PDM کنفیوژن کا شکار،دوبارہ اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے

بلاول بھٹوکی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کا وفد بیگم نسیم ولی خان کے انتقال پر تعزیت کے لیے ولی باغ چارسدہ پہنچ گیا۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے حکومت اور پی ڈی ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نےولی باغ میں اے این پی راہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، تاہم خارجہ پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت غیرسنجیدہ ہے۔ نوجوان تاریخی بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں اور سب مسائل کا حل صاف اور شفاف الیکشن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت میرا پورا خاندان پاکستان میں رہ کر جدوجہد کررہا ہے، این آراو لینے کی ضرورت عمران خان اوراس کی حکومت کو ہے۔
پی ڈی ایم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ کے لیے وقت مقرر تھا، جب تک ایکشن پلان پرعمل نہیں ہوتا ہم پی ڈی ایم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پی ڈی ایم تقسیم کا شکار ہے اور ان کا وژن واضح نہیں ہے۔ کل کے اجلاس میں بھی کوئی وضاحت دیکھنے میں نہیں آئی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت اورآئین پر یقین رکھتے ہیں۔ اور پی ڈی ایم سے استعفیٰ آخری پوائنٹ تھا، ہم نے ایک ایکشن پلان دے کرعوام کے سامنے رکھ دیا تھا، استعفے کے بعد ہم نے دوبارہ پی ڈی ایم میں جانے کا نہیں سوچا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی اور اے این پی دونوں جماعتیں جمہوریت پسند اورعوامی پارٹیاں ہیں، ہم دونوں جماعتیں مل کر عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گی۔ اورہمارے کردار کو تاریخ میں لکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی سے ہمارا خاندانی، سیاسی اور نظریاتی رشتہ ہے، ولی باغ آتے ہیں توایسا لگتا ہے کہ جیسے اپنے ہی گھرآئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پی پی پی کا وفد بیگم نسیم ولی خان کے انتقال پر تعزیت کے لیے آج چار سدہ پہنچا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر خان ہوتی، میاں افتحار حسین اور ایمل ولی خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کا استقبال کیا، پی پی پی کے وفد میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نیئر بخار ی اورفرخت اللہ بابر بھی شامل ہیں۔

Back to top button