پاکستان کے سیاسی بحران پر امریکہ بھی پریشان

پاکستان میں جاری سیاسی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں تو باہم دست و گریبان تھیں تاہم اب رہاستی اداروں میں بھی تقسیم کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار بارے پاکستان کے اندر سے تو آوازیں اٹھ ہی رہی تھیں تاہم ملکی سیاسی بحران پر واشنگٹن میں بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے، بھلے اتنی بھی نہیں جتنی بہت سے لوگوں کا خیال ہے، کیونکہ جوہری ہتھیار رکھنے والے کسی ملک کا کنٹرول سے باہر ہونا بہت سے لوگوں کے لیے خدشات کا سبب بنتا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ جو سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے اس وقت بھی ایک فاصلہ برقرار رکھے رہی جب وہ اقتدار میں تھے، ابھی تک اُس سیاسی تنازعے سے خود کو الگ رکھے ہوئے ہے جس نے عمران خان کو ملک کی ایک درجن سے زائد سیاسی جماعتوں اور طاقتور فوج کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

واشنگٹن میں جب بھی کسی سرکاری بریفنگ میں یہ معاملہ اٹھایا جاتا ہے، اس کے جواب میں دو نکات اہم ہوتے ہیں: اس لڑائی میں امریکہ کا کوئی چہیتا نہیں ہے اور یہ کہ امریکہ اس بحران کا حل پاکستان کے آئین کے تحت چاہتا ہے۔یہاں تک کہ عمران خان کے اس دعوے کی تردید میں بھی کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں بائیڈن انتظامیہ نے اہم کردار ادا کیا، واشنگٹن ایسے بیانات سے گریزکرتا ہے، جن سے لگے کہ ان کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

امریکی حکام عمران خان کے ان بیانات کا حوالہ دینے سے بھی احتراز ہی کیا ہے جس میں افغانستان میں حکمران طالبان کی حمایت کی جھلک ملتی ہے۔ حالانکہ امریکی میڈیا کبھی بھی عمران خان کی اس شدت پسند مسلم گروپ کے لیے ہمدردی کو منظر عام پر لانے میں پیچھے نہیں رہا۔ایک حالیہ بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے لوگوں پر اپنی مستقبل کی لیڈرشپ منتخب کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ویدانت پٹیل سے پاکستان میں جاری ’سیاسی افراتفری‘ اور پاکستانی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی طرف سے ایک ٹیلی وژن پروگرام کے دوران عمران خان کو جان کی دھمکی دینے پر ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس سوال کے پیچھے بظاہر عمران خان کی حمایت میں کچھ بولنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا مقصود تھی مگر پٹیل اس دام میں نہیں آئے۔ان کا جواب تھا، ’’سیاست میں تشدد، ہراسانی یا دھمکیاں دینے جیسے معاملات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم پاکستان میں تمام فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ قانون کی بالادستی کو عزت دیں اور پاکستان کے لوگوں کو اس بات کا موقع دیں کہ وہ جمہوری طور پر اور اپنے آئین اور قوانین کے مطابق اپنے ملک کی لیڈرشپ کا انتخاب کر سکیں۔‘‘یہ ایک بہت محتاط ردعمل تھا، جس میں پاکستانی حکومت اور تحریک انصاف دونوں کے لیے امکان چھوڑ دیا گیا کہ وہ اس بیان میں سے اپنی اپنی حمایت کا عنصر تلاش کر سکیں، ایسے کسی تاثر کے اظہار کے بغیر کہ امریکہ ان میں سے کسی ایک کا حمایتی ہے۔

’مگر دیگر تجزیہ کار اپنے خیالات کے اظہار میں زیادہ کھلے ہیں۔ امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے، جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ جو بائیڈن کے دور میں بھی افغان امن عمل میں بطور امریکی نمائندہ خصوصی خدمات انجام دے چکے ہیں، حال ہی میں اپنے ایک بیان میں پاکستانی سیاستدانوں کو یہ یاد دہانی کرا چکے ہیں کہ ان کا تنازعہ ان کے ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے اور یہ دیگر ممالک کے لیے بھی خدشات کا باعث ہے۔

اپنی ایک ٹویٹ میں خلیل زاد نے لکھا، ’’پاکستان کو تہرے بحران کا سامنا ہے: سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی۔ بہت زیادہ صلاحیتوں کے باوجود، یہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہا اور اپنے روایتی حریف بھارت سے پیھچے ہوتا جا رہا ہے۔ اب سنجیدہ غور وفکر، جرآت مندانہ سوچ اور حکمت عملی تیار کرنے کا وقت ہے۔‘‘

زلمے خلیل زاد نے صورتحال کے ہاتھوں سے نکل جانے سے بچنے کے لیے جولائی کے اوائل میں عام انتخابات کرانے کی تجویز دی تھی۔ پاکستانی سپریم کورٹ کی طرف سے 14 مئی کو انتخابات کرانے کے فیصلے پر بھی انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اس پر عمل کرے کیونکہ یہ ’میلٹ ڈاؤن‘ سے بچنے کے لیے پہلا اہم قدم ہے۔

پاکستان وزارت خارجہ نے خلیل زاد کے بیانات کا سختی سے جواب دیا اور زور دیا کہ وہ غیر مطلوب مشوروں سے گریز کریں۔ تاہم امریکی دفتر خارجہ نے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی سفارت کار کا بیان ان کی ذاتی حیثیت میں تھا اور یہ امریکی خارجہ پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔

بعض دیگر امریکی اسکالرز بھی خیل زاد کے خدشات کے حامی ہیں۔ واشنگٹن کے ولسن سنٹر سے تعلق رکھنے والے مائیکل کوگلمین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی ’سیاسی فضا اس قدر گرم ہو چکی ہے کہ اس کا معمول پر آنا مشکل ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ کھونا پڑے گا اور ممکن ہے کہ یہ زیادہ خوش کن نہ ہو۔‘‘

پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری خود بھی اس صورتحال پر اپنے ایک تازہ بیان میں خبردار کر چکے ہیں کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو اس کا نتیجہ مارشل لاء یا ایمرجنسی جیسی صورت میں نکل سکتا ہے۔

ایک سینیئر امریکی اسکالر اور پاکستان پر کئی ایک کتابوں کے مصنف ماروِن وائن باؤم اسی طرح کے خدشات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ ایک سیاسی ’’حکومت باضابطہ طور پر بغیر اعلان کیے یا سپریم کورٹ کی توثیق حاصل کیے ملک کے بدنام زمانہ نظریہ ضرورت کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صورتحال میں بہتری نہیں ہوتی تو فوج اقتدار سنبھال سکتی ہے۔

پاکستان میں امریکہ کے ایک سابق سفیر کیمرون منٹر نے ٹائمز میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے معاشی طور پر ’میلٹ ڈاؤن‘ یا دیوالیہ ہوجانے کے امکان کا ذکر کیا۔منٹر کے مطابق، ’’اگر وہ دیوالیہ ہوتے ہیں، تو وہ تیل نہیں خرید سکتے، کمپنیاں بند ہو جائیں گی، لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہو گا، آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک ’بولشیوک انقلاب‘ کے لیے تیار ہے۔‘

وزیراعظم ہاؤس میں مشکوک شخص داخل

Back to top button