پرویز الٰہی فوری الیکشن کا انعقاد ناممکن کیسے بنا گئے؟

پنجاب اسمبلی تحلیل کیے جانے کے باوجود قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوے روز کے اندر صوبے میں نئے انتخابات کا انعقاد ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں پانچ نئے اضلاع اور 10 نئی تحصیلیں تشکیل دے ڈالیں جن میں نئی حلقہ بندی آئینی طور پر ضروری ہے اور یہ کام ڈیجیٹل رائے شماری کی بنیاد پر ہوتا ہے جو ابھی ہونا باقی ہے۔ یعنی ابھی مردم شماری بھی شروع نہیں ہوئی جس کے بغیر حلقہ بندیاں ہونا ممکن نہیں۔ اسکےعلاوہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنی حکومت نے نئے قومی مالیاتی ایوارڈ میں یہ طے کر دیا تھا کہ نئے انتخابات نئی مردم شماری اور حلقہ بندیاں کروائے بغیر پرانی مردم شماری کی بنیاد پر نہیں کروائے جائیں گے۔ لہذا الیکشن کمیشن 90 دن میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کروانے کی بجائے چند ماہ کی تاخیر کر سکتا ہے جس کا اسے قانونی اختیار بھی حاصل ہے۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اس معاملے پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پنجاب میں 90 روز کے اندر انتخابات کا انعقاد ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ابھی رائے شماری اور حلقہ بندیوں کا عمل ہونا باقی ہے جو کہ ایک آئینی ضرورت ہے۔ دوسری جانب سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئین میں نئی حلقہ بندیاں اور مردم شماری انتخابات سے قبل کرانا ضروری ہیں مگر آئین میں اس حوالے سے عمومی طور پرپابند کیا گیا ہے۔ انکے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات کروانے کی شرط مخصوص کی گئی ہے لہذا الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں اور مردم شماری کے تحت بننے والی فہرستوں پر انتخابات کرانے کا پابند ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ابھی حتمی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ موجودہ حالات میں فوری ایک اسمبلی کا الیکشن مقررہ مدت میں ہونا یقینی نہیں لگتا۔
انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے بتایا کہ الیکشن کمیشن بااختیار ادارہ ہے اور اگر چاہے تو کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی طرح جب چاہے الیکشن کرا سکتا ہے۔ مگر موجودہ حالات میں ایک صوبے کے جنرل الیکشن سے پہلے انتخاب کرانے سے نئی روایت پڑ جائے گی اور قومی اسمبلی کے لیے دو تین صوبوں کے الگ اور ایک صوبہ کے الگ الیکشن کرانا پڑیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی مقررہ وقت پرانتخابات کرانے میں خود سرنگیں کھود کر رکاوٹیں کھڑی کر گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی نے صوبے میں پانچ نئے اضلاع اور 10 تحصیلیں بنا دی ہیں۔ اب وہاں حلقہ بندیاں لازمی ہیں اسکے بغیر آئینی طور پر فوری الیکشن کا انعقاد ممکن ہی نہیں۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ’ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے ٹیچرز کی تربیت جاری ہے اور ابھی اس پر کام شروع ہی نہیں ہوا۔ اس کام کے لیے تین ماہ تک کا وقت درکار ہوگا۔ لیکن نئی مردم شماری کے بغیر بھی 90 دن کے اندر پنجاب اسمبلی کے الیکشن منعقد کروانا ممکن نہیں ہے۔
لیکن اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آئین میں اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 دن کے اندر اندر الیکشن کروانا ضروری ہے۔ آئین پاکستان میں اس بارے واضح اور مخصوص شرط رکھی گئی ہے۔ اس مدت میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اگر الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ نئے اضلاع میں حلقہ بندیاں ضروری ہیں اور مردم شماری بھی لازمی ہے تو اس بارے میں بھی آئین میں شرط موجود ہے، مگر یہ شرط لازمی نہیں بلکہ عمومی ہے، یعنی اگر الیکشن کمیشن انتظامی طور پر بننے والے اضلاع میں نئی حلقہ بندیوں کی بجائے پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن کرائے تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اسی طرح مردم شماری کے پہلے سے موجود نتائج پر بھی انتخاب ہوسکتا ہے۔ فواد کے مطابق الیکشن کمیشن کو نیا تنازع کھڑا کرنے کی بجائے مقررہ وقت پر پنجاب میں انتخاب کرانا ہوں گے جس طرح ایم کیو ایم کے تحفظات کے باوجود سندھ میں کرائے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ2017 میں ہونے والی چھٹی قومی مردم شماری کے عبوری نتائج تین جنوری 2018 کو شائع کیے گئے تھے اور اسی کے مطابق الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حد بندی کی تھی، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے عام انتخابات 2018 کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 (5) کے تحت ایک مرتبہ کا استثنیٰ فراہم کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 51 (5) اور الیکشنز ایکٹ2017 کے سیکشن 17 کے تحت حلقہ بندیاں سرکاری طور پر شائع ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق آبادی کی بنیاد پر کی گئیں۔ آئین میں 25ویں ترمیم کے تحت سابقہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔ فاٹا کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کر دی گئی تھیں اور آبادی کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کو چھ نشستیں دی گئیں۔ اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 272 سے کم ہو کر 266 رہ گئی، اسی وجہ سے خیبر پختونخوا میں نئی حلقہ بندی لازمی تھی جو پاکستان کے ادارہ شماریات کی طرف سے مردم شماری کے سرکاری نتائج کی اشاعت نہ کرنے کی وجہ سے نہیں ہو سکی تھی۔ الیکشن کمیشن نے 11 اپریل کو اگلے عام انتخابات کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جہاں اس سے قبل ای سی پی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ تازہ ڈیجیٹل مردم شماری کا انتظار نہیں کرے گا۔ الیکشن کمیشن کے افسرنے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری تاحال شروع نہ ہونے کے پیش نظر نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر اگلے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ ساتویں مردم شماری اور خانہ شماری کے شیڈول پر نظرِ ثانی کی گئی ہے اور پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے فیلڈ آپریشن تاحال شروع نہیں ہوسکا۔ اس صورت حال کے پیش نظر عام انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں کرنا الیکشن کمیشن کے لیے مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس پنجاب اور آئندہ انتخابات موجودہ حلقہ بندیوں کی بنیاد پر کرانے کےعلاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ ان کے بقول مردم شماری کا حتمی نوٹیفکیشن چار ماہ کے اندر ختم ہونے والی اسمبلیوں کی مدت کے ساتھ جاری کیا جائے گا، جبکہ حلقہ بندیوں کے لیے الیکشن کمیشن کو چار سے چھ ماہ درکار ہوں گے۔
اسکے علاوہ آئین کے آرٹیکل 51 (5) اور الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 17 (2) کے تحت حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری کے شائع شدہ حتمی اعداد و شمار ضروری ہیں اور مردم شماری کے نتائج باضابطہ طور پر شائع ہونے کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شروع کرنے کا پابند ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت سے ساتویں مردم شماری اور خانہ شماری کے باضابطہ نتائج سال کے آخر تک شائع کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا، اصل شیڈول کے مطابق مردم شماری کا عمل یکم اگست 2022 سے شروع ہونا تھا۔ اس شیڈول کے مطابق نتائج 31 دسمبر تک اور حتمی نتائج فروری 2023 تک الیکشن کمیشن کے حوالے کیے جانے تھے۔ الیکشن کمیشن کو اس پر بھی تحفظات تھے اور وہ 31 دسمبر تک ابتدائی اعداد و شمار نہیں بلکہ حتمی نتائج چاہتے تھے۔ اسی طرح مردم شماری کے بلاک کوڈز کی تعداد میں اضافے یا کمی اور مختلف اضلاع میں بلاکس کی حدود میں تبدیلی کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کی بھی ضرورت ہوگی۔
الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 14 کے تحت ایک ایکشن پلان بھی عام انتخابات سے چار ماہ قبل تیار کرنا ضروری ہے جو ابھی تک تیار نہیں ہو پایا۔لیکن کنور دلشاد نے کہا: ’پنجاب میں مقررہ وقت پر انتخاب کسی کی خواہش یا مخالفت پر نہیں ہو سکتا بلکہ انتظامی اورآئینی صورت حال کے پیش نظر ہی ہوگا لہذا پنجاب میں 90 دن کے اندر الیکشن ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ انکا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنی حکومت نے نئے قومی مالیاتی ایوارڈ میں یہ طے کر دیا تھا کہ نئے انتخابات نئی مردم شماری اور حلقہ بندیاں کروائے بغیر پرانی مردم شماری کی بنیاد پر نہیں کروائے جائیں گے۔
