کیا آڈیو لیکس کی بنیاد پر کسی کیخلاف کارروائی ممکن ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سےبججوں کی آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیشن نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، لیکن اس حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال کہ آیا بظاہر غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ شواہد کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کے تشکیل کردہ کمیشن، جس کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں جبکہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اس کے ارکان میں شامل ہیں۔کمیشن 30 روز میں مقرر کردہ ٹی او آرز کے تحت تحقیقات مکمل کر کے سفارشات پیش کرے گا، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آئندہ کیا قانونی لائحۂ عمل اختیار کیا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ پاکستانی قوانین کے تحت کسی کی فون ریکارڈنگ صرف عدالتی حکم کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت ’اگر کوئی مجاز افسر متعلقہ عدالت کے سامنے مناسب وجوہات پیش کرے کہ ریکارڈنگ کسی مجرمانہ تحقیقات کی تفتیش کے لیے ہو رہی ہے، تبھی عدالت ایسی ریکارڈنگ کی اجازت دے سکتی ہے۔‘ اس کی مدت بھی مقرر کی گئی ہے اور عام حالات میں یہ مدت سات دن ہے۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا واقعی انکوائری کمیشن مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ آڈیو لیکس کی بنیاد پر کوئی کارروائی کر سکتا ہے؟پیر کو انکوائری کمیشن کی پہلی کارروائی کے دوران کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’کمیشن بذریعہ اشتہار عوام سے بھی معلومات فراہم کرنے کا کہے گا، لیکن معلومات فراہم کرنے والے کو شناخت ظاہر کرنا لازمی ہو گی۔ نامعلوم ذرائع سے آنے والی معلومات قابل قبول نہیں ہوں گی۔‘بظاہر یہ مانگی گئی معلومات ان آڈیو لیکس کے علاوہ ہیں، جن کی تحقیقات کے لیے یہ کمیشن ترتیب دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں ایک قانونی اصول نافذ ہے جسے exclusionary rule کہا جاتا ہے۔ امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی کے لیگل انفارمیشن انسٹی ٹیوٹ کی تعریف کے مطابق اس اصول کا مقصد حکومتوں کو آئین کے خلاف لوگوں کے خلاف شواہد اکٹھے کرنے سے روکنا ہے۔سادہ الفاظ میں یہ اصول یہ ہے کہ اگر کسی ملزم کے خلاف کوئی بھی شہادت کسی ایسے طریقے سے حاصل کی گئی ہو، جو آئین و قانون کے خلاف ہو تو اس کی بنیاد پر ملزم کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔سپریم کورٹ نے بھی ’اصولِ استثنا‘ کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ 1998 میں ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھا کہ ’اصولِ استثنا‘ منصفانہ سماعت کا اہم حصہ ہے۔‘ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی لکھا کہ ’یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہے۔
معروف قانون دان اور ماہرِ آئین اور قائداعظم یونیورسٹی میں شعبۂ قانون کے سربراہ ڈاکٹر عزیز الرحمٰن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ غیرقانونی ذرائع سے حاصل کردہ شواہد کو عدالت میں بطور ثبوت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’البتہ یہ صرف ایک فیکٹ فائنڈنگ یا تحقیقاتی کمیشن ہے، عدالت نہیں ہے۔ یہ کمیشن صرف سفارشات مرتب کرے گا جن کی بنیاد پر ممکنہ طور پر آگے چل کر کسی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ جب بھی ایسا ہوا، تو اس عدالت کے سامنے ضرور یہ سوال آئے گا کہ یہ شواہد کس نے اکٹھے کیے ہیں اور کیسے اکٹھے کیے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ نامعلوم اور گمنام ذرائع سے حاصل کردہ شواہد پاکستانی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں ہوتے کیونکہ بنیادی شرط یہی ہوتی ہے کہ ایسے ذرائع پر جرح کی جا سکے، جو گمنام ذرائع کے کیس میں ممکن نہیں ہے۔‘
دوسری جانب صحافی کامران یوسف کا کہنا ہے کہ ملک میں آڈیوز ریکارڈ کون کرتا ہے اور ان کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ان نکات پر بھی جوڈیشل کمیشن کو تحقیقات کرنی چاہئیں۔ حکومت بہت محتاظ انداز میں کھیل رہی ہے اور وہ اس طرف نہیں جانا چاہ رہی جو ہمارے ملک کی اصل ریڈ لائن ہے۔تاہم آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن محض حقائق اکٹھے کرے گا اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پہ فیصلہ ہوگا کہ کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس کمیشن سے موجودہ سیاسی تنازعہ حل کی طرف نہیں جا رہا بلکہ صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
آڈیو لیکس بارے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل بارے رپورٹر حسن ایوب کا کہنا ہے کہ آڈیو لیکس کمیشن کے سامنے اگر کوئی مجرمانہ کارروائی آتی ہے تو پھر یہ معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کیا جائے گا۔ چیف جسٹس کے لئے اس معاملے کو اٹھانا اتنا آسان نہیں ہوگا لیکن وہ اس پہ نوٹس لے کر بنچ بنا بھی سکتے ہیں۔ تاہم کمیشن ان لوگوں کو بھاگنے نہیں دے گا وہ ان سب کو بلائے گا جن کی آڈیوز لیک ہوئی ہیں۔
دوسری جانب جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرقانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ٹیلیفون کالز کو ریکارڈ کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کابینہ برخاست اور اسمبلی بھی تحلیل کی جاسکتی ہے،جوڈیشل کمیشن کی تشکیل غیر اخلاقی اور غیرآئینی بھی ہے،چیف جسٹس کمیشن کو کالعدم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، حکومت کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے، کسی اعلیٰ عدالت کے جج کو اس میں نامزد کردینا اور کمیشن بنادینا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو کمیشن کے ٹی او آرز بنے ہیں جس پر انہیں تفتیش یا تحقیق کرنی ہے، یہ ٹی او آرز زیادہ تر چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے گرد منڈلاتے ہیں، اب تو directly ان کی ساس کی مبینہ بات چیت ہے ان کی ایک سہیلی سے، نجی گفتگوہے، یہ آڈیو لیکس یا یہ آڈیو ٹیپنگ اگر اس کو دیکھا جائے تو یہ خود غیرقانونی ہے، نہ صرف غیرقانونی ہے ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے کیس میں 1998ء ، 1997ء کی ججمنٹ ہے ویسے رپورٹ 1998ء میں ہوئی، اس میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا ہوا ہے کہ یہ وائر ٹیپنگ اور ٹیلیفون کالز کو ریکارڈ کرنا اتنا بڑا جرم ہے اس اکیلے چارج میں کابینہ بھی برخاست کی جاسکتی ہے اور اسمبلی بھی تحلیل کی جاسکتی ہے۔
