ٹی ٹی پی سے مذاکرات بحال کرنے کیلئے 40 طالبان جنگجو رہا

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات عمل بحال کرنے کی خاطر 40 طالبان جنگجووں کو جیلوں سے رہا کر دیا ہے، لیکن وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے حمایت یافتہ محسود قبائل جرگے نے حال ہی میں افغانستان کا دورہ کر کے ٹی ٹی پی والوں سے بات چیت کی جسکے بعد حکومت پاکستان نے 40 طالبان جنگجوؤں کو رہا کردیا ہے۔ تاہم حکومت پاکستان نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ ٹی ٹی پی نے بھی دوبارہ حکومت سے مذاکرات اور اپنے جنگجووں کی رہائی کی خبروں پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان اور پاکستان میں موجود باخبر ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور افغانستان کے وزیر داخلہ سراج حقانی کی مداخلت اور سرپرستی میں محسود قبائلی جرگے کا وفد افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے بعد واپس پاکستان پہنچ گیا ہے، جس کے بعد پاکستانی حکام اب تک 40 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 20 فروری 2022 کو ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے 10 رکنی کمیٹی طورخم بارڈر کے راستے افغانستان گئی تھی۔ سنیئر صحافی طاہر خان نے مذاکرات اور قبائلی جرگے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے ایک وفد 17 فروری کو افغانستان گیا تھا، جب کہ دوسرا وفد 20 فروری کو گیا۔ البتہ آئی ایس پی آر سے ابھی تک اس پہش رفت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ریڈیو چینل ’مشال‘ سے وابستہ صحافی داؤد خٹک نے بھی ٹوئٹر پر بتایا کہ ٹی ٹی پی اب تک اپنے 40 سے زائد قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کر چکی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی نے اپنے ایک رہنما لطیف محسود اور سوات سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں سمیت تقریباً 102 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ داؤد خٹک نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ حکومت پاکستان آنے والے چند دنوں میں مزید طاکبان قیدی رہا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
’نیوز ویک‘ اور ’ڈیلی بیسٹ‘ کے ساتھ وابستہ صحافی و افغان امور کے ماہر سمیع یوسفزئی کے مطابق رہا کیے گئے قیدی وہ ہیں جو ٹی ٹی پی کے مطابق پاکستان نے بےگناہ پکڑے گئے تھے۔ سمیع یوسفزئی کے مطابق ’ٹی ٹی پی کی جانب سے سوات سے تعلق رکھنے والے جن طالبان جنگجؤوں کی رہائی کا مطالبہ ہو رہا ہے.
ق لیگ تحریک عدم اعتماد پر کیا فیصلہ کرنے والی ہے؟
ان میں سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان، ان کا بیٹا، کمانڈر حاجی عمر اور محمود شامل ہیں۔‘ مختلف غیرملکی میڈیا اداروں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی طالبان نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے جن پانچ اہم اراکین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، پاکستانی حکام انہیں اب تک رہا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے طالبان سے بات چیت کرنے والا جرگہ مقامی عمائدین پر مشتمل ہے لیکن ٹی ٹی پی چاہتی ہے کہ ان کے ساتھ حکومتی سطح پر پاکستان میں یا کسی دوسرے ملک میں مذاکرات شروع ہوں۔پاکستان فوج نے اب تک اس موضوع پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سے منسلک وزیرستان کے ایک صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے محسود قبائلی جرگہ طالبان کے عہدیداروں کے ساتھ افغانستان خوست میں مذاکرات کے بعد واپس لوٹا ہے، جب کہ شمالی وزیرستان اتمانزئی وزیر جرگہ افغان وزیر داخلہ سراج حقانی سے ملنے کے لیے خوست پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہائی پانے والے 40 سے زائد طالبان کا تعلق خیبر پختونخوا کے جنوبی وشمالی وزیرستان، سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ تحریک طالبان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی فوج کی قید میں موجود ان کے تمام ساتھیوں کو رہا کیا جائے اور پاکستان میں شرعی قانون نافذ کیا جائے۔ اس سے قبل ٹی ٹی پی اور پاکستانی حکام کے درمیان افغانستان طالبان کی ثالثی میں ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، جو گذشتہ سال دسمبر کے اوائل میں قیدیوں کی رہائی پر پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہوگیا تھا۔
ٹی ٹی پی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ان کے مطالبات پورے کرنے میں ناکام ہوگیا ہےاور وہ مزید جنگ بندی جاری نہیں رکھ سکتے ہیں۔ پاکستانی حکومت اور سکیورٹی حکام نے بھی یہ بیان جاری کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں۔
