آئی ایم ایف کے بعد اورنگزیب پاکستانی عوام کا ولن کیسے بنا ؟

آئی ایم ایف کے بعد اورنگزیب پاکستانی عوام کا ولن کیسے بنا ؟سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ شہباز شریف حکومت کے ٹیکسوں سے بھرے بجٹ کے بعد چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی روز مرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں جس سے تنخواہ دار طبقے کا کچومر نکل گیا ہے، اس بجٹ نے میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والوں کے علاوہ روز کی روٹی روز کمانے والے دیہاڑی دار کا جینا بھی دو بھر کر دیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت نہایت ڈھٹائی سے دعویٰ کر رہی ہے کہ ائی ایم ایف کا بنایا ہوا اور اورنگزیب صاحب کا پیش کردہ بجٹ وطن اور عوام دوست ہے۔ تاہم مہنگائی سے تنگ عوام کا موقف ہے کہ اورنگزیب کا پیش کردہ بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ عوام کش ہے۔
اپنے تازہ تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کو سیدھا کرنے کے لیے بڑے اور بھاری ٹیکس لگانے ضروری تھے۔ حکومت کا موقف ہے کہ مہنگائی کی شرح کو قابل برداشت بناتے ہوئے یہ بجٹ ملکی معیشت کو بتدریج بحران سے نکال کر پہلے استحکام اور پھر خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر دے گا۔ لیکن اچھے دنوں کی آمد کے جو دعوے ہورہے ہیں ان کی حقیقت ایک جماعت تھوڑی تحقیق کے بعد بے نقاب کر سکتی تھی۔ و ہ عوام کے ووٹوں سے براہ راست منتخب ہوئی قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اسے سنی اتحاد کونسل میں مدغم ہونے کے باوجود خواتین اور اقلیتوں کے لئے مختص نشستیں نصیب نہ ہوئیں۔ ان کے حصول کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوا۔ اعلیٰ ترین عدالت اس جماعت کی فریاد پر غور کرتے ہوئے مختلف دھڑوں میں تقسیم نظر آئی۔ فل کورٹ کے بنچ پر بیٹھے عزت مآب ججوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں ملکی سیاست کو مفلوج بنادینے کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن کی جانب منتقل کرتے سنائی دیے۔ 8 فروری 2024ء کے روز ہوئے انتخاب کئی اعتبار سے اب بے حد مشکوک نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا امریکی ایوان نمائندگان سے ریکارڈ بناتی اکثریت کے ساتھ ایک قرارداد بھی منظور ہوگئی۔ مذکورہ قرارداد نے 8 فروری 2024ء کے دن ہوئے انتخاب پر مزید سوالات اٹھا دیے۔
پی ٹی آئی قیادت کا فواد چودھری سے رابطہ،تنقید نہ کرنیکی درخواست
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے علاوہ دنیا کی واحد سپر پاور کہلاتے ملک کی منتخب پارلیمان سے 2024ء کے انتخاب کے بارے میں جو سوالات اٹھے انہوں نے پاکستان کی پارلیمان کو اخلاقی اعتبار سے کمزور تر بنادیا ہے۔ بد قسمتی سے قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں پر بیٹھی مسلم لیگ (نون) نے اس اہم ترین پہلو پر توجہ ہی نہیں دی۔ اس نے اپنی ساکھ کے خلاف اٹھی آوازوں کو ڈھٹائی سے نظرانداز کرتے ہوئے ریکارڈ ساز عجلت سے اپنا پیش کردہ بجٹ منظور کروانے پر توجہ مرکوز رکھی۔ 2024ء کے انتخابی عمل پر اٹھائے سوالات کے باوجود ان دنوں سنی اتحاد کونسل کہلاتی تحریک انصاف ہر حوالے سے موجودہ قومی اسمبلی میں واحد اکثریتی جماعت ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہوتے ہوئے اس کا فرض تھا کہ ایوان میں اپنی عددی قوت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے حکومت کے پیش کردہ بجٹ کے عوام دشمن پہلو عوام کے روبرو بے نقاب کرتی۔
لیکن بقول نصرت جاوید تحریک انصاف کی حمایت سے قومی اسمبلی تک پہنچے ہر رکن کو ان دنوں فقط عمران خان کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنا مقصود ہے۔ وہ بجٹ پر توجہ دینے کے بجائے ”قیدی نمبر 804“ کی تصاویر ایوان میں لہراتے ہوئے ان کی رہائی کے لئے ڈیسک بجاتے دہائی مچاتے رہے۔ نعرہ بازی سے ان کے گلے خشک ہو جاتے تو ایوان سے واک آﺅٹ کا اعلان کر دیتے۔ ان کے ایوان سے نکل جانے کے بعد حکومت کو سرعت سے بجٹ منظور کروانے کے لئے مطلوب مراحل سے گزرنا مزید آسان ہو جاتا۔ اپوزیشن جماعتوں کی بجٹ سیشن کے حوالے سے اپنائی ناقص حکمت عملی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر خزانہ نے ”سپر ٹیکس“ کے عنوان سے ہنر مند تنخواہ داروں پر ایک اور ٹیکس کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ اب سو طرح کے جتن کے بعد غیر ملکی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان تنخواہ داروں پر عائد کردہ ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد پاکستان میں کاروبار بڑھانے والے کسی ادارے کو اپنا ہنر پیش کرنے سے گریز کرے گا۔ ایسے اداروں کیلئے پہلے سے کام کرنے والے بھی دیگر ممالک منتقل ہونے کو ترجیح دیں گے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ روایتی اشرافیہ اور مختلف کاروباروں کے اجارہ دار سیٹھوں کے ناز ہی اٹھاتے رہے۔ بذاتِ خود ایک باصلاحیت اور غیر ملکی تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ بینکار ہوتے ہوئے اورنگزیب صاحب نے ماضی کی پالیسیوں کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ انہیں عام شہریوں، دیہاڑی داروں اور تن خواہ داروں کے لئے بلکہ مزید سفاک بنا دیا ہے۔ کاش ”قیدی نمبر 804“ کی رہائی پر توجہ مرکوز رکھتے تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان اپنی عددی قوت کو وزیر خزانہ کے دل میں تھوڑی ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے کے لئے بروئے کار لا سکتے۔
