیا کہ غریدہ فاروقی کے ٹی وی شو میں کتنے لوگ شریک تھے، کیا تمام لوگوں نے یہی بات کی، کیا آپ نے باقیوں کو گرفتار کیا؟چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’کیا ایف آئی اے عوام کی خدمت کے لیے ہے یا پبلک آفس ہولڈرز کے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے۔ انہوں نے بابر بخت قریشی سے کہا کہ آپ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کیس بنایا اور یہ سب پر عیاں ہو چکا ہے۔
سماعت کے دوران عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب بھی زیر بحث آئی، چیف چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کتاب کا ریفرنس دینا تضحیک ہے؟ سب سے بڑی ولگیریٹی آئین کو نہ ماننا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں ایف آئی اے کا یہ کنڈکٹ رہے گا تو ان آئینی عدالتوں کو بند کر دیں۔ انہوں نے بابر بخت سے پوچھا کہ آپ کو ہر دفعہ بلا کر اور ہر طریقے سے سمجھایا گیا کہ یہ نہ کریں لیکن آپ باز ہی نہیں آتے۔
عدالت کی جانب سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا ملزم نے ریحام کی کتاب کا صفحہ ٹی وی پروگرام میں پڑھا تھا؟ اس پر بابر قریشی نے کہا کہ نہیں، انہوں نے صرف کتاب کا حوالہ دیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر انہوں نے کوئی ہتک آمیز بات ہی نہیں کی تو پھر ہتک عزت کا کیس کیسے بن گیا، لہذا عدالت آپ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس دے رہی ہے، آپ نے عدالت کے ساتھ فراڈ کیا ہے اور یہاں جھوٹا موقف پیش کیا۔ اس پر بابر نے بھیگی بلی بنتے ہوئے کہا کہ ’ہم بھی آپ کے بچے ہیں سر’۔ اس پر چیف جسٹس نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’نہ آپ میرے بچے ہیں، نہ میں کسی کا باپ ہوں۔ یہ قانون کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے اور قانون سب کے لئے برابر ہے۔
چیف جسٹس نے ڈائریکٹر سائب کرایم سے پوچھا آپ کے پاس کتنے کیسز زیر التوا ہیں۔ بابر نے کہا کہ 14 ہزار کیسز زیرالتوا ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے صرف 14 مخصوص کیسز میں گرفتاریاں کیں؟ جس پر ڈی جی نے کہا کہ اپ مجھے پیکا قانون کی شق21 ڈی پڑھنے دیں۔ عدالت نے اجازت دیتے ہوئے کہا ’جی پڑھیں، آپ خود کو اور ایف آئی اے کو مزید شرمندہ کریں گے۔
اسکے بعد بابر بخت نے 21 ڈی کا قانون پڑھ کر سنایا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کو سمجھ آ رہی ہے کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ اس کا مطلب آپ کو معلوم ہے؟ اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آپ کے سر شرم سے جھک جانے چاہییں، آپ فضول بحث کیے جا رہے ہیں۔ کیا ملک میں مارشل لگا ہوا ہے۔
حکومتی ٹٹو ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر قریشی شکنجے میں آ گیا
اس پر بابر بخت کا کہنا تھا کہ عدالت سیکشن 22 دیکھ لے، جس پر چیف جسٹس نے انہیں یہ سیکشن پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔ جب بابر نے سیکشن 22 بھی پڑھ کر سنا دیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ عدالت ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے کے خلاف ایکشن کا حکم دے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’یہ کون سا ڈائریکٹر ہے جو آئین کو مانتا ہے نہ آئینی عدالت کو؟
یہ کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ ہے۔‘ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ایف آئی اے قانون اور آئین سے بالاتر ہے؟ کیوں نہ ڈائریکٹر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بھی قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا، ریاست کی بھی رٹ ہونی چاہیے۔ اس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں چاہے وہ ایف آئی اے ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ہتک عزت کو بطور جرم ختم کیا جا رہا ہے اور یہاں اس حوالے سے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں عدالت نے ایف آئی اے اختیارات کے غلط استعمال اور محسن بیگ کے فائرنگ والے کیسز کو الگ الگ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل بتائیں کہ پیکا ایکٹ کی جس شق کے تحت یہ مقدمہ درج ہوا، کیوں نا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے بابر بخت قریشی کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی کارروائی 24 فروری تک ملتوی کردی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حق اور سچ کا علم بلند کرنے والے آزاد منش صحافیوں کو سبق سکھانے کے لئے ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنانے والے ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کے پاڈے ڈائریکٹر آپریشنز بابر بخت قریشی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہو۔ موصوف نہ صرف اسلام آباد بلکہ لاہور اور کراچی میں بھی کئی سینئر صحافیوں کو پیکا قانون کے تحت جھوٹے کیسوں میں گرفتار کر چکے ہیں لیکن کوئی ایک بھی الزام ثابت نہیں ہو پایا۔
بابر قریشی پنجاب پولیس میں ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز ہیں اور بطور ایف آئی اے ڈائریکٹر آپریشنز وہ سنیئر صحافی عامر میر اور وی لاگر عمران شفقت سمیت کئی صحافیوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات دائر کر کے انہیں گرفتار کر چکے ہیں جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سرزنش بھی کی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بابر بخت قریشی پر مختلف الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ایک غریب شہری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو ایک تحریری درخواست میں ظالم سیاسی افسر قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ متاثرہ شہری کا الزام تھا کہ بابر بخت قریشی اپنے والد سابق ن لیگی ایم پی انیس قریشی اور ن لیگ کی سابق قیادت کی آشیرباد کی بنا پر عرصہ دراز سے لاہور میں تعینات ہے اور اس کی صرف دو مرتبہ لاہور سے باہر مختصر عرصے کے لیے تعیناتی ہوئی۔
شہری نے اپنی درخواست میں کہا کہ بابر بخت قریشی پر الزام ہے کہ جب لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تو ایس پی مجاہد کی حیثیت سے موصوف ڈیوٹی سے غائب پائے گئے جس کے بعد اس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بابر بخت قریشی نے صاحب حیثیت افراد کو نہ صرف ایف آئی اے کیسز سے بچایا بلکہ مبینہ طور پر زمینوں پر قبضے کروانے میں بھی ان کا ساتھ دیا۔
