کیا اب جرنیلوں کی جب الوطنی کا فیصلہ بھی عمران کرے گا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کے تازہ بیان نے ایک ایسے وقت نئے آرمی چیف کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں جب کوئی نہیں جانتا کہ نیا چیف کون ہو گا۔ لیکن عمران خان نے ایک بات طے کر دی ہے کہ جو جرنیل انکی خواہشات پر عمل کرے اور جسے وہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دیں وہی ’’محب وطن‘‘ ہو گا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ دیگر جرنیل کیا ملک دشمن قرار پائیں گے، عمران خان کو اس حوالے سے وضاحت کرنا ہو گی۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان نئے آرمی چیف سے توقع کرتے ہیں کہ وہ نواز شریف اور آصف زرداری کا احتساب کرے جبکہ آئین اور قانون کے تحت آرمی چیف کا ایسا کوئی کردار نہیں اور وہ گریڈ 22 کا ایک سرکاری ملازم ہے۔
انصارکہتے ہیں کہ چند روز قبل عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ اگر انہیں مزید دیوار کے ساتھ لگایا گیا تو وہ زخمی شیر بن کر اور بھی خطرناک ہو جائیں گے، لیکن اب آرمی چیف کی تقرری بارے ان کے تازہ بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ خان صاحب اصل میں شتر بے مہار ہو کر وہ خطرناک جنگلی بھینسا بن چکے ہیں جو پوری چائنا شاپ ہی تباہ کر دیتا ہے۔ آرمی چیف کے تقرر بارے اپنے بیان سے عمران نے مستقبل کے آرمی چیف کو متنازع بنانے کی جو کوشش کی ہے وہ ایسے وقت میں کی گئی ہے جب کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اگلا چیف کون ہوگا اس لئے جو بھی آرمی چیف آئے گا وہ متنازعہ ہی قرار پائے گا۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران کی بوکھلاہٹ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور نہیں معلوم کہ وہ حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے کس آئین اور قانون کے تحت نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ موصوف کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ وہ خطرناک ہو چکے ہیں۔ ایسے میں جو حرکتیں خان صاحب اور ان کے پارٹی رہنمائوں نے کرنا شروع کر دی ہیں اس سے پاکستان اور اس کے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔ شہباز گل کے فوج مخالف بیان سے لیکر آئی ایم آیف کی ڈیل کو ناکام بنانے کی شوکت ترین کی سازش تک اور اب عمران خان کے آرمی چیف کے تقرر کے متعلق نئے بیان تک، پی ٹی آئی کی طرف سے ایسے اقدامات و بیانات دیے جا رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران اور ان کی پارٹی کے لیڈر بوکھلائے ہوئے ہیں اور الیکشن کے مطالبے میں ایسی حدوں کو چھونے لگے ہیں جس میں اخلاق نام کی چیز نہیں، اور انہیں نہ تو ریاستی اداروں کا خیال ہے اور نہ ہی ملک کا۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کو اظہار کی آزادی کا چیمپئن سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اوقات ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو رعایت دیتے ہیں جو آزادی کی حدود سے باہر جاتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی عمران کے بیان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ زرداری اور نواز شریف نومبر میں اپنی پسند کا جرنیل بطور آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے اس بیان پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’’گیم آف تھرونز‘‘ کیلئے ہر چیز دائو پرلگا دی گئی ہے۔ انہوں نے مسلح افواج کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمارے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران عدالتوں سے ریلیف کی توقع نہ کریں۔ جج نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنے ایسے بیانات کے ذریعے پاک فوج کا مورال کم کرنا چاہتے ہیں۔ پیر کو صدر عارف علوی نے بھی عمران کے بیان پر ناراضی کا اظہار کیا کہ عمران خان اپنے بیان کی وضاحت خود کریں۔
انصار عباسی کے مطابق عمران خان کا بیان مستقبل کے آرمی چیف پر دبائو ڈالنے اور فوج کو سیاست زدہ بنانے کی کوشش ہے کیونکہ وہ اُن سے اپنے سیاسی مفادات کیلئے مکمل حمایت چاہتے ہیں۔ لیکن اگر نئے آرمی چیف نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا اور موجودہ حکومت کے احکامات پر عمل کیا تو عمران نئی فوجی قیادت پر بھی تنقید کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران نئے آرمی چیف سے توقع کرتے ہیں کہ وہ نواز شریف اور زرداری کا احتساب کرے جبکہ آئین اور قانون کے تحت آرمی چیف کا ایسا کوئی کردار نہیں۔ وزیر اعظم آفس سے نکال باہر کیے جانے کے بعد سے عمران کا مرکزی ہدف ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ رہی ہے جس پر وہ اپنی حکومت ہٹانے کی امریکی سازش کا حصہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اپنے چیف آف اسٹاف شہباز گل کے بیان کے بعد عمران کے تازہ ترین بیان کو فوج کی ریڈ لائن کراس کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بار بار ریڈ لائن کراس کرنے والے عمران خان کو زبانی کلامی تنبیہ ہی جاری کرتی رہے گی یا انہیں روکنے کے لیے کوئی عملی قدم بھی اٹھائے گی؟
