نئےصوبوں پرریفرنڈم کافیصلہ پارلیمنٹ کرےگی،راناثنااللہ

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے بین الصوبائی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کا فیصلہ وزیراعظم نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔
راناثنااللہ کانجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ نئےصوبوں پراگر پارلیمنٹ عوام سے رائے لینے کا فیصلہ کرتی ہے اور عوام نئے صوبوں کے حق میں رائے دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کو عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ ریفرنڈم عوام کی رائے معلوم کرنے کا راستہ ہے، تاہم ریفرنڈم کا فیصلہ وزیراعظم نہیں کریں گے بلکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس یہ فیصلہ کرتا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوامی رائے لی جائے تو پھر عوام سے رائے لینی چاہیے اور اگر عوام نئے صوبوں کے حق میں اپنی رائے دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ عوام کی رائے کا احترام کرے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے طریقہ کار وہی ہے جو آئین میں درج ہے، پارلیمنٹ آئینی طریقہ کار اختیار کرے گی، اگر پارلیمنٹ کو اس طریقہ کار سے قبل عوام کی رائے لینی ہے تو لے لے اور پھر لوگوں کی رائے کی پاسداری کرے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے بحث کچھ اور دن چلے گی، اس کے بعد یہ بحث پارلیمنٹ میں جائے گی، چونکہ سینیٹ ہاؤس آف فیڈریشن ہے تو میرے خیال میں پہلے یہ بحث سینیٹ میں جائے گی۔
