ق لیگ تحریک عدم اعتماد پر کیا فیصلہ کرنے والی ہے؟

گجرات کے چوہدریوں کی قاف لیگ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پس پردہ مسلسل رابطوں میں ہے لیکن فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور حتمی فیصلہ تب کرے گی جب حکمران جماعت تحریک انصاف میں کوئی ناراض دھڑا کھل کر سامنے آنے کا اعلان کرے گا۔ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کی پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کسی بھی بڑی سرگرمی سے اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کی پوزیشن مزید مضبوط اور قومی اور صوبائی اسمبلی میں اس کی اہمیت بڑھے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جاتی ہے تو حکومت اپنے 4 میں سے 2 اتحادیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوگی، جن میں مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک لائنز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ہنگو سے تعلق رکھنے والے حکومتی ایم این اے خیال زمان اورکزئی کے انتقال کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین کی تعداد مزید کم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں رہتے ہوئے پی ایم ایل (ق) واحد اتحادی جماعت ہے جو 10 ووٹوں سے اپنے سینئر شراکتدار عمران خان کی تحریک حکومت بچا سکتی ہے، پی ٹی آئی کو پنجاب اسمبلی میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف 4 ووٹ درکار ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدلتے سیاسی منظر نامے کے پیش نظر مسلم لیگ (ق) نےحالات پر نظر رکھی ہوئی ہے جبکہ ہفتہ وار بنیادوں پر اس سے متعلق جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری جنرل کامل علی آغا پہلے ہی یہ بیان داغ چکے ہیں کہ وہ عمران خان کے اتحادی نہیں ہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی ہیں اور اپنا فیصلہ آخری لمحوں میں کریں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جہانگیر خان ترین کے ساتھ ملاقات کے بعد اب عمران خان کی اتحادی جماعتیں انتظار میں ہیں کے کب حکمران جماعت میں دراڑ پڑتی ہے اور کوئی فارورڈ بلاک سامنے آتا ہے۔

ٹی ٹی پی سے مذاکرات بحال کرنے کیلئے 40 طالبان جنگجو رہا

اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی تحریک انصاف کا ناراض گروپ سامنے آئے گا کپتان کی چاروں اتحادی جماعتیں ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گی۔ دوسری جانب حکومتی جماعت تحریک انصاف کی قیادت کو یقین ہے کہ جہانگیر خان ترین اکنے سابقہ دوست عمران خان کے خلاف نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی اگر کسی پی ٹی آئی رکن نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دیا تو اس پر فلور کراسنگ کی شق کا اطلاق ہوجائے گا اور وہ اپنی اسمبلی نشست سے محروم ہو جائے گا۔ متعلقہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے لیے ووٹنگ میں پارٹی لائن سے کوئی انحراف، تمام منحرف افراد کی نااہلی کا باعث بنے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اب تک کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام رہی ہیں اور اسی لیے ابھی تک تحریک داخل نہیں کی گئی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ساتھیوں کو چاروں اتحادی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ رابطوں کی ہدایت کر دی ہے۔ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کاؤنٹر کرنے کے حوالے سے بنائی گئی سٹریٹیجی کے مطابق وزیراعظم عمران خان ایک پارٹی وفد کے ساتھ چاروں جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

جہانگیر ترین سے قریبی تعلق رکھنے والے کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ترین کے ساتھ ملاقاتیں کریں اور انہیں کوئی مس ایڈونچر کرنے سے روکیں۔ دوسری جانب قاف لیگ کے صدر چوہدری شجاعت کی زیر قیادت پی ایم ایل (ق) کی اعلیٰ قیادت کا ایک اور اجلاس ہوا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کو اتحادی جماعتوں کی جانب سے دی گئی تجاویز کو سنجیدہ لینا چاہیے، کیونکہ عوام کے مسائل کے حل میں تاخیر سے حکمران جماعت کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کے منتخب اراکین اپنے حلقوں کے ووٹرز کو جوابدہ ہیں لہذا عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور انہیں ریلیف فراہم کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایم ایل (ق) کی قیادت مہنگائی کو روکنے میں ناکامی اور توانائی اور پیٹرولیم کی قیمت میں ہونے والے حالیہ اضافے پر پی ٹی آئی کی حکومت سے ناراض ہے۔مسلم لیگ (ق) کے ایک اور رہنما نے دعوٰی کیا کہ اجلاس میں پارٹی کی رائے تھی کہ تمام راستے کھلے رکھنے چاہیے اور حکمران جماعت کے علاوہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہونا چاہیے۔

مسلم لیگ (ق) کے اجلاس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی پر اعتماد کا اعادہ کرتے ہوئےانہیں پارٹی سطح کے فیصلے کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا۔ پرویز الٰہی نے اپوزیشن شہباز شریف شریف سمیت آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقاتوں کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا ہے۔ قاف لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت اپنا حتمی لائحہ عمل تحریک عدم اعتماد داخل ہو جانے کے بعد طے کرے گی۔

Back to top button