پرویز الٰہی نے شجاعت کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنا لیا

قاف لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے خلاف ان کے چچا زاد بھائی چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے ممکنہ بغاوت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پرویز الٰہی نے شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹا کر خود پارٹی صدر بننے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جسکے بعد شجاعت گروپ نے بھی ایسی کسی موو کو کاؤنٹر کرنے کا پلان تیار کرلیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پہلا حملہ کون کرتا ہے۔
اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں کس نے چھپا رکھا تھا؟
باخبر ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی گروپ کی جانب سے چوہدری شجاعت کو مخلوط حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی وارننگ دیدی گئی ہے جس پر عمل نہ ہوا تو ان کے خلاف بغاوت کرکے انہیں صدارت سے ہٹا دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی دھمکی کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں شجاعت سے اہم ترین ملاقات کی ہے اور انہیں ڈٹے رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ آصف زرداری نے شجاعت سے ملاقات کے بعد یہ یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ ہر صورت مخلوط اتحادی حکومت کا حصہ رہیں گے۔
13 جون کو آصف زرداری لاہور میں چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پہنچے اور ان سے گھنٹہ بھر ملاقات کی، اس موقع پر شجاعت کے بیٹے چوہدری سالک، چوہدری شافع اور پارٹی رہنما طارق بشیر چیمہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات ختم ہونے کے بعد جاری کردہ بیان میں پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ وفاق میں 9 جماعتوں کی حکومت مسلم لیگ (ق) کے شجاعت گروپ کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ بھی حکومت کی مکمل حمایت کرتے ہیں‘۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کے اراکین قومی اسمبلی سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کے صدر شجاعت حسین پاکستانی سیاست کا اثاثہ ہیں، اور ان کی جماعت ہمارے ساتھ اتحاد جاری رکھے گی۔ دونوں پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان یہ ایک ہفتے کے دوران دوسری ملاقات تھی، وزیر اعظم شہباز شریف اورجمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی گزشتہ ہفتے حکومت کے لیے حمایت کی تصدیق کے لیے چوہدری شجاعت سے ملاقات کی تھی۔ ایک پارٹی رہنما نے بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ نے اپنے کزن اور بھتیجے، پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے مشورے کے خلاف شریفوں سے ہاتھ ملانے کا انتخاب کیا تھا لیکن الٰہی گروپ کو پھر بھی یقین تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اعتماد کی شدید کمی کی وجہ سے کسی نازک موڑ پر چوہدری شجاعت اور گروپ کسی کے کہنے پر اتحاد کو ختم کر سکتے ہیں۔
چوہدری برادران کے درمیان اختلافات کے باوجود یہ اطلاعات تھیں کہ چوہدری شجاعت پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کا بہت احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ خاندان میں اتفاق رائے پیدا کریں۔ تاہم پرویز الٰہی کیمپ سابق وزیراعظم عمران خان کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹ رہا اور پنجاب اسمبلی میں مسلسل گند ڈال رہا ہے۔ معاملات سے با خبر ایک پارٹی لیڈر نے کہا کہ ’پرویز الٰہی، چوہدری شجاعت اور ان کے بیٹوں کو مخلوط حکومت سے نکالنے اور تحریک انصاف کے چیئرمین کی حمایت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چوہدری خاندان کے کچھ اراکین دونوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے دونوں کو ایک پیج پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملاقات کے بعد بات کرتے ہوئے سالک حسین نے کہا کہ آصف علی زرداری نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں اور طارق بشیر چیمہ کو وفاقی کابینہ کا حصہ بننے پر باضابطہ مبارکباد دی۔ اس سوال پر کہ کیا اتحادی رہنماؤں کے شکوک و شبہات آصف زرداری، شہباز شریف اور فضل الرحمٰن کو چوہدری شجاعت سے بار بار ملاقات کرنے پر مجبور کرتے ہیں، وفاقی وزیر سالک حسین نے کہا کہ ’ہم اتحاد کے ساتھ ہیں کیونکہ ہم نے اس کی تشکیل سے قبل اس کے ساتھ عہد کیا تھا، ہم اپنے وعدے پر قائم اور اتحاد کے ساتھ رہیں گے‘۔
چوہدریوں کے درمیان اختلافات کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایک خاندان کے طور پر ہم متحد ہیں، پرویز الٰہی نے بھی اتحاد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ یہ پارٹی کا متفقہ فیصلہ تھا لیکن بعد میں عمران خان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
