پنکی کو زہر دینے کا الزام، سستی شہرت حاصل کرنے کی ناکام کوشش

پچھلے کچھ ہفتوں سے ملک بھر کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر عمرانڈوز کی طرف سے بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کی بیماری کا خوب چرچہ کیا گیا۔ اس حوالے سے پراپیگنڈے کا آغاز تو سابق خاتون اوّل نے یہ الزام لگا کر کیا کہ جیل میں فراہم کہ جانے والی ان کی خوراک میں ہارپک کے تین قطرے ملائے گئے ہیں۔ بشری بی بی نے دعوی کیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ بشری بی کے مطابق ان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹوائلٹ کلینر ہارپک کے ذریعے ان کو سلو پوازننگ کی جارہی ہے۔ اس دعوے کے بعد عمران خان نے بھی میڈیا کو بیان دیا کہ اگر بشری بی بی کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ہوگی۔ عمران خان نے اس حوالے سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ڈائریکٹ مورد الزام ٹھہرایا اور ان پر الزامات کی بارش کر دی۔

 وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کے اس بیان کے بعد تو جیسے پورے میڈیا نے اس کو ایک سنجیدہ ٹاپک کے طور پر لیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ بشری بی بی اور عمران خان کے ذاتی معالج سابق مشیر صحت ڈاکٹر فیصل نے ان کا معائنہ کیا اور ان کی میڈیکل رپورٹس چیک کیں لیکن اس پروپیگنڈا کے برعکس بشری بی بی کے ذاتی معالج نے ان کو زہر دیے جانے کے امکان کو رد کردیا اور اس بات کی تردید کی کہ ان کو کوئی سلو پوائزننگ کی جارہی ہے۔

 ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈاکٹر فیصل کے اس تردیدی بیان کے بعد عمران خان، بشری بی بی اور ان کے سپورٹرز جھوٹے بیانات پر معافی مانگتے تھی لیکن الٹا اس پروپیگنڈا کو جاری رکھا گیا۔ تاہم عدالتی حکم پر ایک بار پھر ایک انڈیپنڈنٹ میڈیکل بورڈ کے معائنے اور بشری بی بی کے باقاعدہ میڈیکل ٹیسٹ کے نتائج کے بعد ایک بار پھر واضح ہوگیا کہ بشری بی بی کو کوئی زہر وغیرہ نہیں دیا گیا بلکہ ان کو گیسٹرو کا عارضہ لاحق ہے اور ڈاکٹرز نے ان کو کھانے میں پرہیز اور چکنی و مصالحہ دار چیزیں کھانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

 بشری بی بی کے ذاتی ڈاکٹرز اور انڈیپنڈنٹ میڈیکل پینل اور اس کی رپورٹس سے ایک بار پھر سابق خاتون اوّل کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تو نفی ہوگئی لیکن اس جھوٹے اور مہلک پروپیگنڈا پر کسی نے معافی نہیں مانگی اور نہ ہی عسکری قیادت پر عائد کردہ الزامات واپس لئے گئے ہیں۔ حالانکہ پی ٹی آئی کے سینئیر رہنماؤں اور خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت تک نے بشری بی بی کی بیماری کو ایک سنگین معاملہ قرار دیا تھا۔ کیا وہ صوبائی وزرا اور سینئیر پارٹی اراکین معافی مانگیں گے؟

 دوسری جانب مبصرین کے مطابق بشری بی بی کو زہر دیے جانے کے یہ الزامات تو جھوٹے ثابت ہوگئے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر پروپیگنڈا کیوں کیا گیا اور اس کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں؟ کیونکہ پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے ماضی مخالفین کی تو حقیقی بیماریوں کا مذاق تک اڑایا گیا اور اپنی جھوٹی بیماریوں پر اتنا واویلا کیوں؟ بات دراصل اتنی سی ہے کہ عمران خان میڈیا کو استعمال کرنا جانتا ہے اور ہر وقت میڈیا کی شہ سرخیوں میں کیسے رہا جاتا ہے اسکا فن بھی جانتا ہے۔ بشری بی بی کی بیماری کا بہانہ میڈیا پر ان کو اور ان کی جماعت کو بھرپور طور پر”ان” رکھنے کا طریقہ تھا جس میں عمران خان کامیاب رہا کیونکہ بشری بی بی کو زیر دینے کے حوالے سے دعوے اور الزامات سب میڈیا سٹنٹ اور پبلسٹی سے زیادہ کچھ نہیں۔

ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ پروپیگنڈا کیسے کرنا ہے، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کیسے ثابت کرنا ہے یہ پی ٹی آئی اور عمران خان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ کسی کی سچی بیماری کو جھوٹا بنانا ہو، وینٹی لیٹر پر پڑی اپنے آخری سانس لینے والی سابق خاتون اوّل کو سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کا ڈرامہ قرار دینا ہو، اسپتال میں زبردستی گھس کر یہ دیکھنا ہو کہ کہیں وہ ڈرامہ تو نہیں کررہیں۔ پی ٹی آئی نے ہر وہ کام کیا ہے کہ مہذب معاشرے میں ایک دشمن بھی ایسا نہیں سوچ سکتا۔ بالآخر بیگم کلثوم نواز کی وفات پر عمرانڈوز کو یقین آیا کہ وہ واقعی میں بیمار تھیں۔ یہ وہ تمام کام ہیں جو ماضی میں پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے اور بعض لیڈران نے فخریہ انداز میں کیا۔اور اس پر کبھی ندامت کا اظہار تک نہیں کیا۔اسی طرح سابق وزیراعظم نواز شریف دوران قید بیمار ہوئے تو عمران خان سے لیکر پی ٹی آئی کے ایک عام سپورٹر تک نے انھیں جیل سے باہر جانے کا ایک بہانہ قرار دیا۔ اس وقت کے وزیراعظم کو یقین نہیں تھا کہ آیا وہ واقعی بیمار ہیں یا نہیں اس معاملے کو کنفرم کرنے کے لیے عمران خان نے اپنی پسند کا میڈیکل پینل بھیجا تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ کہیں وہ ڈرامہ تو نہیں کررہا۔

ناقدین کے مطابق آج جب سابق خاتون اوّل بشری بی بی کی میڈیکل رپورٹ دیکھیں تو 2019 کا وہ دور یاد آگیا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری پر پی ٹی آئی کی طرف سے طرح طرح کا پروپیگنڈا کیا گیا تھا اور اس بیماری کو ڈرامہ قرار دیا گیا تھا۔ نواز شریف کو تشخیص کردہ پلیٹ لیٹس کم ہونے کی بیماری کو ایک مذاق بنایا گیا۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ انسانوں کے بنائے گئے نظام کیساتھ ساتھ قدرت کا اپنا بھی ایک نظام ہے۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا اور ہر بنی نوع انسان کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مکافات عمل ایک حقیقت ہے جیسا کروگے ویسا بھرو گے اور آج پنکی پیرنی اسی مکافات عمل کا شکار ہیں۔

Back to top button