اسرائیل سے ممکنہ معاہدہ دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے: شامی صدر

شامی صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ اسرائیل سے ممکنہ معاہدہ دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
شامی صدر احمد الشرع نے کہا کہ امید ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ممکنہ معاہدہ ایک جامع اور دیرپا امن کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کے حق سے دستبرداری کا باعث نہیں بنے گا، جن پر اسرائیل 1973ء سے غیرقانونی قبضہ کیے ہوئے ہے۔
احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ سے گریز کر رہا ہے اور ایک سکیورٹی انتظام وسیع تر اور جامع سیاسی حل کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔
شامی صدر نے واضح کیا کہ شام کا لبنان میں کسی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں، اگرچہ اس حوالے سے مختلف افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق شامی حکومت اس وقت لبنانی حکام کے ساتھ بحران کے حل اور ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان کے بعض علاقے اب بھی اسرائیلی قبضے میں ہیں، جہاں کئی ماہ تک حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ ان کے مطابق لبنانی حکومت ان علاقوں کی واپسی اور ملک میں اسلحے پر مکمل ریاستی اختیار قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شامی صدر نے زور دیا کہ ہتھیاروں کا اختیار اور جنگ و امن سے متعلق فیصلے صرف لبنانی ریاست کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے بحران کا حل صرف سکیورٹی اقدامات میں نہیں بلکہ ایک جامع منصوبے میں ہے، جو سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا احاطہ کرے۔
احمد الشرع نے خبردار کیا کہ اگر لبنان میں عدم استحکام پیدا ہوا تو اس کے براہِ راست اثرات شام پر بھی مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پورے خطے تک پھیلتی ہے تو اس کے نہایت سنگین علاقائی نتائج برآمد ہوں گے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ صرف امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ کافی نہیں ہوگا، جب تک شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے بھی خارج نہ کیا جائے۔
شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں پر کنٹرول رکھنے والی کرد قیادت کی شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے ساتھ ہونے والے داخلی معاہدے پر انہوں نے اعتراف کیا کہ اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی ہے، تاہم حکومت اس معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے اور اسے کامیاب بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
کیپٹن محمد سرور کے 78ویں یومِ شہادت پر وزیر اعظم، افواج کا خراج عقیدت
احمد الشرع نے یہ بھی اعلان کیا کہ شامی حکومت نے 2011ء سے 2024ء تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے کی تحقیقات اور معاونت کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ ان کے مطابق یہ کمیٹی بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کرے گی اور اس شعبے میں مہارت رکھنے والے ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔
