پاکستان نے ایران سے سعودی سفارتکار کے 3 قاتل مانگ لیے

پاکستانی حکام نے کراچی میں ایک سعودی سفارت کار کے قتل میں ملوث سپاہ محمد سے تعلق رکھنے والے تین ملزموں کی گرفتاری کے لیے ایرانی حکومت سے مدد مانگ لی ہے۔ تینوں ملزمان مئی 2011 میں قتل کے فوری بعد ایران فرار ہو گئے تھے اور اب تک انکے پاکستان واپس آنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ ان تین قاتلوں میں سے ایک، رضا امام، پاکستان ایئر فورس کا سابقہ ملازم ہے جو کہ کراچی کی مسرور ائیر بیس پر تعینات رہا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں سعودی قونصلیٹ کے ایک سفارتکار حسن القحطانی کو 2011 میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں چار موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔باخبر ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے سعودی عرب کے مسلسل دباؤ کے بعد اب قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے کیونکہ اس سے پہلے ہونے والی کوششیں ناکام رہی تھیں۔ پاکستانی حکام نے ایرانی حکام کو بتایا ہے کہ قتل کے تین ملزمان علی مستحسان، رضا امام اور سید وقار احمد پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے سینئر پولیس آفیسر شاہد حامد کے مطابق علی مستحسن اور وقار احمد کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے سے رضا امام کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

سندھ پولیس کو مطلوب دہشت گردوں کی لسٹ کے مطابق رضا امام، عرف منظر، کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام ہے جس کو دو کیسز میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ رضا امام کالعدم تنظیم سپاہ محمد پاکستان کا رکن ہے۔ ملزم علی مستحسن عرف سید وسیم احسن نقوی کا تعلق بھی اسی تنظیم سے ہے۔

خیال رہے کہ سعودی سفارت کار حسن القحطانی کو 16 مئی 2011 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز چھ میں درخشاں تھانے کی حدود میں چسر موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ انہیں تب نشانہ بنایا گیا جب وہ گاڑی پر خیابان شہباز کے قریب واقع اپنی رہائش گاہ سے باہر نکل رہے تھے۔ اب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سندھ نے ایرانی حکام سے سعودی سفارت کار کے قتل میں مطلوب تینوں ملزمان کو تلاش کرکے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے ایک افسر نے بتایا کہ سعودی سفارت کار کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور تینوں مطلوب ملزمان علی مستحسن، رضا امام اور سید وقار احمد کی تصاویر اور ان کے قواعد ایرانی حکام کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کے افسر نے کہا کہ تینوں ملزمان قتل کے بعد ایران فرار ہوگئے تھے جس کے بعد ان کی سفری تفصیلات میں پاکستان واپس آنے کے کوئی شواہد نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں ملزمان ایران میں ہی موجود ہیں۔ ان ملزمان کے اہل خانہ کی پاکستان سے ایران آنے جانے کی سفری معلومات بھی مل گئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ملزمان سے ملاقات کے لیے ایران گئے تھے۔

ترکی میں شدید برفانی طوفان سے نظام زندگی مفلوج

سی ٹی ڈی افسر کے مطابق علی مستحسن اور رضا امام کے ریڈ وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ شناختی کارڈ موجود نہ ہونے کے باعث سید وقار احمد کا ریڈ وارنٹ ابھی تک جاری نہیں ہوسکا۔ ریڈ وارنٹس کی معلومات کے مطابق علی مسحتسن کی گرفتاری پر پانچ لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔ اسکی عمر 40 سال ہے۔ قد درمیانہ، رنگ گندمی جبکہ اسکے بالوں کا رنگ سیاہ ہے ۔

ریڈ وارنٹ کے مطابق علی مستحسن انتہا پسند جماعت سپاہ محمد پاکستان کا رکن ہے اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی مختلف واردات میں ملوث ہے۔ وہ کراچی کے تھانے شاہ فیصل کالونی اور گلشن اقبال میں دو اعر کیسز میں بھی مطلوب ہے۔ دوسری جانب رضا امام عرف رضا امام عرف منظر ولد جعفر علی نقوی کے ریڈ وارنٹ کے مطابق اس کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام مقرر ہے۔

اسکی عمر 55 سال، تعلیم گریجویٹ، اور تکیہ کلام ’جی، جی‘ ہے۔ ریڈ وارنٹ کے مطابق رضا امام بھی سپاہ محمد کا سرگرم کارکن ہے اور واردات کے بعد ایران چلے گیا تھا۔ وہ شاہ فیصل کالونی کے ایک عالم دین کے قتل کیس میں بھی مطلوب ہے۔ ریڈ وارنٹ کے مطابق رضا امام پاکستان ایئر فورس کی مسرور بیس میں ملازم تھا اور اس وقت ایران میں موجود ہے۔

پاکستان ایئر فورس کے ترجمان پروفیسر قیصر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’رضا امام پر اے ایف کا سابق ملازم تھا لہٰذا وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ سندھ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پوری امید ہے کہ ایرانی حکام سپاہ محمد سے وابستہ تینوں دہشتگردوں کی گرفتاری میں ان کی بھرپور مدد کریں گے۔

Back to top button