حکومت کا سپیکر پنجاب اسمبلی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن میں مطلوبہ سیٹیں جیت کر سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کو گھر بھیجا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ہوا جس میں بجٹ پیش کرنے کے حوالے سے گفتگو ہوئی جبکہ اپوزیشن
پہلی بار امریکی ڈالر 205 روپے کی حد بھی عبور کر گیا
کی جانب سے بجٹ روکنے کے امکان پر قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو آج بھی اسمبلی پیش نہیں کیا جائے گا۔
لیگی وزراء نے کہا کہ یہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر انہیں بے عزت کرنا چاہتے ہیں، ماڈل ٹاؤن کیس میں یہی کچھ ہوا تھا اب پولیس کا مورال ڈاؤن نہیں ہونے دینگے، فیصلہ کیا گیا کہ پرویز الہی کو ہٹایا جائے اور 17 جولائی کو ضمنی الیکشن جیت کر مطلوبہ ایم پی ایز پورے کرکے سپیکر کو گھر بھیج کر نیا سپیکر لایا جائے۔
ادھر اپوزیشن بھی آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب کو ایوان میں پیش کرنے اور معافی مانگنے کے مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہے۔گزشتہ روز پنجاب اسمبلی ایڈوائزری کمیٹی میں مسلم لیگ ن کے ارکان نے اپوزیشن کو یقین دہانی کرائی تھی کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بریفنگ کے لیے بلایا جائے گا۔ لیکن پھر پولیس اور بیوروکریسی کا مورال ڈاؤن ہونے سے بچانے کے لئے حکومت نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو نہ بلانے کا فیصلہ کیا۔
صورتحال اس لیے پیچیدہ ہے کہ مقررہ وقت میں اگر بجٹ پاس نہیں ہوتا تو آئندہ مالی سال حکومت کے لئے معاملات چلانا مشکل ہو جائے گا۔ قبل ازیں پنجاب حکومت نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی بجائے بجٹ منظوری کی حکمت عملی بنائی تھی جو بظاہر ناکام نظر آرہی ہے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ایک بجے چوہدری پرویز الہی کی صدارت میں ہونا ہے جس میں وزیر خزانہ سردار اویس لغاری آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کریں گے۔
